نقطہ نظر

اسرائیلی منصوبہ حقیقت سے انکار اور رعونت پر مبنی ہے: صائب اراکات

قیصر عباس

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی ایگزیٹو کمیٹی کے سیکریٹری جنرل صائب اراکات نے کہاہے کہ غربِ اردن کے علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا نیا منصوبہ نیتن یاہو کے پروگرام کی ہو بہو کاپی ہے جو حقیقت سے انکار اور رعونت کے سوا کچھ نہیں۔

صائب اراکات نے، جو خطے میں امن کے قیام کے لئے بین الاقوامی مذاکرات کا حصہ بھی رہے ہیں، واشنگٹن ڈی سی میں عرب سینٹر کے زیراہتمام ایک آن لائن مذاکرے میں فلسطین سے شرکت کرتے ہوئے کہا: فلسطینی عوام امن چاہتے ہیں لیکن نیا منصوبہ فلسطینی باشندوں کی خواہشوں اور خطے میں امن کے خلاف نیتن یاہو کی پالیسیوں کا عکس ہے۔

اسرائیل نواز حلقوں کی جانب سے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے جن میں کہا جاتا ہے کہ فلسطینی باشندے یہودیوں کی مزاحمت کرتے ہیں اور مذہبی جنگ چاہتے ہیں، اراکات نے کہاکہ”فلسطینی ہونے کی حیثیت سے ہم یہودیت کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم اسرائیل سے اس لئے برسرِپیکار نہیں ہیں کہ یہودیوں کی مقدس کتاب میں کیا لکھاہے، ہمارا اسرائیل سے اختلاف سیاسی ہے۔ اسرائیلی اقدامات سراسر مذہبی ہم آہنگی کے خلاف ہیں جب کہ تمام مذاہب جیو اور جینے دو کے اصول پر امن کے خواہاں ہیں۔ فلسطینی ہرگز یہودیوں یا عیسائی باشندوں کے خلاف نہیں ہیں بلکہ وہ اسرائیل کی فلسطین دشمن سیاست کے خلاف ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ امن معاہد ہ فلسطینیوں کے حق میں ہے اور وہ اس کی حمائت کریں گے۔“

ان کا کہنا تھا کہ ہم پوری دنیا سے اس سلسلے میں اپیل کررہے ہیں کہ وہ فلسطینی علاقوں کے انضمام کے اس منصوبے کو مکمل طورپر رد کرے جو تمام گزشتہ معاہدوں اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ عالمی رائے عامہ بھی اس منصوبے کے خلاف ہے لیکن ابھی تک ان کی جانب سے یہ پیغام واضح طور پر نہیں آیاکہ اگر اس منصوبے پر عمل درآمد ہوا تو نتائج اسرائیل کے حق میں نہیں ہوں گے۔

صائب اراکات نے کہاکہ ”ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا دو ریاستی بنیادوں پر امن کا موقف ہماری پوزیشن نہیں بلکہ امن کی خاطر ہمارا سمجھوتہ ہے جو ہم نے اپنے لوگوں کی بہبود کے لئے مجبوراً قبول کیاہے لیکن نیتن یاہو کی موجودہ پالیسیاں اس مسئلے کے دو ریاستی حل کو پس پشت ڈال رہی ہیں۔“

فلسطینی رہنما نے کہاکہ امریکہ میں رائے عامہ اب اسرائیل کے بارے میں بدل رہی ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ”امریکہ کے ا ٓئندہ انتخاب میں جوبائیڈن صدر منتخب ہوئے تو انہیں امید ہے کہ صدر ٹرمپ کی اسرائیل نواز پالیسیوں میں کچھ تبدیلی ضرور آئے گی۔ ان کے مطابق فلسطینیوں پر 48 طرح کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن میں واشنگٹن ڈی سی میں پی ایل او کے دفتر کو بند کرنا، فلسطینی ہسپتالوں کی فنڈنگ منسوخ کرنا اور رفیوجی مراکز کو بند کر نے کے اقدامات شامل ہیں۔ ان اقدامات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔“

نئے اسرائیلی منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے تحت فلسطین کی سرحدوں کو عرب ملکوں سے کاٹ دیا جائے گا، فلسطین کے 45 گاؤں اور 160,000 آبادی اسرائیل میں ضم کردی جا ئے گی اور 17 مزید اسرائیلی آبادیاں قائم کی جائیں گی۔ منصوبے کے تحت یروشلم کو نیا اسرائیلی دارالحکومت بنایا جائے گا اوراس سے دور ایک نیا فلسطینی صدرمقام بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ فلسطینی باشندوں کو ملک میں داخلے کے لئے ویزے کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا اگرچہ منصوبے میں ایک فلسطینی ریاست کا ذکرموجود ہے لیکن یہ ایک سراسر دھوکہ ہوگا کیوں کہ اس ریاست میں فلسطینیوں کووہ یکساں سیاسی، اقتصادی اور بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوں گے جو یہودی آبادی کو حاصل ہیں، ان مجوزہ اقدامات کے ذریعے اسرائیلی حکومت کو فلسطینی علاقوں میں مکمل انتظامی، فوجی اور اقتصادی کنٹرول حاصل ہوگا۔

خطے میں امن کے قیام پر انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ ”فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کا قیام آنے والے وقت کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ ایسا وقت آج نہیں تو کل ضرور آئے گا۔ لیکن مجھے خدشہ ہے کہ اگر ہم امن جلد قائم نہ کرسکے تو بہت جانی اور اقتصادی نقصان ہوگا۔“ انہوں نے کہاکہ عرب ممالک میں جمہوریت کے قیام کے ساتھ ساتھ نئے اقتصادی، تعلیمی اور سماجی ڈھانچوں کی از سرِنو تشکیل بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔