پاکستان

’تھرڈ ورلڈ میں جمہوریت فوج کی مرضی سے چلتی ہے‘

فاروق طارق

آج کل ایم کیو ایم کے دونوں دھڑے ایک دوسرے کو اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ قرار دے رہے ہیں۔ تین دن قبل ہی حامد میر نے جنگ اخبار میں اسی سوال پر ’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘ کے عنوان سے اپنے کالم ’قلم کمان‘ میں لکھا ہے کہ ’اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت برا عمل ہے۔ اسکے برے نتائج پیدا ہوتے ہیں ہم سب کو جو بھی کرنا ہے آئین کے اندر رہ کر کرناہے‘۔ حامد میر نے یہ درست نتیجہ اخذ کیا ہے۔

کچھ میں بھی ’اسٹیبلشمنٹ‘ کے حوالے سے اپنے تجربات آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ شائد کچھ یہ تجربات بھی حامد میر کے اخذ کردہ نتایج کو مزید واضح کر سکیں۔

یہ 2002ء کے عام انتخابات کے انعقاد سے قبل کی بات ہے۔ اوکاڑہ ملٹری فارمز کے مزارعین کے دیہات کا گھیراؤ کئی ماہ سے جاری تھا۔ وہ ’مالکی یا موت‘کی تحریک چلا رہے تھے۔ اس وقت جنرل مشرف کی فوجی حکومت کی کوشش تھی کہ مزارعین ان کے ساتھ ٹھیکیدار بن کر کام کریں۔ اوکاڑہ ملٹری فارمز میں 18000 ایکڑ کے لگ بھگ زمین ہے۔ اس میں 13000 ایکڑ کے لگ بھگ زرعی زمین مزارعین کے پاس ہے اور بقیہ ملٹری فارمز والوں کے پاس، جسے وہ خود کاشت کرتے ہیں۔

دیہاتوں کے گھیراؤ کے ذریعے حکومت انہیں مجبور کر رہی تھی کہ وہ ’لیز‘ کے معاہدے پر دستخط کر دیں۔ مزارعین اس پر رضامند نہ تھے۔ دیہاتوں کے گھیراؤ کے دوران 19 دیہاتوں کے باسیوں پر باھر آنا جانا بند تھا۔ دیہاتوں میں جا کر سبزیوں اور پھلوں اور چل پھر کر سامان بیچنے والوں وغیرہ کو روک دیا گیا تھا۔ دیہاتوں کی بری صورتحال تھی۔

میں لاہور میں تھا اور مزارعین کی قیادت مجھے بار بار رابطے کر رہی تھی کہ کوئی حل نکالو، کسی سے بات کرو۔ دیہاتوں سے بیمار افراد کو اوکاڑہ ہسپتال لانے پر بھی پابندی تھی۔

مجھے ایک روزایک صحافی دوست کے ذریعے پیغام ملا کہ رینجرز کے میجر جنرل حسین مہدی ملنا چاہتے ہیں۔ میں ابتدائی طور پر ملاقات کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔ خود لاہور کے حلقہ این اے 124 سے عام انتخابات میں امیدوار بھی تھا۔ الیکشن مہم بھی چل رہی تھی۔ پھر فیصلہ کیا کہ ملا جائے کیونکہ دیہاتوں سے بار بار رابطے ہو رہے تھے کہ راستہ نکالوچنانچہ دو سینئر صافیوں کے ساتھ ملنے انکی سرکاری رہائشگاہ پہنچا۔

صحافیوں کو اس لئے ساتھ لیا کہ وہ گواہ رہیں کہ میں کوئی مزارعین کی سودا بازی کرنے نہیں بلکہ ان کو وقتی طور پر مشکل سے نکالنے کے لئے یہ راستہ اپنا رہا ہوں۔

جنرل حسین مہدی نے ہمیں خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ لگ بھگ دو گھنٹے کی ملاقات تھی۔ میں ان سے ابتدائی طور پر کہتا رہا کہ آپ یہ زمینیں مزارعین کے نام کریں۔ وہ تو اس پر کوئی بات کرنے اور سننے کو تیار نہ تھے۔ کہنے لگے کہ سات سالہ لیز کا معاہدہ لکھا گیا ہے اس پر مزارعے دستخط کریں اس کو بعد میں مزید توسیع دیں گے۔ اس پر میں نے ان پر زور دیا کہ اگر لیز ہی کرنی ہے تو پھر سو سالہ یا کم از کم پچاس سالہ کریں۔ اس بات پر میں نے ان کے خوب کان کھائے۔ وہ بھی میری باتیں سن سن کر تنگ آ گئے تھے۔ پھر حسین مہدی نے کہا کہ خدا کی قسم میں اس میں تبدیلی نہیں کرسکتا، یہ میں نہیں جنرل مشرف ہیں جن کے احکامات پر عمل درآمد کرا رہا ہوں۔

جب بات آگے نہیں بڑھ رہی تھی تو پھر میں نے کہا کہ مجھے اوکاڑہ کے محصور دیہاتوں کا وزٹ کرنے کی اجازت دیں، میری گاڑی کو اندر جانے دیں،تمام دیہاتوں کاوزٹ کر کے ان سے بات کر کے آپ کو جواب دوں گا۔ وہ اس پر راضی ہو گئے۔ انہوں نے ہماری خوب خاطرتواضع کی لیکن دو گھنٹوں میں وہ اپنی بات پر اڑے رہے مگر دھمکی سے کام نہ لیا۔ بات کا جواب بات سے دیتے رہے۔

اگلے روز جب میں اوکاڑہ ملٹری فارمز پہنچا تو میری گاڑی کا نمبر دیکھتے ہی مجھے رینجرز کے جوانوں نے اندر جانے دیا۔

پہلے چک 10/4/L پہنچا تو وہاں احتجاجی کیمپ لگا ہوا تھا۔ یہی صورتحال دوسرے دیہاتوں کی تھی۔ کیمپوں میں مزارعے بیٹھے تھے۔ کافی جوش وخروش تھا مگر دیہاتوں کی حالت پتلی تھی۔ چار دیہاتوں کے وزٹ کے دوران مجھے کسی نے بھی یہ نہ کہا کہ ہم تنگ ہیں۔ کوئی شکائیتیں نہیں تھیں۔ سب جدوجہد جاری کرنے پر رضامند تھے۔ بہرحال مجھے ان کی لیڈرشپ نے راستہ نکالنے کو کہا اور مزاکرات کو جاری رکھنے کو کہا۔

باہرآیا تو رینجرز والے منتظر تھے۔ مجھے کرنل سلیم جو وہاں کے انچارج تھے، کے پاس لے گئے۔ انکے پاس پہنچا تو انکے کمرے میں تین قسم کے چارٹ لگے ہوئے تھے۔ سبز، سرخ اور پیلی لکھائی سے علیحدہ علیحدہ چارٹوں پر مزارعین کے نام لکھے تھے۔ جب پوچھا یہ کیا ہے تو کرنل سلیم نے بتایا کہ سبز لکھائی میں وہ ہیں جو لیز پر دستخط کے لئے تیار ہیں۔ پیلی لکھائی میں ان کے نام ہیں جو ابھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اور سرخ لکھائی میں ان کے نام ہیں جو لیز پر دستخط کرنے کو تیار نہیں۔ لگتا تھا کہ وہ کسی جنگ کی تیاری کر رہے تھے۔ سرخ لکھائی میں لکھے ناموں کی فہرست کافی طویل تھی۔

کرنل سلیم نے مجھے ہر طرح سے رام کرنے کی کوشش کی کہنے لگے بہتر ہے کہ مزارعین آرام سے دستخط کر دیں ورنہ ہم تو کروا ہی لیں گے۔

کرنل سلیم نے سیاسی باتیں اور پیشکشیں بھی کیں۔ کہنے لگے اوکاڑہ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار راؤ سکندر اقبال ہیں ٹکٹ تو انکے پاس پیپلز پارٹی کی ہے مگر وہ ہمارے امیدوار ہیں، وہ ہی یہاں سے جیتیں گے۔ انہوں مجھے کہا یہ تھرڈورلڈ ہے یہاں جو فوج چاہتی ہے وہ ہوتا ہے، جمہوریت ہماری مرضی سے چلتی ہے(انتخابات میں راؤ سکندر اقبال جیتے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی چھوڑ دی اور وزیر دفاع بن گئے)۔

مجھے پیشکش کرتے ہوئے کرنل سلیم نے کہا کہ لاہور سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہو، ہم سے بات کرو، مزارعوں نے آپ کو کیا دینا ہے، ہم آپ کو قومی اسمبلی میں پہنچا دیں گے،ان کا ساتھ چھوڑو ہمارے ساتھ ملو تو عیش میں رہو گے۔ میں نے انتہائی پولائیٹ انداز میں جواب دیا کہ میری سیٹ کو چھوڑیں آپ مزارعوں کی بات سنیں،ان سے صلح کریں دیہاتوں کا گھیراؤ ختم کریں۔ انہوں نے بھی میری خوب خاطر مدارت کی۔ کھانے بہت اچھے کھاتے ہیں یہ فوجی افسران۔

میں نے کرنل سلیم کو کہا کہ ٹھیک ہے لاہور جا کر صلاح مشورہ کرنے کے بعد جواب دیں گے۔

رات دیر سے لاہورپہنچا۔ اگلے روز عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمان اور دیگر ساتھیوں کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ طے یہ پایاکہ اگلے روز پریس کانفرنس کریں گے۔ اس سے اگلے روز رینجرز نے مزارعین سے دستخط کرانے کا وقت دیا ہوا تھا۔

لاہور پریس کلب میں منعقد ہونے والی اس پرہجوم کانفرنس میں عاصمہ جہانگیر اور ہم نے مزارعین کو دستخط کرنے کی تجویز دیتے ہوئے لفظ ’سرنڈر‘استعمال کیا۔ عاصمہ جہانگیر نے اگلے روز خود اوکاڑہ جانے کا دلیرانہ فیصلہ بھی کر لیا۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا یہ دستخط زبردستی لئے جا رہے ہیں، ان کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہو گی، آپ دستخط کر دیں۔

صبح جب ڈان اخبار نے یہ خبر شائع کی جس میں مزارعین کو سرنڈر کرنے کی بات لکھی تھی اور عاصمہ کے اس روز اوکاڑہ وزٹ کرنے کی بھی خبر تھی۔ تھوڑی دیر بعد مجھے کرنل سلیم کا فون آیا، غصے میں تھے۔ مجھے کہا کہ لفظ سرنڈر کیوں استعمال کیا ہے۔ پھر کہنے لگے کہ کل تو آپ کا بہت خیال رکھا تھا۔ ہمیں ہدایت تھی اس کی، آج عاصمہ جہانگیر کے ساتھ بھی آو تو پھر آپ کو بتائیں گے کہ ہم کون ہیں؟ میں نے جواباً انہیں کہا کرنل صاحب آج تو میری پارٹی کے چیئرمین شعیب بھٹی عاصمہ کے ساتھ آ رہے ہیں میرا تو آج آنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے بہرحال ملاقات تو ہو گی آپ کے ساتھ۔

مزارعین نے ہماری بات مان لی تھی اور دستخط کر دئیے۔

عاصمہ جہانگیر اس روز اوکاڑہ پہنچیں۔ انہوں نے دستخط کرنے کی تقریب دیکھی۔ سنگینوں کے سائے تلے ’سات سالہ‘ دستخط ہوئے۔ پھر انہیں زبردستی فارموں سے باہر جانے پر مجبور کیا گیا۔ یوں دیہاتوں کا گھیراؤ ختم ہوا اور مزارعیں کو سانس لینے کا موقع مل گیا۔

یہ ایک قدم آگے دو قدم پیچھے کے مترادف تھا۔ یہ محنت کشوں کے عظیم لیڈر ولادی میر لینن کا مقولہ تھا کہ کبھی آگے بڑھنا اور پھر مشکل حالات میں دو قدم پیچھے ہٹنا بھی انقلابی قدم ہوتا ہے۔ چند ماہ کے دوران مزارعوں کی تحریک دوبارہ زور پکڑ گئی اور زبردستی لئے گئے یہ دستخط آج تاریخ کے کوڑا دان کی نذر ہو چکے ہیں۔ اس واقعہ کے پندرہ برس بعد بھی یہ تحریک جاری ہے۔ مزارعین رہنماجیلوں میں جھوٹے مقدمات بھگت رہے ہیں۔

شائد اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات سمجھ آجائے کہ اوکاڑہ کراچی نہیں۔ یہاں زبردستی تھوڑی دیر کی چلتی ہے۔ اوکاڑہ سمیت پبلک سیکٹر کے دیگر زرعی پبلک فارموں کا ایک ہی موثر حل ہے کہ یہ بارہ بارہ ایکڑ زمینیں جنہیں مزارعین کی چار پشتیں کاشت کر رہی ہیں ان مزارعوں کو ہی دے دی جائیں۔ اسی میں سب کی عزت اور وقار ہے۔

یہ آرٹیکل 2017ء میں لکھا گیا تھا، قارئین جدوجہد کے لئے اسے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔