پاکستان

سٹیل مل کا مقدر؟

لال خان

کامریڈ لال خان کا یہ آرٹیکل پہلی دفعہ مورخہ 27 دسمبر 2016ء کوشائع ہوا تاہم پاکستان سٹیل ملز کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اسے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ 

پارلیمنٹ کی ہلڑ بازی سے تعفن زدہ جمہوریت کے ہاتھوں محروم، ریاست کے ہاتھوں محکوم اور حکمران طبقات کے ہاتھوں مفلس اور نادار ہونے والے محنت کش طبقے میں ایک شورش بھڑک رہی ہے۔ سلگتے ہوئے سماج کی کوکھ میں اس مزاحمت کی چنگاریاں مسلسل سطح پر ابھرتی ہیں اور ابھر رہی ہیں، آنے والے وقتوں میں یہ آتش فشاں بھی بنیں گی۔ جہاں اساتذہ، پروفیسروں، نرسوں، ڈاکٹروں اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کی تحریکیں ابل رہی ہیں وہاں پچھلے دنوں کراچی سٹیل ملز کے مزدوروں کا احتجاجی مظاہرہ بھی بھڑک اٹھا۔ انہوں نے نیشنل ہائی وے بلا ک کر دی اور ان پر پولیس نے بے پناہ تشدد کرکے ان کو بکھیرنے کی کوشش کی، لیکن ان مزدوروں کی محرومی انہیں بار بار مجبور کرتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنی روزی روٹی کے لیے جدوجہد کریں بلکہ اس سٹیل مل کو بچانے کے لیے بھی لڑائی لڑیں جو اس طبقے کا ایک اہم اثاثہ ہے۔

‎دنیا کا ساتواں اور پاکستان کا سب سے بڑا اڑھائی کروڑ محنت کشوں کا شہر کراچی، جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا، لمبے عرصے سے بدمعاشوں، غنڈوں اور سرکاری و غیر سرکاری لٹیروں کے چنگل میں ہے۔ پاکستان سٹیل مل نے پاکستان کی معاشی و اقتصادی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ 1965ء کے پہلے پانچ سالہ منصوبے میں اس مل کی تجویز پیش کی گئی۔ 1968ء میں اس کا بنیادی کام شروع ہوا، جو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت اور سوویت یونین کے اشتراک سے 1973ء میں مکمل ہوا۔ پاکستان سٹیل کی بنیاد سے لے کر تکمیل تک 25 ارب روپے تک کی لاگت آئی۔ یہ رقم مختلف بینکوں سے قرضے کے طور پر حاصل کی گئی۔ اس مل میں ملک کی سب زیادہ 11 لاکھ ٹن سٹیل کی پیداواری صلاحیت موجود ہے۔ اس کی تکمیل میں تقریباً 13 لاکھ کیوبک میٹر کنکریٹ کا استعمال ہوا، 57 لاکھ کیوبک میٹر کی اراضی پر مشتمل 3 لاکھ 30 ہزار ٹن کی مشینری، برقی آلات نصب اور سٹیل کا ڈھانچہ تعمیر کیا گیا۔

‎پاکستان سٹیل میں پیداواری عمل شروع ہونے کے بعد 2007ء تک تمام واجبات ادا کر دیے گئے۔ اس کے علاوہ تقریباً 114 ارب روپے ٹیکس کی مد میں گورنمنٹ آف پاکستان کو ادا کیے گئے۔ اپنے قیام سے لے کر اب تک پاکستان سٹیل نے بہت سارے اتار چڑھاؤ دیکھے۔ سوویت یونین اور پاکستان سٹیل کا معاہدہ ہوا تو اس وقت مذہبی ٹھیکیداروں اور ڈیلر مافیا نے پورے ملک میں احتجاج کیے اور منافرتیں پھیلائیں۔ اس کو سفید ہاتھی سے تشبیہہ دی گئی، معاہدے کو روس کی گرم پانی کے چشموں تک رسائی کی سازش کہا گیا، جبکہ پاکستان سٹیل کا بنیادی مقصد ملک میں انجینئرنگ انڈسٹری، بنیادی انفرسٹرکچر کی فراہمی اور جدید انڈسٹری کے فروغ کے لیے سبسڈی دے کر ملک کو اقتصادی بنیادوں پر کھڑا کرنا تھا۔ پاکستان اسٹیل کے خلاف مختلف ادوار میں حکمرانوں نے اور ڈیلر مافیا نے بہت سی سازشیں کیں اور بڑے پیمانے پر پلاننگ کے تحت کرپشن کرکے اسے خسارے میں لایا گیا ہے جس کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ یہ ملکی معیشت پر بوجھ ہے تاکہ اس کی نجکاری کرتے ہوئے کمیشن بٹورے جا سکیں۔

‎2006ء میں پاکستان سٹیل کو تمام تر انفراسٹرکچر، پلانٹ اور دیگر اثاثہ جات، جس میں تقریباً 19 ہزار ایکڑ زمین تھی، 21 ارب 65 کروڑ میں بیچا گیا تھا جبکہ اس وقت ادارہ 3 سے 4 ارب روپے کا سالانہ منافع کما رہا تھا اور صرف زمین کی مالیت 50 ارب روپے سے زیادہ تھی جبکہ تقریباً 11 ارب کی انونٹری بھی موجود تھی۔ سپریم کورٹ نے اس بنیاد پر اس نجکاری کو کالعدم کر دیا کہ ادارے کو کم پیسوں میں بیچا جا رہا تھا اور بڑے پیمانے پر کمیشن وصول کیے گئے۔

‎2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران عالمی مالیاتی کرپشن اور اس سے جنم لینے والی کساد بازاری کی وجہ سے پاکستان سٹیل کو بہت بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا جو کرپشن اور عالمی پیمانے پر لوہے کی قیمت میں ریکارڈ کمی کے سبب مسلسل بڑھتا چلا گیا۔ 2011ء کے بعد پاکستان سٹیل تقریباً 250 ارب کے اثاثوں کی مالک تھی اور اس کے اکاؤنٹ میں 25 سے30 ارب روپے ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی کی مد میں موجود تھے۔ یہ فنڈز ادارے کی انتظامیہ نے یونین کی اشرافیہ کے ساتھ مل کر ہڑپ کر لیے۔ 2012ء کے بعد ادارے کے پاس ملازمین کیلئے نہ تو تنخواہ تھی اور نہ ہی ریٹائر ہونے والے محنت کشوں کے واجبات کی ادائیگی کے لیے کچھ بچا تھا۔

‎10 جون 2015ء سے پاکستان سٹیل کی پیداوار موجودہ حکمرانوں نے مکمل طور پر بند کر دی ہے۔ 2008ء سے پہلے تک منافع میں جانے والے ادارے کو پیداوار کی بندش کی نوبت تک پہنچنے سے بچانے کے لیے ٹریڈ یونین مافیا نے بھی کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا۔ چین کی مختلف کمپنیاں پاکستان سٹیل کو خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں، جن کی نظریں اس ادارے کے اثاثہ جات اور زمین کے محل وقوع اور ادارے کے بنے بنائے انفراسٹرکچر پر ہے۔ اس وقت پاکستان سٹیل کے 13 ہزار ملازمین کسمپرسی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔ ہر 5 سے 6 ماہ بعد 2 مہینے کی تنخواہ خیرات کی طرح دی جاتی ہے۔ میڈیکل کی سہولیات ختم کر دی گئی ہیں اور مئی 2013ء سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو گریجویٹی اور پراویڈنٹ فنڈ سمیت کوئی واجبات ادا نہیں کئے گئے۔ 2018ء تک مزید 2000 ملازمین ریٹائر ہو جائیں گے۔

‎اس کیفیت میں ٹریڈ یونینز نے یا تو مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے یا پھر پیداوار سے محروم ادارہ کے گیٹ پر روزانہ احتجاج کرکے شعوری طور پر محنت کشوں کے غم اور غصے کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اس وقت پاکستان سٹیل کے محنت کشوں کو اپنی مدد آپ کے تحت نجکاری کے محرکات پر ڈسکشن کر تے ہوئے اپنے اندر سے نئی قیادت تراشنا ہو گی اور اپنی قیادت خود کرتے ہوئے ملک بھر کے محنت کش طبقے کو یہ پیغام دینا ہو گا کہ ہم خود اپنی اجتماعی قیادت کرکے اپنے حقوق کی لڑائی جیت سکتے ہیں۔ عام طور پر ذرائع ابلاغ پر مسلط ماہرین اس کی نجکاری کا مسلسل پرچار کرتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن اب تک نجکاری نہ ہونے کی وجہ صرف یہی ہے کہ اس قومی صنعتی اثاثے، ، کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے صرف کباڑیوں اور پراپرٹی مافیا کے ہاتھوں ردی کی قیمت پر ہی فروخت کیا جا سکتا ہے۔ آج بین الاقوامی طور پر سٹیل کی زائد پیداوار کے عہد میں اس سٹیل مل کو فعال کرکے فولاد کی پیداوار کے ذریعے منافع حاصل کرنا شاید ممکن نہیں ہو گا۔ موجودہ نواز لیگ حکومت تو کلاسیکی سرمایہ دار ہیں، یہ بڑے شوق سے نجکاری کرتے ہیں۔ دوسری جانب اس کے ٹکڑے کرکے زمین اور اثاثے بیچنے کے عمل میں اس ملک کے حکمران طبقات کے مختلف دھڑوں کے درمیان سخت مقابلہ بازی ہے۔ ان دھڑوں کی نمائندگی مختلف مالیاتی سیاست کی پارٹیاں کر رہی ہیں لیکن حکمران طبقے کی ان پارٹیوں کے درمیان اس بندر بانٹ کی سودے بازی طے نہیں پا رہی۔ سٹیل ملز کی نجکاری اس کے بہیمانہ قتل کے مترادف ہو گی، لیکن ریاستی تحویل میں افسر شاہی نے بھی تو لوٹ مار مچار رکھی ہے۔ ان کی برطرفی کے بغیر کرپشن اور خساروں کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ سٹیل ملز کو بچانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اس کو فولاد بنانے والے ان مزدوروں کی اشتراکی ملکیت، انتظام اور کنٹرول میں دے دیا جائے۔ اس کے معنی سٹیل ملز کے حصص مزدوروں میں تقسیم کرنا نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے جن کرپٹ لیڈروں نے یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی پالیسی لانے کی کوشش کی تھی وہ دراصل مزدوروں میں وہ لالچ اور ہوس زر پیدا کرنے کی سازش تھی جو مزدور طبقے کے لیے زہر قاتل ہے، لیکن صرف سٹیل ملز کو اکیلے مزدوروں کے اشتراکی کنٹرول میں دے کراس منڈی کی معیشت میں کامیاب نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس ملک کی تمام صنعت، زراعت اور اقتصادیات کو ایک انقلابی تبدیلی کے ذریعے منصبوبہ بند معیشت میں استوار کرکے منافع خوری اور کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف کرپشن ختم ہو گی بلکہ محرومی، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا۔

Lal Khan

ڈاکٹر لال خان روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رُکن تھے۔ وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے انٹرنیشنل سیکرٹری ہیں اور تقریباً چار دہائیوں تک بائیں بازو کی تحریک اور انقلابی سیاست سے وابستہ رہے۔