خبریں/تبصرے

لاہور لہو لہو: ٹی ایل پی اور پولیس میں جھڑپیں، 3 ہلاک، 69 زخمی

لاہور (نامہ نگار) صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنان اور پولیس کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور 69 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ پنجاب حکومت کے مطابق ٹی ایل پی کارکنان نے ڈی ایس پی نواں کوٹ عمر فاروق سمیت 12 پولیس و رینجرز اہلکاران کو اغوا کر لیا ہے، تاہم پولیس کے مطابق ڈی ایس پی کے ہمراہ 7 پولیس اور رینجرز اہلکاران کو اغوا کیا گیا ہے۔

اتوار کی صبح لاہور کی ملتان روڈ پر چوک یتیم خانہ کے مقام پر، جہاں ٹی ایل پی کا مرکزبھی ہے، پولیس اور ٹی ایل پی کارکنان کے درمیان یہ جھڑپیں صبح سویرے ہوئیں۔ پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کی گئی جبکہ ٹی ایل پی کارکنان کی جانب سے پٹرول بموں اور پتھراؤ کا استعمال کیا گیا۔ ریسکیو اداروں کے مطابق 2 درجن کے قریب زخمی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، دیگر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا۔ 11 پولیس اہلکاران بھی زیر علاج زخمیوں میں شامل ہیں۔

ٹی ایل پی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس نے پر امن دھرنے کے شرکا پر دھاوا بولا اور تصادم کے دوران ہی ڈی ایس پی پولیس کارکنان کے قبضے میں آئے۔

دوسری جانب پولیس کا دعویٰ ہے کہ ٹی ایل پی کے مشتعل ہجوم نے تھانہ نواں کوٹ پر حملہ کر کے ڈی ایس پی سمیت پولیس اہلکاران کو اغوا کیا، جبکہ دو اہلکاران کو اس وقت اغوا کر کے یرغمال بنایا گیا جب وہ قریبی تندور سے روٹیاں لے رہے تھے۔

ڈی ایس پی نواں کوٹ عمر فاروق بلوچ کا ایک ویڈیو پیغام بھی سامنے آیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ زخمی حالت میں ٹی ایل پی کے قبضے میں ہیں۔

ٹی ایل پی کارکنان نے دو پٹرول ٹینکرز بھی قبضہ میں لے رکھے ہیں جن مین کم از کم 55 ہزار لیٹر پٹرول کی موجودگی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

ٹی ایل پی کے رہنماؤں نے ہلاک شدہ کارکنان کی تدفین کرنے سے انکار کر دیا ہے اور فرانس کے سفیر کی ملک بدری تک لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

لاہور میں جھڑپوں کے بعد راولپنڈی اسلام آباد سمیت دیگر اہم شہروں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ شاہراہوں پر کنٹینر جمع کئے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ٹی ایل پی کی جانب سے فرانس کے سفیر کی ملک بدری کے مطالبے پر 20 اپریل کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دی گئی تھی۔ احتجاج سے چند روز قبل ہی ٹی ایل پی کے سربراہ کو گرفتار کئے جانے کے بعد ملک بھر میں احتجاجاً تمام مرکزی شاہراہیں بند کر دی گئی تھیں۔ اس دوران تشدد، جلاؤ گھیراؤ اورپولیس اہلکاران پر تشدد کے متعدد واقعات میں متعدد ہلاکتیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ حکومت نے ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیکر بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور تشدد کے ذریعے احتجاجی دھرنے ختم کروا دیئے تھے۔ تاہم لاہور میں ٹی ایل پی کے مرکز کے سامنے دیا گیا مرکزی دھرنا مسلسل جاری ہے۔

حکومت نے ٹی ایل پی کی قیادت کے علاوہ اس احتجاج کی حمایت کرنے والے مختلف گروہوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات قائم کر دیئے ہیں۔

سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل (ر) حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ گل کی تنظیم تحریک جوانان پاکستان سمیت پاکستانی ریاست کی حمایت یافتہ سمجھی جانیوالی مختلف تنظیموں کی جانب سے اس احتجاج کی حمایت کی جا رہی ہے۔

ریاستی اداروں کے اہلکاران کی جانب سے ویڈیوپیغامات کے ذریعے سے بھی اس احتجاج کی حمایت کے اعلانات سامنے آئے ہیں۔