پاکستان

شہباز گل کے بیان پر گرفتاری نہیں، عدالتی فیصلہ ہونا چاہئے

فاروق طارق

شہباز گل کی گذشتہ روز اسلام آباد سے گرفتاری پر پاکستان کے مین سٹریم میڈیا میں ایک زبردست بحث جاری ہے۔ شہباز گل کے انتہائی بدتہذیبی والے بیانات کا ریفرنس دے کر کچھ تجزیہ کار اسے ایک درست قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض دیگر تبصرہ نگار اس گرفتاری کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔

اس سے قبل، پیر کے روز ’اے آر وائی‘ بھی کچھ دیر کے لئے آف ائر رہا۔ شہباز گل نے ’اے آر وائی‘کی بندش کے خلاف بیان جاری کرتے وقت کہا تھا کہ ”فوج کے نچلے حلقوں میں تحریک انصاف کی زبردست حمایت موجود ہے، عام فوجیوں کو چاہئے کہ وہ ان بڑے افسروں کے احکامات نہ مانیں جو ’اے آر وائی‘کو بند کرنے کے احکامات دے رہے ہیں“۔

یہ بے وقت کی راگنی تھی۔ فوجیوں میں ایسے کوئی جذبات اس وقت نہیں ہیں کہ وہ’اے آر وائی‘ کی بندش کے خلاف بغاوت کر دیں۔

شہباز گل کے لئے یہ بات کرنا ایک عام سی بات تھی۔ وہ پہلے بھی اسی قسم کی ایڈونچرسٹ باتیں کرتے رہے ہیں مگر ایک عام فوجی کے لئے شہباز گل کی بات پر عمل کرنا زندگی اور موت سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ وہ کیوں ایک رائیٹ ونگ بڑھک باز، بدتمیز، بد تہذیب، منفی طرز کی طنزیہ باتیں کرنے والے ایک بے عمل شخص کی باتوں پر عمل کریں گے؟ ادہر، اعلیٰ فوجی قیادت نے شہباز گل کو کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لے لیا۔

گذشتہ روز، بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کے عین سامنے، شہباز گل کی گاڑی کے شیشے توڑ کر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ایف آئی آر میں جو بھی سنجیدہ الزام ان کے خلاف لگایا جا سکتا تھا وہ لگا دیا گیا ہے

یہ قدم فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اس پس منظر میں بھی اٹھایا گیا ہے کہ جب اس کے چار اہم اور اعلیٰ سطح کے افسران ایک ہیلی کاپٹر حادثہ میں ہلاک ہو گئے جبکہ ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے ٹرولز نے انتہائی منفی پراپیگنڈا کیا۔ ان فوجیوں کی اموات کا مذاق اڑایا گیا۔ یہ ٹرولز وہی کچھ کر رہے تھے جسے عمران خان نے شعوری طور پر اپنے حامیوں میں فروغ دیا تھا۔

یہ ایک نیا رحجان تھا۔ پاکستان کی سرمایہ دارانہ سیاست میں یہ رجحان بن چکا ہے کہ ہر قسم کی اخلاقیات کو تج کر، سیاسی مخالفین کی ہر صورت ’بے عزتی‘ کرنا ہوتی ہے۔ یہ چند سالوں سے سلسلہ جاری تھا جس میں تحریک انصاف بھی تیزی لائی اور ففتھ جنریشن والے بھی۔

فوجی جرنیلوں نے جب پبلک میں یہ کہنا شروع کیا کہ وہ نیوٹرل ہیں تو ان کے خلاف سوشل میڈیا پر شعوری انداز میں ٹرینڈز چلائے گئے۔ ان کو شدید بے جا منفی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تحریک انصاف والے کہنا یہ چاہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کسی اور کی بجائے ان کی کھل کر حمائیت کرے اور انہیں دوبارہ اقتدار پر فائز کر دیا جائے۔

اس پس منظر میں شہباز گل نے ایک بار پھر ایک ایڈونچرسٹ بیان دیا جس کا وہ خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ گو شہباز گل کے خلاف کی جانے والی تمام تنقید درست نظر آتی ہے اور ایسا کرتے وقت تحریک انصاف حکومت کے سیاسی مخالفین کے خلاف جابرانہ، آمرانہ اور انتہائی سخت اقدامات کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے مگر جب یہ واقعات رونما ہوئے تو اس وقت تقریباً تمام میڈیا اینکرز نے ان کی اس بنیاد پر مخالفت کی تھی کہ یہ آمرانہ اقدامات جمہوریت مخالفت ہیں۔

علی وزیر کی بھی مثال دی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر علی وزیر جیل جا سکتے ہیں تو فوج پر تنقید کی وجہ سے شہباز گل کو کیوں گرفتار نہیں کیا جا سکتا؟ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ علی وزیر کو بالکل غلط پکڑا گیا تھا۔ اگر علی وزیر کو پکڑنا غلط ہے تو شہباز گل کو پکڑنا کیوں جائز ہو گیا؟

ریاستی آمرانہ اقدامات کبھی بھی سیاسی سوچ کو تبدیل نہیں کر سکتے بلکہ اس کو وقتی طور پر دبایا ہی جا سکتا ہے۔ وہ پھر اور انداز میں پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہو کر سامنے آ جاتے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ایک بے عمل شخص کو گرفتار کر کے اسے بہت زیادہ اہمیت دے دی گئی۔ اس گرفتاری سے جو شہباز گل نے کہا اسے وقتی طور پر شائد روکا جا سکے گا مگر ایسی باتیں اب اور انداز میں سامنے آ سکتی ہیں۔ کسی کے بیان پر، تقریر پر، گفتگو پر گرفتاری سیاسی حل نہیں ہے۔ یہ آمریت کی نشانی ہے۔ سیاسی حالات ایسے نہیں ہیں کہ مسلم لیگ کی مخلوط حکومت اس قسم کے اقدامات سے عوام میں اپنی بنیاد کو مزید مضبوط کر سکے گی۔

آمریت کی کوئی شکل بھی سیاسی مضبوطی کی نہیں، کمزوری کی نشانی ہوتی ہے۔ اشتعال انگیز بیانات کو جن کی کوئی مادی بنیاد بھی نہ ہو کو نظر انداز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ کتنی کمزور حکومت ہے کہ وہ شہباز گل جیسے وارداتئے کے اشتعال انگیز بیانات سے بھڑک اٹھی ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی ایسا ہی کرتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔

اب بھی وقت ہے شہباز گل کو فوری رہا کیا جائے، مذکورہ بیان کے خلاف عدالت میں جایا جائے اور عدالت کو فیصلہ کرنے دیا جائے، شہباز گل کی گرفتاری کے بغیر۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔