خبریں/تبصرے

کوئٹہ: آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کرنے پر 50 طلبہ گرفتاری کے بعد رہا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) گذشتہ روز کوئٹہ میں آن لائن کلاسز اور فیسوں کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران پولیس نے پچاس سے زائد طلبا و طالبات کو حراست میں لے لیا تھا۔

گرفتار ہونے والوں میں سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے کنوینر مزمل خان کاکڑ اور دیگر طلبہ رہنماؤں سمیت دس خواتین بھی شامل تھیں۔

تمام ترقی پسند طلبہ تنظیموں نے طلبہ کے خلاف اس پولیس گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور آج دن بھر گرفتار طلبہ کی رہائی کے لئے بھر پور سوشل میڈیا کمپئین کی گئی اور ملک گیر احتجاج کی بھی کال دی گئی۔ لیکن پھر ریاست کو رات گئے تمام طلبہ کو رہا کرنا پڑا۔ 

اس موقع پر تمام طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں کا کہنا تھا  کہ وہ اپنے مطالبات منوانے تک  جدوجہد جاری رکھیں گے۔