طنز و مزاح

وزارت بہترین انتقام ہے

عدنان فاروق

بابا جان آداب۔

ضیا آمریت نے آپ کو جلائے وطن کیا۔ آپ کا یہ فرمانبردار بیٹا آپ کو رسوائے وطن کر رہا ہے کیونکہ میرا ماننا ہے کہ وزارت بہترین انتقام ہے۔ اگر آپ کو میری بات کا یقین نہیں آتا تو بھٹو خاندان کی تاریخ پر نظر دوڑا کر دیکھ لیجئے۔ ویسے بھی آپ کو ہمیشہ تاریخ سے گہرا شغف رہا ہے۔

بے نظیر بھٹو نے پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنتے ہی فوج کو تمغہ جمہوریت دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ فوج نے بھی یہ تمغہ بلا چون و چرا قبول کر لیا لیکن ضیا الحق تارا مسیح کی مدد سے وہ انتقام نہ لے سکا جو بے نظیر نے اپنی ڈیڑھ سالہ وزارت میں بھٹو سے لیا۔ رہی سہی کسر آصف زرداری نے نکال دی۔

”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے“…نوجوان پھانسی گھاٹ یا شاہی قلعے جاتے ہوئے پکارتے تھے۔ آج کل فیس بک پر اکثر میمز پر یہ نعرہ لکھا ہو تا ہے۔ خیر چھوڑئیے پیپلز پارٹی کو۔ آپ کے برخوردار نے بھی وزارت اطلاعات کی شکل میں آپ کی شاعری اور شخصیت کے جو انتقام لئے ہیں، کم نہیں۔

دیکھئے نہ! ایسا پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ایک خبر جو کہیں رپورٹ نہیں ہوئی، اس کی تردید دو دن سے بریکنگ نیوز ہے۔

انٹرویو کی شکل میں، کامران خان کی مدد سے، یہ منفرد صنف صحافت بھی آپ کے اس برخوردار نے متعارف کرائی ہے کہ صحافی سوال کرنے کی بجائے جواب دیتا ہے اور وزیر اعظم مبینہ انٹرویو کے دوران جواب دینے کی بجائے لقمے دیتا ہے۔

بابا جان! آپ نے جلا وطنیاں اور بے روزگاریاں کاٹ کر جس طرح ہمارا بچپن خراب کیا…میں اس کا بدلہ اس وزارت کی شکل میں آپ سے لے رہا ہوں۔

ابھی تو آپ اس دن کا انتظار کیجئے جب آپ کی کتاب کا نیا ایڈیشن آئے گا۔ اس نئے ایڈیشن میں آپ کی ایک بدنام نظم کا متن بدل کر ”پیشہ ور محافظو…وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں“ کر دیا جائے گا۔

                                                                                                                                                                                           فقط۔

آپ کا کامیاب بیٹا

                                                                                                                                                شبلی

Adnan Farooq

عدنان فاروق ایک صحافی اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں۔