خبریں/تبصرے

’نامعلوم طلبہ‘ کے کہنے پر زکریا یونیورسٹی نے ماحولیات پر میرا سیمینار منسوخ کر دیا: عمار علی جان

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پروفیسر ڈاکٹر عمار علی جان نے کہا ہے کہ طلبہ نے انہیں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں ماحولیاتی تبدیلی کے اہم مسئلہ پر خطاب کیلئے دعوت دی تھی تاہم ”نامعلوم طلبہ“ کی طرف سے مجھے ریاست مخالف قرار دیکر ایک خط پھیلایا گیا، جس کی وجہ سے یہ پروگرام ملتوی کر دیا گیا ہے، طلبہ اور مزدوروں کے حقوق کے بعد اب ماحولیاتی تبدیلی بھی اس حکومت کیلئے غیر ملکی ایجنڈا بن گیا ہے۔

یہ بیان انہوں نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر منگل کے روز اس وقت جاری کیا جب انہیں پروگرام کے ملتوی ہونے کی اطلاع دی گئی۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پروگریسیو سٹوڈنٹس کلیکٹو کے زیر اہتمام ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق ایک سیمینار کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ نامعلوم طلبہ کی جانب سے پھیلائے گئے ایک خط کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے سیمینار کومنسوخ کر دیا۔ مذکورہ خط میں یہ لکھا گیا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹرعمار علی جان نظریہ پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور انہیں ریاست مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے مختلف جامعات سے نکالا گیا ہے، انہیں پروگرام میں شرکت کی اجازت دی گئی تو حالات خراب ہونگے لہٰذا عمار علی جان کا یونیورسٹی میں داخلہ بند کیا جائے۔

یہ خط پروگرام سے ایک روز قبل یونیورسٹی میں پھیلایا گیا اور یونیورسٹی انتظامیہ تک پہنچایا گیا تھا۔ ایک نامعلوم خط کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ نے ماحولیاتی مسئلہ پر ہونیوالا سیمینار منسوخ کروا دیا۔

پروفیسر ڈاکٹر عمار علی جان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ہماری جامعات کو جس طرح جیلوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے وہ ہمارے دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ففتھ جنریشن وارفیئر“ کے نام پر یونیورسٹی کیمپس میں تنقیدی سوچ کو ختم کر دیا گیا ہے اور فیصلہ سازی کی طاقت پوشیدہ قوتوں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اس صورتحال نے دائیں بازو کی قوتوں کو ایک کھلا میدان فراہم کیا ہے جو کیمپس میں بحث کے عمل کو محدود کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے معاشرے کو زیادہ رجعت پسند اور تنگ نظر بنانا چاہتے ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا: ”مجھے دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں بات کرنے کیلئے مدعو کیاجاتا ہے لیکن پاکستان کے کیمپسوں میں خطاب کرنے کا اہل نہیں سمجھا جاتا۔ ہمدرد اساتذہ کو طلبہ سے دور کر کے ایک ایسی نسل تیار کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جو صرف اطاعت گزار ہو۔ یہ ہائبرڈ حکمرانی ان نوجوانوں کو خاموش نہیں کر سکے گی جو اپنے حقوق سے زیادہ واقف ہیں اور حقوق کیلئے لڑنے کیلئے زیادہ پر عزم بھی“۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آنے والے دنوں میں جلد ملتان کا دورہ کرینگے۔ تبدیلی کی جنگ لڑنے میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ ملتان میں پروگریسو اسٹوڈنٹس کلیکٹو میں شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا: ”منصفانہ اور شفاف نظام تعلیم کیلئے لڑائی ایک طویل اور مشکل کام ہے۔ یہ ایک ایسی لڑائی ہے جس سے ہم دستبردار نہیں ہو سکتے، کیونکہ ہمارے ملک کا مستقبل اس پر منحصر ہے“۔