خبریں/تبصرے

ایڈوکیٹ غفران احد ایک بار پھر بنیاد پرستوں کے حملے کی زد میں

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین

7 نومبر کی شام ملاکنڈ بار ایسوسی ایشن کے نو منتخب صدر، پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے مرکزی نائب صدر اور پیپلز لائرز فورم کے مرکزی رہنما ایڈوکیٹ غفران احد پر ان کے آبائی علاقہ الہ ڈھنڈ میں قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ ملزمان کی طرف سے غفران احد پر فائر کی گئی تین گولیوں میں سے ایک تاحال ان کی ران میں پیوست ہے اور وہ پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج ہیں۔

ویسے تو مملکت خداداد میں قانونی عملداری ایک ڈھکوسلہ بن کر رہ گئی ہے لیکن حالیہ واقع نے ثابت کیا ہے کہ کیسے کوئی گلی کے راستے کے تنازعہ پر اپنے مخالف پر کفر جیسے سنگین الزام لگا کر اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر سکتا ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ سال سے غفران احد کے محلے کے نکڑ پر موجود ایک اوباش اور ضدی شخص نے پورے محلے کی ناک میں دم کر رکھا ہے اور گلی کی چوڑائی جو سرکاری احکامات کے مطابق 12 فٹ طے پائی کے باجود اہل علاقہ کو تنگ کرنے کی غرض سے مختلف رکاوٹوں کے ذریعے گلی پر قبضے جمانے کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ حتیٰ کہ یہی زمین کا ٹکڑا بیچنے کے بعد بھی اہل علاقہ پر اپنی دھونس و بدمعاشی جمانے آ پہنچتا ہے۔ واقعہ کی رات بھی پہلے ان اوباش نوجوانوں نے لوگوں کا راستہ روکا اور پھر جب اہل علاقہ سے معمر افراد اور غفران احد (جو اس علاقہ کے سابق ناظم بھی رہ چکے ہیں) اور ان کے گھر کے نوجوان بات کرنے کی غرض سے پہنچے تو ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی گئی۔ جن میں غفران احد اور ان کے چھوٹے بھائی شدید زخمی ہوئے اور باقیوں کو بھی چوٹیں آئیں جو ابھی پشاور میں زیر علاج ہیں۔

اسی تنازعے کے چلتے مخالفین نے ایڈوکیٹ غفران احد کے خلاف مذہبی منافرت کے اس ہتھیار کا استعمال کیا جو پاکستان کے عوام دشمن حلقوں میں مقبول عام ہے اور یہاں ریاستی مشینری کی مکمل خاموشی یا ملی بھگت کی وجہ سے انتہائی کارآمد بھی ہے۔ ان کے خلاف مذہبی بنیادوں پر جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ یہ سلسلہ بھی آج کا نہیں بلکہ 2014ء میں بھی ان کے گھر پر مذہبی بنیاد پرستوں کی طرف سے دستی بم کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا اور ان کے قتل کے فتوے جاری کیے گئے تھے۔

کامریڈ غفران احد کی ساری زندگی مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں کی معاشی و سماجی آزادی اور نجات کی لڑائی پر مبنی ہے۔ محنت کشوں اور محکوم طبقات کے استحصال کے خلاف وہ ہمیشہ کمر بستہ نظر آتے ہیں۔ غفران احد کے دادا ’غازی عمرا خان آف جنڈول‘ برطانوی جنگی دستاویزات میں آج بھی ”افغان نپولین“ کے نام سے جانے جاتے ہیں جن کی برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد کی درخشاں تاریخ رہی ہے۔ جبر و استحصال کے خلاف ان کے خاندان کی قربانیوں کی طویل داستان ہے۔ لیکن سرمایہ داری، سامراجیت اور ملائیت کے خلاف جدوجہد پر کامریڈ غفران احد کا یقین اب بھی غیر متزلزل ہے۔ جس کا اظہار ہسپتال کے بستر سے جاری ان کے ویڈیو پیغام میں ہوتا ہے جو انہوں نے اپنے انقلابی ساتھیوں کے نام جاری کیا اور ہاتھ بلند کر کے انہوں نے اپنے ساتھیوں اور محنت کشوں کو یہی پیغام دیا ہے کہ ظلم کے خلاف لڑائی جاری رہے گی۔

پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کمپئین، بیروزگار نوجوان تحریک، ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ اور جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے انقلابی ساتھیوں سمیت ملک بھر کی ترقی پسند تنظیموں اور وکلا برادری نے غفران احد کے خلاف عوام دشمن اور بنیاد پرست عناصر کے اس بزدلانہ اقدام کی شدید مخالفت کی ہے اور مجرمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر ان کے ساتھیوں اور ہمدوروں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر ان پر گولی چلانے اور سنگین نوعیت کے فتوے جاری کرنے والے رجعتی عناصر کے خلاف قانونی کاروائی نہ کی گئی تو پورے ملک میں احتجاج کیا جائے گا اور حالات کی تمام تر ذمہ داری مقامی، صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر عائد ہو گی۔