مارکسی تعلیم

خاندانی تضادات، عورت اور سماج

صائمہ بتول

خاندانی نظام کی موجودہ شکل کائنات کی ابتدا سے ہی موجود نہیں تھی بلکہ خاندانی نظام بھی مختلف ارتقائی شکلیں طے کر کے یہاں تک پہنچا ہے۔ ماضی کے خاندانوں کی چند شکلیں جن میں یک جدی خاندان، پونالوان خاندان، جوڑا خاندان، یک زوجگی خاندان اور ہم خاندانی نظام وغیرہ مشہور ہوئے۔

مارگن نے کہا تھاکہ ”خاندان ایک زندہ اور متحرک چیز ہے۔“ خاندان کی ترقی کے مدارج ہر جگہ پہ ایک ہی انداز میں آگے نہیں بڑھے، کہیں خاندانی نظام نے پسماندگی سے جدت کی طرف معیاری جست لگانے کی کامیاب کوششیں کیں اور کہیں خاندانی نظام کی ثقافت پرانے رجعتی ڈھانچے کو توڑنے میں ناکام ہوتی نظر آئی۔ یورپ میں سرمایہ دارانہ انقلاب برپا ہونے کے بعد جہاں صنعت اور معیشت میں بہتری کرنے کی کوشش کی گئی، وہیں خاندانی نظام میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

خاندان اور ریاست کا تعلق گہرا ہے اور خواتین خاندان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خاندانی نظام میں بھی اصلاحات کیں، جن میں ترقی یافتہ ممالک میں 18 سال کے بچے کو زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کی اجازت دی گئی۔ عورت کو اسقاط حمل کی آزادی دی گئی اور والدین کی ذمہ داری بچوں کو دینے کی بجائے اولڈ ہوم کا قیام عمل میں لایا گیا۔ شادی اور طلاق کے معاہدے دونوں افراد کی مرضی و منشا کے مطابق طے پائے گئے۔ یورپ کے ساتھ ساتھ جن ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام ترقی یافتہ شکل میں پہنچا وہاں بھی خاندانی نظام پر اثرات پڑے۔ مگر اکثریتی ایسے ممالک جہاں سرمایہ داری اپنی ترقی یافتہ شکل میں نہیں پہنچ پائی، وہاں خاندان کا پیچیدہ ڈھانچہ مزید پرپیچ ہوتا گیا۔

افریقہ کے کئی علاقہ جات ایسے ہیں جہاں خاندانی نظام کا ڈھانچہ ماضی کے خاندانی نظام سے مختلف نہیں ہے۔ سنٹرل ایشیا، سکینڈے نیوین ممالک میں بھی خاندانی نظام میں تبدیلیاں آئیں اور وہاں بھی یورپ کی طرز پر خاندانی نظام کو چلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

مگر ایشیا کے مختلف ممالک بشمول ہندوستان اور پاکستان ایسے ممالک ہیں،جہاں خاندان کی قدیم ایشیائی طرز پیداوری نظام یا پہاڑی قبائلی شکل کو برقرار رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان ممالک میں جہاں قدیم روایات اور ثقافت انسانوں کو اپنا پرانا خاندانی ڈھانچہ جوڑے رکھنے کی ترغیب دے رہا ہے، وہاں سرمایہ دارانہ پیداوار پر مبنی معاشی و سماجی رشتے اور مقابلہ بازی کی نفسیات اسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔

موجودہ عہد میں جب سرمایہ دارانہ نظام شدید بحرانات کے گھن چکر میں دھنستا چلا جارہا ہے، اس بے یقینی اور عدم استحکام کے عہد میں سماجی بیگانگی، پراگندگی اور عدمِ برداشت کی انتہا سے سرمایہ داری کا میاں، بیوی اور بچوں پر مبنی خاندان تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کے حامیوں میں سے فوکو یاما نے ’تاریخ کا خاتمہ‘کے عنوان سے تھیسیز لکھ کر یہ باور کروانے کی کوشش کی تھی کہ یہ نظام آخری ہے، لیکن آج ہمیں نظر آتا ہے کہ سرمایہ داری کے وہی حامی اپنے لکھے ہوئے سے نالاں نظر آتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے حامیوں نے سوشلزم کی مخالفت میں سوشلزم کے خاندانی ڈھانچوں کو بھی چیلنج کرنے کی کوشش کی اور سوشلزم کے اندر بننے والے خاندانوں کو غیر فطری قرار دیا تھا۔

1917ء میں سوویت یونین میں انقلاب کے بعد خاندانی نظام کو بہتر کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اجتماعی کچن، اجتماعی لانڈریوں اور کنڈر گارٹن کا اہتمام کیا گیا، جو خواتین کے دوہرے، تہرے جبر سے آزاد کروانے کی ایسی کوشش تھی، جسکا سرمایہ دارنہ انفرادیت میں تصور اب تک بھی محال لگتا ہے۔

مگر سٹالنسٹ بیورو کریسی کی وجہ سے آزادی نسواں آہستہ آہستہ اپنی پرانی شکل کی طرف بڑھنے لگی۔ ٹراٹسکی نے 1938ء میں لکھا تھا کہ ”ریاستی پالیسی اور سماجی حکومت کے مقام کے تعین کے لیے خواتین کی صورتحال بہت ہی واضح اور اثر آفریں اشارہ ہے۔ اکتوبر انقلاب نے اپنے جھنڈے پر آزادی نسواں لکھا تھا۔ خاندان اور ازدواجی بندھن کے سلسلہ میں تاریخی ترقی پسندانہ قانون سازی کی تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ سوویت خاتون کی زندگی یکایک بہت خوشگوار ہو جانی تھی۔ ثقافت اور معیشت کی عمومی ترقی کے بغیر،پیٹی بورژا خاندانی اکائی کو نیست و نابود کیے بغیر، اشتراکی خواراک کی تیاری کو متعارف کروائے بغیر اور تعلیم کے بغیر خواتین کی حقیقی آزادی نا قابل فہم ہے۔“

سوویت یونین میں انقلاب کے ابتدائی سالوں میں خواتین کو بھی خاندانی آزادیاں حاصل ہوئیں۔ اجتماعی کچن، اجتماعی لانڈریوں اور بچوں کے لیے کنڈر گارٹن اور کڈز سینٹر اور دیگر اجتماعی اداروں نے خواتین کی زندگیوں کو سہل بنا دیا تھا، مگر بعد ازاں سٹالن کی طرف سے بنائی گئی پالیسیوں نے خواتین کو پھر سے خاندان تک محدود کرنے کے لیے اجتماعی ریستوران کی بجائے گھر کے کھانے کے راگ الاپنے شروع کر دئیے۔

سکولوں میں بچیوں کو گھر داری سکھانے کے لیے مضامین پڑھائے جانے لگے۔ یوں خواتین کو واپس خاندان تک محدود کر دیا گیا۔

سرمایہ دارانہ ترقی نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بدولت دنیا کو مٹھی میں کرنے کی کوششیں کی۔ عالمی منڈی کے ذریعے دنیا کے تمام ممالک تک رسائی حاصل کی گئی۔

خاندانی نظام کی ساخت تبدیل ہوئی اشتراکیت سے خاندانوں کو انفرادیت کی طرف لانے کی کوششیں کی گئیں۔ خواتین کو سماجی بندھنوں سے آزاد کروانے کے ڈرامے رچائے گئے، رشتوں کی قدرو قیمت کو دولت کی ریل پیل سے تولا جانے لگا اور شادیوں کے لیے زر کا ہونا ضروری قرار پایا ہے۔ انہی شادیوں کو کامیابی کی ضمانت دی جاتی ہے جو دولت کی بنیاد پر طے پاتی ہیں۔ معاشی طور پہ ترقی یافتہ ممالک میں خواتین کو بھی عالمی منڈی کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔ یوں ان پہ خاندان کی گھریلو ذمہ داری کے ساتھ ساتھ منڈی میں سستے داموں اپنی محنت فروخت کرنا بھی ضروری ہو گیا ہے۔ خواتین کا دہرا استحصال ان کو کئی جسمانی و ذہنی بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام نو آبادیات میں خاندانی زندگی کی حالت زار بھی دن بہ دن بدترہوتی جا رہی ہے۔ ایک طرف پسماندگی عروج پر ہے، تو دوسری طرف سرمایہ دای کی بھونڈی شکل و مقابلہ بازی۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں خواتین پر ہونے والے جبر، ان کے کام اور مسائل کو بھی مقامی ثقافت گردانا جاتا ہے۔ نو آبادیات میں قومی جبر کے ساتھ ساتھ معاشی جبر بھی اپنی انتہاؤں پر ہے، جو خاندانی نظام کی قدیم قبائلی اشتراکیت کو انفرادیت کی طرف لے جانے کا سبب بھی بن رہا ہے۔

مروجہ نظام کے گن گانے والے مذہبی سکالر، رجعتی ملا، این جی اوز اور موٹیویشنل سپیکرز خاندان کے ٹوٹنے کی وجہ مرد اور عورت کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق عورت کا کردار اور مرد کی اہلیت خاندانی نظام کو چلانے کے لیے کافی ہے۔ سرمایہ دارنہ نظام کے حامی سرمائے کے جبر کو نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ خاندان کے ٹوٹنے کے پیچھے بنیادی طور پر کون سے عوامل کام کرتے ہیں۔

پاکستان، بھارت اور ان ممالک کے زیر انتظام نو آبادیات میں کم عمری کی شادی کا رجحان عام ہے، جائیداد کی منتقلی باپ سے بیٹے میں ہوتی ہے اور گھریلو کام کی ذمہ داری ماں سے بیٹی یا بہو پر منتقل ہوتی ہے۔ ظلم و جبر اور استحصال کی تمام شکلیں عورت پر آزمائی جاتی ہیں۔

ایسے میں اگر خواتین سیاسی، سماجی عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے میدانِ عمل میں اترنے کی کوشش کریں، تو انھیں مختلف خاندانی، مذہبی، سماجی، جنسی، نفسیاتی جبر، حملوں اور حربوں کی صورت مایوس و بد زن کرتے ہوئے اس عمل سے کاٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جس کا موجب سماجی پسماندگی کے ساتھ ساتھ سرمایہ پرست حکمران طبقات کا زہریلا پروپیگنڈہ بھی ہے، جو آزدی ِ نسواں کا پرفریب واویلا کرتے نہیں تھکتے، مگر اس واویلے سے مراد صرف حکمران طبقات کی خواتین کی آزادی ہوتی ہے۔ جب محنت کش طبقے کی خواتین اپنے اور اپنے طبقے کے مسائل کے خلاف جدوجہد کرنے کا تصور کریں تو انکی راہ میں ہر ممکن حد تک روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔

عورت کی سیاسی اور سماجی زندگی کو گھر کی چار دیواری تک محدود کر دیا جاتا ہے اور ایک اچھی عورت ہونے کا سرٹیفکیٹ صرف اسی عورت کو دیا جاتا ہے جو کئی دن تک فاقے برداشت کرنے کی اہلیت رکھتی ہو اور اپنے اوپر ہونے والے جبر و استحصال پہ خاموش رہنا جانتی ہو۔

رجعتی مکتبہ فکر ماں کی عزت و تکریم پہ درس دیتا نظر آتا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ عورت کے کو چادر و چار دیواری میں مقید رکھنے کی پسماندہ تاویلیں گڑھ کر ماں کی آزادی کو رد بھی کرتا ہے۔ ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ ”ماں ہی وہ نقطہ ہے جہاں معیشت اور ثقافت کے تانے بانے ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیں۔ ممتا کا مسئلہ سب سے پہلے رہائش، پانی، کچن، لانڈری روم اور ڈائننگ روم کا سوال ہے۔ لیکن یہ صرف اتنا ہی ہے جتنا کہ ایک سکول میں کتابوں اور ایک تفریحی مقام کا سوال۔ جہالت، بیروزگاری کے ساتھ ساتھ گھر میں پانی اور بجلی کی عدم دستیابی عورت کو بری طرح پیٹتی ہے۔“

شہر نما قصبوں اور پسماندہ دیہاتوں میں قدیم قبائلی طرز کے خاندانی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی زبردستی کی کوششیں خاندانوں کو بکھیر کر رکھ دیتی ہیں اور بعض اوقات رشتوں میں تضاد اس حد تک بڑھ جاتا ہے، جو جانی دشمنی کی صورت میں نکلتا ہے۔ کئی ایسے واقعات ہیں جہاں خاندانی دشمنی کی آڑ میں بھائی بھائی کو قتل کر دیتا ہے، یا باپ بیٹے کے ہاتھوں قتل ہو جاتا ہے۔ پوری دنیا کی دولت پر مٹھی بھر افراد کا قبضہ معاشرے کو عدم برداشت کی جانب لے جارہا ہے اور نتیجتاً جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مسائل سے مجبور ہو کر اولاد والدین کو اپنے ساتھ رکھنے سے انکاری ہے اور بوڑھے والدین کے لیے آخری زندگی میں کوئی سہارا نہیں بچتا، جہاں ان کی آخری زندگی پرسکون گزر سکے۔

سرمایہ دارانہ جبر تلے آباد یہ پچھڑے ہوئے سماج، جہاں سرمایہ دارانہ جبرو استحصال تو اپنی تمام تر شد و مد سے حاوی ہے، مگر کلاسیکل سرمایہ دارنہ عہد کی حاصلات (جو محنت کش طبقات نے اپنی جدوجہد سے حاصل کی ہیں) کا کہیں نام و نشان تک موجود نہیں ہے۔ اولڈ ہومز جیسی حاصلات کا گمان بھی ایسے سماج میں دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے۔

مشترکہ خاندان جو ایشائی پیداوری نظام یا پہاڑی قبائلی نظام پر مبنی تھا، جس میں ماں، باپ، بہن، بھائی اور باقی رشتہ دار سما سکتے تھے، وہ سکڑ کر صرف میاں بیوی تک محدود ہو گیا ہے۔

پرانے قبائلی طرز کے خاندان چونکہ جاگیرداریت سے مشابہت رکھتے تھے اور جاگیر داری نظام میں خاندان کو جوڑ کر رکھنا معاشی مجبوری تھی۔ کئی افراد مل جل کر کھیتی باڑی و غلہ بانی باآسانی کر لیتے تھے اور خواتین کے مل جل کر گھر کے کام کو سمیٹ لیتی تھیں۔ اس تمام تر عمل سے جڑے افراد کا معاشی انحصار اسی سماجی سرگرمی سے جڑا تھا۔

خاندانوں میں ایسے واقعات ہو جاتے تھے، جو خاندانوں کو توڑنے کی طرف لے جاتے تھے، مگر خاندان کی جڑت زیادہ ضروری تھی۔ اس لیے ایسے معاملات کو بعض اوقات آپس میں گفتگو کر کے سلجھا لیا جاتا ہے۔ اگر خاندان کے لیے ایسے معاملات کو سلجھانا مشکل ہو جاتا تھا، تو مقامی جرگے اور پنچائتیں ایسے مسائل حل کر دیتی تھیں۔

مگر موجودہ وقت میں خاندان کے پرانے قبائلی طرز کے نظام کو یا جاگیراداری کے اندر پنپنے والے خاندان کی طرز پر چلانا ناممکن ہو چکا ہے۔

خاندانوں کی موجودہ شکل جو مروجہ نظام میں صرف بیوی، شوہر اور ان کے بچوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ انسان کی مجبوری بن گئی ہے کہ وہ ان تمام رشتوں سے کنارہ کشی اختیار کرے، جو اس کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند نہیں ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر مقابلہ بازی کا بڑھتا ہوا رجحان رشتوں کی نوعیت کو بدل چکا ہے۔ بیگانگی اس حد تک سماج پہ حاوی ہو چکی ہے کہ رشتوں کی قدر ومنزلت بھی پیسے کی محتاج ہو چکی ہے۔ نئے خاندان تعمیر کرنے کے لیے انسان کو ایک بار پھر اشتراکیت کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔ انسان قدیم اشتراکی نظام سے اس وقت باہر آیا جب وہ خالی ہاتھ تھا۔ اب انسان کے لیے ضروری ہے کہ تمام تر وسائل کے ساتھ اشتراکیت کی جانب لوٹے، تاکہ اپنے لیے اور اس کرۂ ارض پہ بسنے والے تمام انسانوں کے لیے زندگی سہل بنا سکے۔ اشتراکیت ہی خاندان کو ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچا کر بہتری کی جانب لے جا سکتی ہے۔ ایک سوشلسٹ انقلاب ہی اس خطے کا اور اس کرہ ارض کا مقدر بدلے سکتا ہے۔

صائمہ بتول جے کے این ایس ایف کی رہنما ہیں۔