پاکستان

وفاقی اور چار صوبائی حکومتیں مل کر زراعت پر صرف 121 ارب خرچ کریں گی

فاروق طارق

شعبہ زراعت پاکستان کی کل داخلی پیداوار کا پانچواں حصہ ہے۔حکومت نے بجٹ میں اس شعبہ میں ریلیف دینے اور ٹڈی دل سے نپٹنے کے لئے محض 10 ارب روپے موجودہ بجٹ میں مختص کئے ہیں۔اسکے علاوہ 12 ارب روپے فوڈ سکیورٹی اور عمومی طور پر زراعت کی ترقی کے لئے رکھے ہیں۔

24 صفحہ کی اس بجٹ دستاویز میں صرف دو سطریں فوڈ سیکورٹی، ٹڈی دل اور زراعت کے بارے میں ہیں۔ٹڈی دل کا حملہ اس دفعہ اتنا شدید ہے کہ فصلوں کا چالیس فیصد ان حملوں میں ضائع ہو سکتا ہے۔بجٹ میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ 10 ارب میں ٹڈی دل پر کتنا خرچ ہو گا اور ریلیف کے لئے کتنا حصہ رکھا گیا ہے۔

یہی صورتحال اس 12 ارب روپے کی ہے جس کے بارے میں بھی کوئی وضاحت نہیں کہ فوڈ سیکورٹی اور زرعی ترقی کے لئے کیا تناسب رکھا گیا ہے۔

پنجاب کے بجٹ میں شعبہ زراعت کے لئے کل رقم 53.76 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ اس کی تقسیم یوں ہے: جنگلات 8.73 ارب، 13.3 ارب لائیو سٹاک اور 31.73 ارب روپے زراعت کے لئے عمومی طور پر مختص کئے گئے ہیں۔ یہ رقم بنیادی طور پر زراعت کے موجودہ اخراجات کو ہی پورا کر سکتی ہے، اس میں سے زرعی ترقی پر رقم بمشکل ہی مہیا ہو سکے گی۔

سندھ حکومت نے زراعت پر 14.84 ارب روپے مختص کئے ہیں اس کے علاوہ کوالٹی بیجوں، کھادوں اور زرعی زہروں کے لئے 3 ارب روپے سبسڈی کے لئے رکھے ہیں ظاہر ہے یہ رقم سیدھی کارخانیداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو چلی جائے گی۔

خیبر پختونخوا نے زراعت کے لئے کل 17 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے جس میں 10 ارب زرعی ترقی اور 7 ارب موجودہ اخراجات کے لئے رکھے ہیں۔بلوچستان نے زراعت کے لئے کل 11 ارب روپے مختص کئے ہیں۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان، دونوں حکومتیں صوبائی بجٹ میں فوڈ سیکورٹی اور ٹڈی دل کے لئے رکھی رقم بارے لب کشائی کرنے سے گریزاں ہیں۔

زراعت کے لئے کل فیڈرل اور صوبائی بجٹ

فیڈریشن: 22 ارب
پنجاب: 53.76 ارب
سندھ:17.84 ارب
خیبر پختونخوا: 17 ارب
بلوچستان: 11 ارب

بجٹ 2020 میں زراعت کے لئے کل رقم: 121.6 ارب روپے

2020 کا وفاقی بجٹ 7100 ارب روپے کا ہے اس میں سے زراعت پر صوبائی اور وفاقی بجٹ ملا کر صرف 121.6 ارب روپے خرچ کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت نے بجٹ میں زرعی ترقی کا ہدف 3.50 فیصد رکھا ہے۔

کل وفاقی بجٹ کا 60 فیصد حصہ تو صرف دو شقوں میں چلا جائے گا۔ بجٹ کا 41.2 فیصد غیر ملکی قرضہ جات اور اس پر سود کی ادائیگی اور 18 فیصد فوجی اخراجات پر صرف ہوں گے۔ اسکے علاوہ 13.3 فیصد سول حکومت کو چلانے اور پنشن ادائیگیوں پر صرف ہو گا۔

یوں 2020 کے بجٹ میں زراعت پر مختص رقم نہ ہونے کے مترادف ہے اور جو رقم رکھی گئی وہ بھی یا تو تنخواہوں پر خرچ ہو جائے گی یا پھر سبسڈی کے نام پر کھاد، بیج اور زرعی زہروں کی فیکٹریوں کے مالکان لے اڑیں گے۔

ٹڈی دل کے نام حکومت نے ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے 380 ملین ڈالر کا قرضہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ زراعت پر کل بجٹ جو بجٹ میں مختص ہے وہ 742 ملین ڈالر ہے۔ اب آپ اندازہ کر لیں کہ یہ ٹڈی دل کے نام پر لی جانے والی رقم سے بھی پیسہ ہڑپ کر کے دیگر شقوں میں لگائیں گے۔

یہ واضح ہے کہ حکومت زراعت کی ترقی بارے سارے منصوبے فراموش کر چکی ہے۔ اب کسانوں کو لالی پاپ پر ہی ٹرخایا جائے گا۔ یہ ایک نااہل حکومت ہے جو ہر شعبہ کی تباہی کا باعث بن رہی ہے۔

زراعت کو بھی یہ تباہ کر کے رکھیں گے اور کسانوں کی لوٹ مار کے بے شمار مواقع یہ بڑے کارخانے داروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو فراہم کریں گے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔