خبریں/تبصرے

آیت اللہ خامنہ ای کی بھتیجی نے مظاہروں کی حمایت کر دی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی بھتیجے نے ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کی حمایت میں آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے ایرانی حکمرانوں کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت بھی کی ہے۔

’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق فریدہ مراد خانی نے غیر ملکی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ مظاہروں پر وحشیانہ کریک ڈاؤن پر ایرانی حکومت کے ساتھ تعلقات منقطع کریں۔

ایک ویڈیو میں انکا کہنا تھا کہ ”اے آزاد لوگو، ہمارے ساتھ رہو اور اپنی حکومتوں سے کہو کہ وہ اس قاتل اور بچوں کو مارنے والی حکومت کی حمایت بند کریں۔ یہ حکومت اپنے کسی مذہبی اصول کی وفادار نہیں ہے اور اسے طاقت کے علاوہ کسی بھی قانون یا قاعدے کا علم نہیں ہے۔ کسی بھی ممکنہ طریقے سے اپنی طاقت کو برقرار رکھنا انکا مقصد ہے۔“

انکے بھائی کے مطابق ویڈیو وائرل ہونے سے چند روز قبل مراد خانی کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے جمعرات کو مظاہرین کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں حقائق تلاش کرنے والی تحقیقات کیلئے ووٹ دیا ہے۔ حقوق کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ 18000 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ فورسز نے ستمبر کے وسط سے اب تک 450 مظاہرین کو ہلاک کیا ہے، جن میں 63 بچے بھی شامل ہیں۔ ایرانی ریاست کی جانب سے احتجاج کی حمایت کرنے والی اعلیٰ شخصیات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ریپر توماج صالحی پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے اور انہیں موت کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

دریں اثنا فٹ بال کھلاڑی ووریا غفوری کو گزشتہ ہفتے حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب ایران نے امریکی ٹیم کو فیفا ورلڈ کپ سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا، کیونکہ امریکہ نے سوشل میڈیا پر اسلامی جمہوریہ کے نشان کے بغیر ایرانی پرچم کی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔ تاہم یہ تصویر بعد میں ہٹا دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایرانی ٹیم نے قطر میں ایرانی قومی ترانہ بھی نہیں گایا تھا۔