اداریہ

پی ڈی ایم کی قیادت مولانا کو سونپ کر حزبِ اختلاف نے خواتین اور اقلیتوں سے دھوکا کیا ہے

اداریہ جدوجہد

اندریں حالات پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تشکیل بہر حال ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ ایک ہفتے کے اندر اندر دو دفعہ کل جماعتی اجلاسوں کا انعقاد جس نے اس سیاسی اتحاد کو جنم دیا ملک میں قائم خوف کی فضا کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔

یہ ایک خوش آئند پیش رفت تھی۔

گو ہمیں اس اتحاد میں کوئی زیادہ خوش فہمی نہیں ہے۔ اتحاد کی تشکیل کا اعلان ہوتے ہی جی ایچ کیو میں ہونے والے خفیہ اجلاسوں کی خبر نے اس اتحاد بارے شکوک و شبہات کو بھی جنم دیا۔ ایسا ہونا لازمی امر اس لئے بھی تھا کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں موقع پرستی کے لئے مشہور ہیں۔ پیپلز پارٹی ہو یا نواز لیگ، اقتدار میں آنے کے لئے یہ جماعتیں کسی بھی اصول کو بیچ سکتی ہیں۔ اس مسئلے پر یہ تحریک انصاف سے قطعی مختلف نہیں۔ مذہبی اور پارلیمانی سیاست کرنے والے قوم پرست جماعتوں کے اہم دھڑے بھی یہی کچھ کرتے آ رہے ہیں۔

ان تمام باتوں کے باوجود، اس حقیقت کے پیش نظر کہ موجودہ حکومت اور اس کے سرپرست جو ہائبرڈ (Hybrid) نظام چلا رہے ہیں وہ عوام میں انتہائی غیر مقبول ہے، پی ڈی ایم کسی عوامی تحریک کا پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔

اس لئے اس پلیٹ فارم کی قیادت مولانا فضل الرحمن کو سونپ دینا سیاسی بچگانہ پن، موقع پرستی اور اس سے بھی اہم یہ کہ خواتین اور مذہبی اقلیتوں سے غداری کے سوا کچھ نہیں۔

مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور دیگر قوتوں نے مولانا کو یہ قیادت اس لئے سونپی ہے تا کہ جمعیت علمائے اسلام اس تحریک کا ہراؤل بنے، جو نقصان ہو، اِس کا ہو اور دیگر جماعتیں فوج کے ساتھ براہ راست ٹکر لینے سے بچ سکیں۔

اس کی دوسری وجہ حزبِ اختلاف کی بڑی جماعتوں میں خود اعتمادی کی شدید کمی ہے۔ نواز لیگ کو امید ہے نہ پی پی پی کو کہ ان کے کہنے پر لوگ سڑکوں پر آئیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام بارے سب کو یقین ہے کہ وہ اپنے مدرسہ نیٹ ورک کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو متحرک کر لیں گے۔

یہ منظر نامہ بے اصولی اور سیاسی بچگانہ پن کے سوا کچھ نہیں۔ لوگ سڑکوں پر نکلیں گے اگر مین سٹریم قیادت خود آگے آئے گی۔ دوسرا، لوگوں کو متحرک کرنے کے لئے مزدوروں،کسانوں، طلبہ (جن کی اکثریت فیسوں میں اضافے سے شدید بے چین ہے) اورخواتین جو آٹھ مارچ کے موقع پر اپنی طاقت کا مسلسل اظہار کر رہی ہیں…کے معاشی و سماجی مطالبات کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

بد قسمتی سے ایسی کوئی سوچ اور حکمت عملی دکھائی نہیں دے رہی۔

الٹا مذہبی جنونی قوتوں کو اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کا لائسنس دے دیا گیا ہے۔ کوئی کامیاب تحریک چلے نہ چلے، مولانا فضل الرحمٰن اب مین سٹریم رہیں گے۔ اگر تحریک چلی اور کسی طرح کی کامیابی حاصل کر پائی تو مولانا فضل الرحمٰن اگلے سیٹ اپ میں حصہ بقدر جثہ کے طلب گار ہوں گے (اس کے علاوہ فوج سے لین دین کے لئے ان کی طاقت میں اضافہ ہوگا اور فوج سے ان کے دیرینہ مراسم ہیں)۔

گویا ہر صورت مولانا فضل الرحمن کامیاب رہیں گے۔ مولانا کی سیاسی کامیابیوں کا مطلب ہے خواتین حقوق او ان کی جدوجہد کے دھچکا، مذہبی اقلیتوں کے خلاف جبر اور ان کی بیگانگی میں مزید اضافہ اور فرقہ بازی میں شدیدتیزی۔

۱۔ مولانا اور ان کی جماعت آٹھ مارچ تحریک کے شدید خلاف ہیں۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے ان کی جماعت کے ایک رکن نے تو ’میرا جسم میری مرضی‘ کے نعرے کی بنیاد پر ریپ کی وکالت کی۔

۲۔ تحریک انصاف کے خلاف جذبات بھڑکانے کے لئے مولانا فضل الرحمن عمران خان کو یہودیوں اور احمدیوں کا ایجنٹ قرار دیتے آئے ہیں۔ پچھلے سال جب جمعیت علمائے اسلام کے دھرنے والے غبارے سے ہوا نکلنے لگی تو مولانا اور ان کے ہم رکاب احمدیوں اور بلاسفیمی کے بارے میں تقاریر کرنے لگے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک بنیاد پرست جماعت مذہبی اقلیتوں پر حملے نہ کرے۔ یہ جماعتیں رد انقلابی، رجعتی اور سٹیٹس کو قائم رکھنے والی جماعتیں ہیں۔ ان کو قیادت سونپنے کا مطلب ہے آپ اپنے پاوں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔

۳۔ گذشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے ملک میں فرقہ وارانہ گروہوں نے بہت بڑے جلسے کئے۔ ان گروہوں کے ساتھ جمعیت کے گہرے نظریاتی رشتے ہیں۔ یہ طے ہے کہ مولانا کی طاقت میں اضافے سے ان فرقہ وارانہ گروہوں کی طاقت میں اضافہ ہو گا۔ جس طرح بنیاد پرسے جماعتیں اقلیت دشمنی اور عورت دشمنی کا ایجنڈا آگے بڑھاتی ہیں، اسی طرح فرقہ واریت بھی ان کی سیاست میں اِن بلٹ (In Built) ہوتی ہے۔

مندرجہ بالا تینوں باتوں کی وجہ سے محنت کش طبقہ تقسیم ہوتا ہے اور یہ تقسیم محنت کش طبقے کو کمزور کرتی ہے۔

رہی یہ بات کہ مولانا بظاہر جمہوریت کے لئے فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں تو اسے سیاست سے لاعلمی ہی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان (بلکہ مسلم دنیا) کی دیگر بنیاد پرست مذہبی جماعتوں کی طرح جمعیت علمائے اسلام بھی اتنی ہی جمہوریت پسند ہے جتنی ہٹلر کی نازی پارٹی تھی یا بی جے پی ہے۔ یہ جماعتیں تب تک ’جمہوریت پسند ہیں‘جب تک ووٹر ان کو ووٹ دے رہے ہوں۔

پی ڈی ایم میں شامل ایسے دھڑے جو خواتین، اقلیتوں اور محکوم قومیتوں کی بات کرتے آئے ہیں…انہیں چاہئے کہ وہ باقاعدہ ان محکوم طبقات کی کھل کر بات کریں، مولانا سے واضح طور پر کہا جائے کہ ان طبقات کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

اسی طرح ہماری ٹریڈ یونین تحریک، سماجی تنظیموں، کسان نمائندوں، طلبہ اور عام شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ پی ڈی ایم سے مطالبہ کریں کہ جمہوریت کے نام پر خواتین، محنت کشوں، محکوم قوموں اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک ختم ہو گا اور ان کے حقوق کا برابر تحفظ ہو گا۔

ورنہ اگر ’وسیع تر اتحاد اور جمہوریت‘ کے نام پر ان مطالبات کو پس پشت ڈالا گیا تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں بحال ہونے والی جمہوریت موجودہ ہائبرڈ جمہوریت سے بھی زیادہ تباہ کن ہو گی۔