دنیا

سندھ نامہ (پہلا حصہ): مارکس اور بھگوان سانگھڑ کی بستی میں

فاروق سلہریا

اس بار عید کی چھٹیاں سرگودہا میں گزارنے کی بجائے سوچا سندھ کی سیر کی جائے۔ اصل منزل تھر پارکر تھی جہاں میں پہلے کبھی نہیں گیا تھا۔ تھرپارکر جانے کی ایک وجہ تو اس خوبصورت اور پر امن خطے کی سیاحت تھا تو دوسری وجہ وہاں کارونجھر پہاڑی سلسلے کو بچانے کے مقامی لوگوں کی شاندار مزاحمت اور جدوجہد سے آ گاہی حاصل کرنا بھی تھا۔ سرمایہ دار میڈیا میں آنے والی اُن رپورٹوں کی حقیقت بھی جاننا چاہتا تھا جن میں بتایا جاتا تھا کہ تھر پارکر میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔

لاہور سے تھرپارکر کا یہ سفر 5 اپریل کی رات بذریعہ ریل شروع ہوا۔ حیدر آباد تک یہ سفر’گرین لائن‘کے ذریعے کیا۔ریل گاڑی نے 8:30 پر چلنا تھا۔ میں دو گھنٹے پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔ لاہور کے خوبصورت ریلوے اسٹیشن پر اُس طرح کی ہلچل تو نہ تھی جو کسی زمانے میں عید کے موقع پر ہوتی تھی۔اس کی وجہ تھوڑی دیر بعد میں سمجھ آئی۔ آج کل مسافر آن لائن متعلقہ ریل گاڑی کو ٹریک کر سکتے ہیں۔ جوں ہی کراچی جانے والی ’گرین لائن‘ کا وقت ہوا، پلیٹ فارم پر روایتی بھیڑ جمع ہو گئی۔ اے سی پارلر میں حیدر آباد تک کا یہ سفر لگ بھگ چھ ہزار میں ممکن ہے۔ اس کلاس میں سفر کرنے والوں کو،رات کا کھانا اور سحری ریلوے کی جانب سے دیا گیا۔ اسی طرح رات سونے کے لئے تکئے اور بستر بھی فراہم کئے گئے۔ یہ سب اچھی تبدیلی تھی۔

میری سیاسی تربیت میں ریلوے کے کامریڈز کا بہت حصہ رہا ہے۔ تقسیم سے قبل ہی ریلوے کے مزدوروں میں بائیں بازو کا زبر دست اثر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ریلوے میں ایک زبردست اور جفا کش ٹریڈ یونین موجود رہی۔ پاکستان بننے سے پہلے ہی اس ٹریڈ یونین کے ایک اہم رہنما مرزا ابراہیم ہندوستان بھر کی مزدور تحریک میں اپنا سکہ منوا چکے تھے۔

نوے کی دہائی میں جب میں نے ’جدوجہد‘ گروپ کی رکنیت حاصل کی تو مرزا ابراہیم اور ان کے ساتھیوں۔۔۔جن میں یوسف بلوچ، فضل واحد، سیفالرحمن نمایاں تھے۔۔۔ریل مزدوروں کی مزاحمت اور جدوجہد کے قصے سنا کرتا تھا۔ ایک زمانہ تھا جب فیض احمد فیض،ایلس فیض،طاہرہ مظہر علی، مظہر علی خان اور ایسے دیگر زعما روزانہ ریلوے ورکرز یونین کے دفتر جاتے جہاں وہ یونین کے دفتر میں بیٹھ کر مزدوروں کی عرضیاں لکھتے۔

ہم ’جدوجہد‘ کے ساتھی بھی بعض اوقات ریلوے ورکشاپس میں موجود مزدور کینٹین پر ناشتہ کرنے جاتے۔یہاں سینکڑوں مزدور ناشتہ کرنے آتے۔یونین کا ایک ساتھی، ایک چبوترے پر کھڑے ہو کربہ آواز بلند اخبار پڑھتا۔ روزانہ کی بنیاد پر یہ ایک زبردست سیاسی و سماجی سر گرمی ہوتی۔

حیدر آباد روانگی سے قبل ضروری ہے کہ مرزا ابراہیم کے حوالے سے ایک تاریخی واقعہ رقم کر دوں جو حالیہ انتخابی دھاندلی کے پس منظر میں اہل پاکستان کو حسب ِحال بھی معلوم ہو گا۔

1951ء میں جب پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لئے انتخابات ہوئے تو کیمونسٹ پارٹی نے مرزا ابراہیم کو لاہور کے ایک حلقے سے بطور امیدوار کھڑا کر دیا۔ مرزا صاحب کے مقابلے پر مسلم لیگ کے امیدوار ایک صاحب ِ حیثیت شخصیت تھی۔نام اب یاد نہیں۔کیمونسٹ پارٹی نے انتخابی مہم میں نہ صرف ووٹ مانگے بلکہ لوگوں سے مالی مدد کی بھی اپیل کی۔مرزا ابراہیم کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ لوگوں نے نہ صرف ان کے لئے ووٹ ڈالے بلکہ پرانے کامریڈز کے مطابق بیلٹ باکسز میں سے نوٹ بھی برآمد ہوئے جن پر لوگوں نے مرزا ابراہیم کا نام لکھا ہوا تھا۔ مرزا ابراہیم الیکشن تو جیت گئے لیکن الیکشن کمیشن نے ’فارم 45‘ کی مدد سے مسلم لیگ کو فاتح قرار دے دیا۔ اس انتخابی دھاندلی کی وجہ سے انتخابات میں ’جھرلو‘پھیرنے کی اصطلاح عام ہوئی۔ دھیرج رکھئے،قصہ ابھی باقی ہے۔

مرزا ابراہیم نے 2000 ء میں وفات پائی۔ ان کی وفات پر لاہور پریس کلب میں ایک ریفرنس منعقد کیا گیا۔اس ریفرنس کے دوران بھی 1951 کے انتخابات اور ’جھرلو‘ کا ذکر ہوا۔ اس تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر حاضرین میں موجود ایک بزرگ شخصیت نے درخواست کی کہ انہیں بولنے کا موقع دیا جائے۔ ان کا چہرہ مجھے آج بھی یاد ہے۔ گورا چٹا رنگ۔ سفید شلوار کرتے میں ملبوس،انتہائی وجیہہ شخصیت۔ سلیقے سے کنگھی کئے ہوئے سفید بال۔ انہیں بولنے کا موقع دیا گیا۔

پتہ چلا کہ یہ وہی مسلم لیگی امیدوار ہیں جو انتخابی جھرلو سے مستفید ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں ریکارڈ کی درستی کے لئے اور اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے یہ تسلیم کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا ابراہیم کو ’جھرلو‘ کے ذریعے ہرایا گیا۔ معلوم نہیں اس وضع داری کا اظہار کوئی مسلم لیگی یا انصافی بھی اپنی عمر کے آخری حصے میں کرے گا یا نہیں؟ لاہور ریلوے سٹیشن سے وابستہ ان یادوں کو تازہ کرتے ہوئے حیدر آباد روانہ ہوئے جہاں ہماری منزل پیپلز پارٹی کی سینیٹر کرشنا کماری کا گھر تھا جن کا تعلق تھر پارکر سے ہے۔وہ ملک بھر میں ایک جانا پہچانا نام بن چکی ہیں۔

معلوم نہیں یہ گھر ان کا اپنا ہے یا کرائے پر،لیکن اس چھوٹے سے گھر میں پہنچ کر ہرگز یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ کسی سینیٹر کا گھر ہے۔ جہاں سینیٹ کی نشست اربوں میں خریدی جاتی ہو وہاں کسی سینیٹر کا پانچ سات مرلے کے گھر میں رہنا کسی خوب صورت سر پرائز سے کم نہیں۔ ہمیں یہاں کرشنا کماری کے بھائی ویر جی کوہلی کا انتظار تھا جو تھر پارکر میں ہمارے میزبان تھے۔

ڈرائنگ روم میں انتظار کرتے ابھی تیس منٹ ہی گزرے تھے کہ سینیٹر کرشنا کماری بھی آ گئیں۔ سادگی اورانکسار۔ان سے مل کر یہ دو لفظ ذہن میں آئے۔ مختصر سے ڈرائنگ روم میں دیوار پر ایک جانب جناح، بھٹو،بلاول اور آصف زرداری کے پورٹریٹ تھے تو دوسری جانب کرشنا کماری کی اپنی پورٹریٹ آویزاں تھی۔ پیپلز پارٹی بارے اپنے تنقیدی نظریات کی وجہ سے میں نے سینیٹر کرشنا کماری سے کسی قسم کی سیاسی گفتگو سے اجتناب برتا۔ وہ بھی جلدی میں تھیں۔ کچھ ہی دیر کے بعد ویر جی کوہلی بھی آ گئے۔ رات حیدر آباد میں کٹی۔اگلے روز ویر جی کوہلی کے ہمراہ تھر پارکر روانہ ہوئے مگر سانگھڑ کے راستے جہاں ’آل کوہلی ایسوسی ایشن‘ کے زیراہتمام کامریڈ کرمون کو ان کی زندگی بھر کی جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرنا تھا۔

ویر جی کوہلی،آل کوہلی ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ ماضی میں وہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ ممکن ہے یہ تحریر پوسٹ ہونے تک وہ نئی کابینہ میں پھر سے مشیر بن چکے ہوں۔

راستے میں،میر پور خاص سے آل کوہلی ایسوسی ایشن کی نائب صدر ڈاکٹر سیتا رام اور بعض دیگر ساتھی بھی شامل ہو گئے۔ ایک مختصر سا قافلہ،سانگھڑ کی تحصیل کھپرو میں واقع کامریڈ کرمون کے گاوں کی جانب رواں دواں تھا۔ حیدر آباد سے سانگھڑ،وہاں سے ننگر پارکر تک،ہائی ویز حیران کن حد تک اچھی تھیں۔ان کا معیار لاہور کے مال روڈ سے کم نہ تھا۔ میں نے اپنے میزبانوں کی توجہ اس جانب دلائی تو ان کا جواب تھا کہ سندھ بھر میں ہائی ویز اچھی حالت میں ہیں۔لنک روڈ البتہٰ کہیں اچھی، کہیں بری حالت میں۔ ایک وجہ سیلاب سے ہونے والی تباہی بھی تھی۔ شہروں کے اندر البتہٰ صورت حال شائد ایسی نہ ہو۔ حیدر آباد میں کوئی سڑک سلامت نہیں ملی۔ سکھر میں مرکزی سڑکیں اچھی حالت میں تھیں۔

حیدر آباد سے میر پور خاص تک، رئیل اسٹیٹ مافیا کی تباہ کاریاں بھی نمایاں ہیں۔ سونا اگلتی زرعی زمینیں نام نہاد ہاوسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ ڈی ایچ اے کا کاروبار کرنے والی عسکری ریاست میں چھوٹے بڑے ملک ریاض ہی پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہاں ریاست کے موجودہ ڈھانچے میں پائیدارترقی کا خواب دیکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔

میر پور خاص کی خاص بات اس کے آم کے باغات ہیں جو ہائی وے کے دونوں جانب دکھائی دیتے ہیں۔ میرپور کی حدود سے باہر نکلے تو سڑک کی دونوں جانب گندم کی کٹی فصل دکھائی دے رہی تھی۔ سندھ بھر میں گندم کی کٹائی اب تک شائد مکمل ہو چکی ہے۔ (تا دم تحریر،14 اپریل، لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بارش ہے جس سے کسانوں کا شدید نقصان ہو رہا ہے)۔

جب ہم ہائی وے سے اتر کر تحصیل کھپرو کی جانب روانہ ہوئے تو سڑک کی حالت اچھی نہ تھی لیکن جگہ جگہ تعمیر کا کام جاری تھا۔ کامریڈ کرمون کے گاؤں جس کا نام بھی کرمون کوہلی ہی ہے کی جانب جاتے جاتے قافلہ بڑا ہوتا گیا۔ اس تقریب کا ایک مقصد یہ روایت قائم کرنا بھی تھا کہ جدوجہد اور مزاحمت کرنے والے ساتھیوں کو ان کی زندگی میں تسلیم کیا جائے۔

کامریڈ کرمون ستر کی دہائی میں مارکسی نظریات سے متاثر ہوئے۔ وہ شعلہ بیان مقرر تھے۔ ویر جی کوہلی جیسے یونیورسٹی کے طالب علم کامریڈ کرمون کے مارکسی اسٹڈی سرکلز کے نتیجے میں ہی ترقی پسند نظریات سے متعارف ہوئے۔ کامریڈ کرمون نے طبقاتی جدوجہد کو ایک نئی جہت دی۔ انہوں نے اپنی ہی پس ماندہ کوہلی کمیونٹی کو منظم کرنے،اس میں تعلیم عام کرنے اور اس کی سماجی ترقی کے لئے جدوجہد شروع کی۔ان کی جدوجہد صرف طبقاتی تقسیم کے خلاف نہ تھی۔ وہ ذات پات کے نام پر تقسیم کے بھی خلاف ہیں۔ یہی تو ہے مارکسزم! جبر کسی بھی نام پر ہو، اس کے خلاف مزاحمت۔

چند سال قبل،ان پر فالج کا حملہ ہوا۔ اب وہ قوت گویائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ بمشکل چل پاتے ہیں۔ جب ان کے گاوں پہنچے تو گاوں بھر کے افراد جمع تھے۔ گاوں میں بجلی نہیں ہے۔ پورا گاوں ہندو کمیونٹی پر مشتمل ہے۔ کسان ہیں جو زیادہ تروڈیروں کی زمینوں پر کام کرتے ہیں۔

اس شاندار تقریب کے دوران کئی بار کامریڈ کرمون کی آنکھیں نم ہوئیں۔ انہیں شاندار خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ عورتیں مرد بچے سب جمع تھے۔ تقاریر سندھی میں ہو رہی تھیں۔۔۔کچھ کچھ باتیں سمجھ آ رہی تھیں۔ کامریڈ کرمون کی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ آج کوہلی برادری کے لوگ وکیل،ڈاکٹر اور سیاسی کارکن بن کر ابھرے ہیں۔ بعض سول سروس میں گئے ہیں۔

حاضرین کی اکثریت چارپائیوں پر براجمان تھیں۔ چارپائیوں پر ہاتھ سے کڑھی ہوئی چادریں اور تکئے تھے۔ تکئے کے غلاف بھی ہاتھ سے کڑھے ہوئے تھے۔ یہ دیدہ زیب ثقافت اب پنجاب کے کسی گاوں میں تو دکھائی نہیں دیتی جہاں گاوں سے اس کی ثقافت چھین لی گئی ہے اور گاوں کوڑے کا ڈھیر اور ماحولیات کا قبرستان بن چکے ہیں۔ وہ جو ٹراٹسکی نے کہا تھا ’غیر ہموار اور مشترک ترقی‘ (combined and uneven development) اس کے نتیجے میں کامریڈ کرمون کے گوٹھ کی طرح،ایٹمی ریاست میں یا تو گاوں بجلی اور سڑک سے محروم ہیں یا گلوبلائزیشن کا شکار ہو کر ترقیاتی کچرابن گئے ہیں جہاں کوکا کولا تو ملتا ہے، مگرکنوئیں خشک ہو گئے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر کھانے کا اہتمام تھا۔ زمین پر دستر خوان بچھا دئے گئے۔ کھانے میں بھنڈی اور کدوکا سالن تھا۔ ساتھ گندم کی روٹی۔ سبزی اسی گاوں کے کھیتوں سے آئی تھی۔ کھاد اور دوائیوں سے پاک اس سبزی کا ذائقہ ہی الگ تھا۔کھانے سے قبل گروپ فوٹو کے سیشن ہوئے۔ موبائل فون سے دیڈیوز بنائی گئیں۔ سب سے دلچسپ نعرہ تھا: کامریڈ کرمون کی جے ہو! سناتن دھرم کی جے ہو۔

بوڑھا مارکس دھرم میں وشواس نہیں رکھتا تھا لیکن اس تقریب میں موجود ہوتا تو اپنے چیلے،کامریڈ کرمون، کو شاباش ضرور دیتا اور اپنی عادت کے مطابق بھگوان اور مارکسزم کے اس ملاپ پر زور دار قہقہہ لگاتا۔۔۔میں یہ سوچتا ہوا وہاں سے روانہ ہوا کہ کاش ایڈورڈ سعید بھی زندہ اور اس تقریب میں موجود ہوتے اور دیکھتے کہ جس مارکس کو وہ اورینٹل ازم کا طعنہ دیتے ہیں وہ سانگھڑ میں پہنچ کر کیا روپ دھار لیتا ہے۔

ذیل میں پیش ہیں اس تقریب کی تصویری جھلکیاں (تصاویر: کائنات تھیبو):

 

(جاری ہے)

Farooq Sulehria
+ posts

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔