تاریخ

’میں نے عمران سے کہا تھا سیاست کی بجائے ایکٹنگ کرو‘

لاہور (جدوجہد رپورٹ) طارق علی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ بطور مارکس وادی مفکر، ادیب، فلم میکر، مقرر اور طالب علم رہنما وہ پچاس سال سے عالمی سطح پر ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔

گذشتہ دنوں انگریزی جریدے ’پاکستان لیفٹ ریویو‘نے ان کے ساتھ ایک طویل انٹرویو شائع کیا۔ اس انٹرویو سے ایک مختصر اقتباس:

س: حالیہ سالوں میں پاکستان تحریک انصاف کے ابھار کو آپ کیسے دیکھتے ہیں۔ اس جماعت کو اقتدار تک پہنچانے میں کن طبقات کا ہاتھ ہے۔ اس جماعت کی سیاست کی کردار نگاری آپ کیسے کریں گے؟

طارق علی: پہلے تو مجھے کھل کر یہ اقرار کر لینے دیجئے کہ میں عمران خان کو ایک لمبے عرصے سے جانتا ہوں۔ جب عمران خان کرکٹ کھیلتے تھے، میں تب سے انہیں جانتا ہوں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں انہیں کافی پسند بھی کرتا تھا۔ ایک دفعہ، کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے سے کچھ عرصہ قبل، انہوں نے مجھے کھانے کی دعوت دی۔ میں نے ان کے ساتھ لنچ کیا۔ اس ملاقات میں انہوں نے کہا ”دیکھئے آپ تو کتابیں لکھتے رہیں گے آپ ادیب ہیں مگر ہم کھلاڑیوں کا کرئیر بہت مختصر ہوتا ہے۔ آپ کے خیال سے مجھے ریٹائرمنٹ کے بعد کیا کرنا چاہئے؟“۔

میں نے انہیں کہا کہ دیکھئے پاکستان میں ایک چیز نہیں ہے مگر اس کی اشد ضرورت ہے۔ ”ہمیں ایک نیشنل فلم انسٹی ٹیوٹ کی ضرورت ہے جس کے پلیٹ فارم سے ہم دنیا بھر سے لوگوں کو بلائیں اور وہ آ کر ہمیں فلم سازی کی تربیت دیں۔ بھارت میں بھی آرٹ فلمو ں نے اسی طرح ترقی کی۔ گو ہم بالی وڈ کا مقابلہ تو نہیں کر سکتے مگر اس انڈسٹری کو ترقی دینے کی شدید ضرورت ہے“۔

عمران خان نے کہا کہ آپ کی بات تو ٹھیک ہے مگر میرا اس سے کیا تعلق۔

میرا جواب تھا ”آپ ایکٹر بن جاؤ“۔

عمران خان نے کہا مجھے تو اداکاری آتی ہی نہیں۔

میرا جواب تھا کہ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں۔ ”امیتابھ بچن کو دیکھو۔ کون کہتا ہے کہ امیتابھ بچن ایک اداکار ہے؟“

عمران خان سمجھے میں ان کا مذاق اڑا رہا ہوں حالانکہ میں پوری سنجیدگی سے بات کر رہا تھا۔ پھر میں نے عمران خان سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ ان کا جواب تھا کہ وہ سیاست میں آنا چاہتے ہیں۔

میں نے انہیں وارننگ دی کہ پاکستانی سیاست کافی گندی ہے مگر عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ وہ کسی لبرل کی طرح بات کر رہے تھے۔ انہوں نے کینسر ہسپتال بنانے کا بھی ارادہ ظاہر کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ فیصلہ کر چکے ہیں تو ضرور کوشش کریں۔

جب انہوں نے پی ٹی آئی بنائی تو ان کا موڈ تھا کہ ملک کو جدید بنایا جائے۔ انہوں نے یونیورسٹی طلبہ اور خوشحال مڈل کلاس لوگوں میں حمایت حاصل کی۔ وہ ایک متحرک انسان تھے۔ لوگوں کو یہ بات اچھی لگی۔ پھر یہ بھی کہ اس جنریشن کو معلوم تھا یہ عمران خان ہے۔

لوگوں کو ان سے توقعات تھیں۔ مجھے بھی تھیں کیونکہ میں سچ میں یہ سمجھتا تھا کہ پاکستانی سیاست پر بھٹو اور شریف خاندان کی اجارہ داری ختم ہونی چاہئے۔ میرا خیال تھا ان دو خاندانوں کی اجارہ داری سیاست کے لئے اچھی نہیں۔

میرا خیال تھا کہ پی ٹی آئی ان کی اجارہ داری ختم کرے گی اور یہ جماعت جدت لا سکتی ہے۔ ایسا ہوا نہ ہو سکتا تھا۔ جو لوگ سیاست پر حاوی ہیں، یعنی طبقہ امرا (جہانگیر ترین وغیرہ)…وہ اس جماعت میں گھس آئے اور انہوں نے وہی کام جاری رکھا جو وہ شریف دور میں کیا کرتے تھے۔

اس کا ایک براہ راست نتیجہ تو یہ نکلے گا کہ اس نوع کی سیاست کے خلاف تیزی سے نفرت بڑھے گی۔ لوگ ان سے اکتا جائیں گے۔ اس لئے ہمیں ایک ایسی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے جو تحریک کی شکل میں ہو۔ روایتی طرز کی سیاسی جماعت نہ ہو۔ ایک ایسا متبادل جس پر لوگ یقین کریں۔

اسی لئے میں سمجھتا ہوں کہ پشتون تحفظ موومنٹ ایک زبردست اور نوبل پیش رفت ہے۔ چالیس سال ہو گئے پشتون حالت جنگ میں رہ رہے ہیں۔ وہ زبردست جبر کا سامنا کر رہے ہیں جس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ تحریک ایک زبردست پیش رفت ہے۔ ہم ایک ہی حکمت عملی بار بار تو نہیں دہرا سکتے مگر تحریکیں ایسے ہی کام کرتی ہیں اور ایسے ہی چلائی جاتی ہیں۔

رہی بات پی ٹی آئی کی تو اس کا اب انجام ہو چکا ہے۔ پنجاب میں انہوں نے ایک احمق اور بے وقوف شخص کو وزیر اعلیٰ بنا دیا ہے۔ کیا کوئی اس وزیر اعلیٰ کو سنجیدگی سے لیتا ہے؟ اس وزیر اعلیٰ کی نسبت تو کوئی گدھا بھی بہتر کام کر لیتا۔ میں پوری سنجیدگی سے یہ بات کر رہا ہوں، مذاق نہیں کر رہا۔

ویسے ضیا دور کی بات ہے۔ کسی نے کچھ گدھوں پر ضیا کا نام لکھ دیا۔ پولیس نے گدھے گرفتار کر لئے۔ سچ میں ایسا ہو اتھا۔

(جاری ہے)