Day: اگست 26، 2022

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔


داخلی جلا وطنی!

کیا آپ بھی کسی ایسی ہی جگہ جلا وطنی کے دن تو پورے نہیں کر رہے؟

سیلابی صورتحال: پاکستان بھر میں ’انقلابی امدادی اور احتجاجی مہم‘ کا آغاز

* سیلاب میں پھنسے لوگوں کو فوری طور پر ریسکیو کرنے کیلئے تمام سرکاری وسائل کو جنگی بنیادوں پر بروئے کار لایا جائے
* سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو فوری غذائی و طبی امداد مہیا کی جائے
* سرکاری عمارات کو سیلاب سے بے گھر ہونے والوں کی رہائش کیلئے استعمال کیا جائے
* تمام سیلابی علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کر ہر قسم یوٹیلیٹی بل، آبیانے، مالیے اور دیگر ہر طرح کے سرکاری واجبات اگلے ایک سال کیلئے معاف کیے جائیں

’وہ جو سیلاب کے نقصان کو رد کرتا ہے، کیسا بے رحم قلم کار ہے حد کرتا ہے‘

محنت کش طبقہ گو کہ اس وقت مشکلات کے گرداب میں بری طرح پھنسا ہے لیکن اس کے لاشعور میں ایک نفرت اس حکمران طبقے کے خلاف پل رہی اور یہ نفرت جب اپنا اظہار کرے گی تو محنت کش طبقہ ان حکمرانوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کو ان کے پر آسائش محلات میں سے نکال باہر کرے گا اور ایک نئی تاریخ کا آغاز کرے گا جس میں ذرائع پیداوار محنت کشوں کے اجتماعی تصرف میں ہوں گے جہاں انسان انسان کا دشمن نہ ہو گا وہی حقیقی سماج ہو گا اور وہی حقیقی انسانیت کی معراج ہو گی۔

سندھ: ’لاشیں دفنانے کیلئے بھی خشک زمین میسر نہیں، وزیر اعلیٰ، بلاول بھٹو خالی ہاتھ دورے کر رہے ہیں‘

ہم سمجھتے ہیں کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے یہ حکمران سیلاب یا کسی بھی نو ع کی آفات اور انسانی سانحات میں متاثر ہونے والے انسانوں کی بحالی اور تعمیر نو کیلئے اقدامات کرنے کے اہل ہی نہیں ہیں۔ ان حکمرانوں کیلئے ہر قدرتی آفت اور سانحہ لوٹ مار اور منافعے نچوڑنے کا ایک راستہ اور ایک امکان لے کر آتاہے۔ پانی کو چینلائز کرنے کیلئے بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جو اس نظام کے اندر رہتے ہوئے اس بوسیدہ ریاستی ڈھانچے میں ممکن ہی نہیں ہے۔

سندھ: درد مندوں کا ڈوبتا دیس

ہم سمجھتے ہیں کہ سرائیکی وسیب ہو، بلوچستان ہو یا ڈوبتا سندھ ہو، ان ساری جگہوں پر  عذابوں کی وجہ یہ خونی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے کرپٹ حواری ہیں جس کا حل فیصلہ کن طبقاتی لڑائی کے سوا کوئی بھی نہیں ہے۔