Day: نومبر 29، 2021

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


طلبہ یکجہتی مارچ نے امید کو جنم دیا ہے: مقدس جرال

انقلاب ایک دن کا پراسیس نہیں ہوتا۔ ملک کے کونے کونے سے اور دور دراز علاقوں سے لوگ ہمارے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں۔ رابطے کرنے والے لوگ تنظیم میں آنا چاہتے ہیں اور ہمارے ساتھ جدوجہد میں جڑنا چاہتے ہیں۔ یہ مارچ ایک ایونٹ نہیں بنتا جا رہا ہے بلکہ امید پیدا کر رہا ہے۔ پہلے مارچ کے انعقاد کے بعد ملکی سطح پر مطالبات زیر بحث آئے ہیں۔ اس مرتبہ بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں تعلیمی اداروں کے اندر فورسز کی موجودگی سے مطالبات کو مارچ کے مطالبات میں شامل کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم کورونا پیکیج میں 40 ارب روپے کی بدعنوانی

یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں سے 200 ارب روپے کے وعدے کے برعکس صرف 16 ارب روپے تقسیم کئے گئے۔ کمزور خاندانوں کو 150 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا لیکن 145 ارب روپے دیئے گئے۔ یوٹیلیٹی سٹورز کا پیکیج 50 ارب روپے تھا لیکن 10 ارب روپے دیا گیا۔ 100 ارب روپے بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اصل ادائیگیاں 15 ارب روپے کی گئیں۔