پاکستان

پولیس کی بغاوت: نئی صف بندیوں کا پیش خیمہ

فاروق طارق

جو کچھ پچھلے تین دنوں میں ہوا، وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کم ہی ہوا ہے۔ آئی جی اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کا رینجرز کے ہاتھوں اغوا، تالے توڑ کر ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور اسی شام ضمانت پر رہائی، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں کی کھل کر اس اغوا اور گرفتاری کے خلاف پریس کانفرنس، سندھ حکومت کی ہچکچاہٹ کے بعد بلاول بھٹو کا واضح سٹینڈ کہ اس قسم کے واقعہ کو برداشت نہیں کیا جائے گا، پولیس افسران کی چھٹی کے نام پر بغاوت اور بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس کے فوری بعد آرمی چیف کا فوری نوٹس لینا اہم اور انہونے واقعات ہیں۔

ریاستی ادارے آپس میں دست و گریبان ہیں، تضادات بڑھ رہے ہیں، پولیس کے اعلیٰ افسران کا اغوا اسی بات کی علامت تھا کہ ایک ادارہ، رینجرز، جو چاہے کر لے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اعلیٰ پولیس افسران نے اب اپنے ساتھ ذلت آمیز سلوک کے خلاف چھٹی کے نام پر بغاوت کر دی ہے۔

رینجرز والے ایسا کرنے سے قبل یہ بھول گئے کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری سے چند گھنٹے قبل ہی لاکھوں افراد وفاقی حکومت کے خلاف ایک جگہ اکٹھے ہو کر حکومت مخالف اور حکومت کی غیر آئینی پشت پناہی کرنے والے اداروں کے خلاف علم بغاوت بلند کر چکے تھے۔

ابھی تو تحریک کا آغاز بھی نہیں ہوا، صرف جلسے ہو رہے ہیں…مگر ٹیمپو بن رہا ہے، موڈ حکومت مخالف ہو رہا ہے۔ مہنگائی نے لوگوں کو ایک ایسی سرکاری اپوزیشن کے پیچھے لا کھڑا کیا ہے جس کا ماضی بھی کوئی مثالی نہیں۔

حکومت حد درجہ غیر مقبول ہے۔ شائد پاکستان کی تاریخ میں ایسی نااہل حکومت اس سے قبل کبھی اقتدار میں آئی ہو۔ ایک کے بعد دوسرا سیاسی بلنڈر کر رہی ہے۔ پہلے گندم باہر بھجوانے کی اجازت دی اور چینی بھی اور اس پر طرہ یہ کہ باہر بھجوانے کے لئے ریاستی امداد بھی اربوں روپے میں دی اور پھر گندم اور چینی در آمد کرنی پڑی جس وجہ سے چینی 55 روپے سے 100 سے اوپر اور گندم 35 روپے کلو سے 57 روپے کلو تک جا پہنچی۔

ایسی سامراجی ایجنٹ حکومت جس نے کرونا کے باوجود 2019ء کی نسبت 2020ء میں 25 فیصد غیر ملکی قرضہ زیادہ ادا کیا…اس وقت تو قرضہ دینے سے انکار کرنا چاہئے تھا…اس بحران کے وقت انہوں نے 13 ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں کی واپسی میں دیا۔ اسی کام کے لئے تو حفیظ شیخ آیا تھا۔

گوجرانوالہ جلسے کے بعد جس قسم کی تلخ اور چبھتی زبان عمران خان نے استعمال کی اس سے کراچی کے جلسے میں لوگوں کی شمولیت اور بڑھ گئی۔ نااہل وزرا کا ٹولہ دن رات جھوٹ بولتا ہے، دن کو رات اور رات کو دن کہتا ہے، گوجرانوالہ جلسہ شروع بھی نہ ہوا تھا اور یہ اس کو ناکام کہہ رہے تھے۔ سٹیج بارے جھوٹ بول رہے تھے۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پہلے ہی جلسے نے عمران حکومت کو کافی حد تک بوکھلا کے رکھ دیاتھا۔

گوجرانوالہ جلسے کے بعد عمران خان کی ٹائیگر فورس سے خطاب میں ان کی بوکھلاہٹ اور جھنجلاہٹ بہت واضح تھی۔ انکی جانب سے مزید گرفتاریوں کی دھمکیاں، گندی جیلوں میں بند رکھنا اور ایک ’نئے عمران‘ کی نوید انکی گوجرانوالہ جلسہ میں میاں نواز شریف کی جانب سے آرمی چیف سے سوالات اور انکے خلاف الزامات کا جواب تھا۔ عمران خان نے آرمی چیف پر تنقید کو ادارے پر تنقید قرار دیا اور کہا کہ یہ بھارت کی زبان بول رہے ہیں۔ نواز شریف کی ایک بے باک تقریر نے موڈ ہی بدل دیا۔ ڈر اور خوف نفرت اور جدوجہد میں تبدیل ہو رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ گوجرانوالہ جلسے میں عوام کی بھرپور شرکت نے موجودہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا پہلا بڑا اظہار کیا تھا۔ کراچی کا جلسہ گوجرانوالہ سے بھی کہیں بڑا تھا۔ بار بار وہاں موجود معروف اینکرز لوگوں سے بات چیت کے بعد اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ لوگ مہنگائی سے تنگ ہیں اور ہر کوئی مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا۔

حامد میر کے بقول جلسے میں لوگوں کو عمران خان کھینچ کر لایا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر عمران کی یہ نیو لبرل پالیسیاں نہ ہوتیں جن کی وجہ سے مہنگائی ہوئی تو اتنی بڑی تعداد میں لوگ شریک نہ ہوتے۔ پی ڈی ایم کے رہنماؤں کی تقریریں بھی بار بار عوامی مسائل کا ذکر کر رہی تھیں۔

لگتا ہے کہ عمران خان حکومت کے خاتمے کا آغاز ہے۔ مشکل ہے کہ یہ نااہل ٹولہ پانچ سال پورے کرے۔ کرونا کے باعث جو عالمی معاشی بحران دنیا کی تمام معیشتوں کو درپیش ہے اس کا جواب عمران خان حکومت نیو لبرل ایجنڈے پر عمل درآمد کو تیز کر کے دے رہی ہے۔ اسی بناپر مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا اور نااہل ٹولے کی بد دماغی اور مغرورانہ رویوں اور طریقوں نے ان کی غیر مقبولیت کو مزید تیز کیا ہے۔ بار بار یہ کہنا کہ فوج ہمارے ساتھ ہے اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ اقتدار کے دن پورے کریں گے۔ سوچ بدلتے وقت نہیں لگتا۔ جب سب پر واضح ہو جائے کہ عوام بھی ان کے ساتھ نہیں ہے، جس کا اظہار جلسوں سے ہو رہا ہے تو پھر حکمت عملی بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔

کیا مارشل لگ سکتا ہے؟

یہ مشکل آپشن ہے۔ اسٹیبلشمنٹ باجوہ ڈاکٹرائن پر کام کر رہی ہے جو کھل کر اقتدار کی بجائے پیچھے سے باگیں کھینچنے کو ترجیح دینے کا دوسرا نام ہے۔ مگر یہ ڈاکٹرائن بھی اب کامیاب نظر نہیں آتی۔ معاشی بحران اس قدر تیز ہے کہ کوئی سیاسی ترکیب کام نہیں آ رہی، تدبیریں الٹی پڑ رہی ہیں۔

یہ انتہائی بیوقفانہ حرکت ہے کہ آئی جی کو اغوا کر کے مریم نواز کو نیچا دکھانے کے لئے اس کے کمرے کے تالے توڑ کر اس کے خاوند کو گرفتار کیا جائے، یہ بات ان کے گلے پڑ گئی ہے۔ اگر بلاول بھٹو گذشتہ روز کھل کربات نہ کرتے تو پی ڈی ایم بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی تھی۔ حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ گورنر راج لگانے کی بے وقوفی بھی ہو سکتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے پینترے بھی بدل سکتی ہے۔ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تضاد بھی سامنے آسکتے ہیں۔

اس ساری صورتحال میں بائیں بازو کو تماشا دیکھنے کی بجائے اس میں مداخلت کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے انڈیپنڈنٹ ایکشن لینے کی فوری ضرورت ہے۔ اسی کے پیش نظر حقوق خلق موومنٹ نے 8 نومبر کو لاہور میں ایک بڑی ریلی نکالنے کا اعلان کر دیا ہے اور طلبہ نے 27 نومبر کو لال لال لہرانے کا عمل دہرانے کے لئے ایک بڑی ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔