پاکستان

عورت کی نجات: جدوجہد ہی واحد راستہ ہے!

انعم اختر

ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جسے انسانی تاریخ کا سب سے پر انتشار عہد کہا جا سکتا ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ اگر چہ اس سرمایہ دارانہ نظام نے مجموعی طور پر محنت کش طبقے کی زندگیاں اجیرن کی ہوئی ہیں لیکن اگر اس نظام میں محنت کش عورت کی بات کی جائے تو وہ دہرے تہرے جبر کا شکار ہے۔

دنیا کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے اور چھوٹے بڑے کارخانوں، تمام فیکٹریوں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، ہر جگہ خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے جسے کسی طور بھی محنت کش طبقے سے الگ نہیں رکھا جا سکتا۔ خواتین، جو آبادی کا تقریباً 50 فیصد ہیں، کی اکثریت کچن میں قید ہے۔ گھریلو خواتین کو بغیر کسی چھٹی کے ہر روز صرف تین وقت کی روٹی اور چھت کے لئے چوبیس گھنٹے کی محنت کرنی پڑتی ہے۔ جو خواتین کوئی جاب بھی کر رہی ہیں تو اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کو گھریلو کام کاج سے چھٹکارا مل گیا ہے بلکہ 8-10 گھنٹے باہر کام کرنے کے بعد گھر کی تمام تر ذمہ داریاں نبھانا پڑتی ہیں۔

اس کے علاوہ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں، گھریلو تشدد، اغوا کاری، خود کشیاں اور غیرت کے نام پر قتل آج ایک معمول بن گئے ہیں۔ یہاں عورتوں کو صحت کی مناسبت سے سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے ہر ایک ہزار میں سے 65 بچے پیدائش کے فوراً بعد مر جاتے ہیں۔ مناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے 46 فیصد بچوں کی افزائش نا مکمل ہے جس کی وجہ سے ہر اگلی نسل کا قد آدھا انچ کم ہو گا۔ یہاں جو چند لبرل خواتین و حضرات عورت کی آزادی کی بات کرتے بھی ہیں تو ان کی آزادی محض مختلف برینڈیڈ کپڑوں اور بڑی گاڑیوں تک محدود ہے۔ درحقیقت یہ عورت کی حقیقی آزادی نہیں ہے بلکہ عورت کی حقیقی آزادی کو سمجھنے کے لیے سماج میں اسکے مقام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اگر تاریخ کا جازہ لیا جائے تو یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ خواتین نے مختلف انقلابات میں ہر اؤل دستے کا کردار ادا کیا ہے جیسے عرب انقلابات میں خواتین کے کردار نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس وقت جو انقلابی کیفیت مصر اور عرب دنیا میں دیکھنے میں آئی تھی، وہ پہلی مرتبہ نہیں تھی۔ اس سے قبل روس کا انقلاب، خواتین کے عالمی دن 8 مارچ کے موقع پر ٹیکسٹائل مل کے مزدوروں اور ماچس کی فیکٹری کے محنت کشوں کی ہڑتال سے شروع ہوا تھا۔ جس میں محنت کش خواتین کو منظم کرنے اور عورتوں کے مکمل حقوق اور مساوی اجرت کے لئے مطالبات رکھے گئے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی 8 مارچ دنیا بھر میں ’خواتین کے عالمی دن‘ کے طور پر منایا جائے گا۔ یہ درحقیقت ’محنت کش خواتین کا عالمی دن‘ ہے جسے منانے کا فیصلہ 1910ء میں دوسری انٹرنیشنل کے تحت منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں کیا گیا تھا۔ اس میں سرکردہ کردار کلارا زیٹکن نے ادا کیا تھا جو جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور پھر کمیونسٹ پارٹی کی نمایاں رہنما تھی۔ لیکن اس دن کو عالمی سطح پر شہرت اور پذیرائی اس وقت حاصل ہوئی جب روس میں انقلابی تحریک کا آغاز 1917ء کے موسم بہار میں اسی خواتین کے عالمی دن کے مظاہرے سے ہوا۔

پاکستان میں بھی خواتین کی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ چاہے وہ 1968-69ء کا انقلاب ہو، اساتذہ، نرسز، ڈاکٹرز، لیڈی ہیلتھ ورکرز ہوں، فیسوں میں اضافے کے خلاف مطالبات ہوں یا پھر دوسرے بہت سے شعبوں میں ابھرنے والی محنت کشوں کی جدوجہد ہو‘ خواتین کا کردار اب نمایاں طور دیکھا جا سکتا ہے۔

آج اگر عالمی طور پر عورت کی سماجی حالت کو دیکھا جائے تو نہ صرف پسماندہ ممالک میں بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی عورت نابرابری اور ظلم کا شکار ہے۔ تیزاب چھڑکنا، ریپ اور گھریلو تشدد اب محض تیسری دنیا کے مسائل نہیں بلکہ یہ واقعات اب ترقی یافتہ ممالک میں بھی عام ہیں۔ عورت کی محکومی کا آغاز سماج کی طبقات میں تقسیم کے ساتھ ہوا تھا۔ جب تک طبقات موجود ہیں، طبقاتی جدو جہد ختم نہیں ہو سکتی اور ان طبقات کا خاتمہ صرف سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ایک سوشلسٹ سماج میں نہ صرف طبقاتی بلکہ جنسی بنیادوں پر بھی انسان کی انسان کے ہاتھوں محکومی کا خاتمہ ہو گا۔

انعم اختر جے کے این ایس ایف کی مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ہیں۔