Day: نومبر 5، 2021

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


وادی کشمیر میں خوف کے سائے: شادی ہالوں پر قبضے اور تلاشیوں کی تضحیک پھر سے شروع

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں 5 ہزار اہلکاران پر مبنی مزید نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا ہے، یہ اضافی دستے وادی کشمیر کے 8 اضلاع میں آبادیوں کے اندر تعینات کئے جا رہے ہیں۔ سنٹرل ریزرو پیراملٹری فورسز (سی آر پی ایف) کے 5 ہزار اہلکاران پر مبنی 50 کمپنیوں نے سرینگر اور نواحی اضلاع کے شادی ہالوں پر قبضہ جما لیا ہے۔ دوسری طرف سرینگر کے چوکوں اور چوراہوں پر نئے فوجی بنکروں کے قیام کے بعد عوامی سطح پر تلاشیوں کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر سے شروع کر دیا گیا ہے۔

قحط

زندانوں میں قحط پڑا ہے