تاریخ

”پنجاب کا رابن ہڈ“

ڈاکٹر مظہر عباس

صدیوں تک عبداللہ بھٹی جسے لوگ دْلہ بھٹی کے نام سے جانتے ہیں، ڈھاڈھیوں کی یادداشتوں کی بدولت لوگوں کے قلب و ذہن میں زندہ رہے۔ قبل اس کے کہ ان کی زندگی کو پنجاب کے تخلیق کار اپنی تخلیقات کا حصہ بناتے، وہ سولہویں صدی کے پنجاب کے معروف افسانوی ہیرو کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے رہے ہیں۔ مغل بادشاہ اکبر کی رجعت پسندانہ ٹیکس پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے دْلہ نے خود کو مزدور طبقے کے ایک انقلابی رہنما کے طور پر متعارف کرایا۔ وہ بہت جلد اپنی بہادری اور معاشرتی انصاف کے فروغ کے لئے جدو جہد کی بدولت مقامی برادری کے درمیان مقبول رہنما بن گیا۔ اپنے والد فرید اور دادا ساندل، عرف بجلی، کی طرح، دْلہ نے بھی پنجاب میں مغل بادشاہ اکبر کی حکمرانی کو چیلنج کیا۔ پس، زرعی محصولویں کے بے جا بوجھ اوربگڑتی ہوئی معاشی صورتحال نے بھٹیوں کی تین نسلوں کو حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے کے لئے اکسایا۔

دْلہ کے معاملے میں لوک داستانوں کو حقیقت سے الگ کرنا مشکل ہے۔ مثال کے طور پر، درباری مورخین اس کو باغی اور ڈاکو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ اسکو ثابت کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس دوسرے، یعنی غیر درباری مورخین، اسے قرون وسطی کے پنجاب میں کسانوں کے حق میں مغل سلطنت کے خلاف مزاحمت کیلئے رحجان ساز (ٹرینڈ سیٹر) کے طور پہ سراہتے ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک مقامی بغاوت کے خوف نے دو بار اکبر کو اس عرصے میں اپنے دارالحکومت دہلی اور آگرہ سے لاہور منتقل کرنے پر مجبور کر دیا۔ کہا یہ جاتا ہے کہ جب دْلہ کو پھانسی دی جارہی تھی، اس وقت شاہ حسین، پنجابی صوفی شاعر، موقع پہ موجود تھے اور ان کے منہ سے یک لخت یہ مصرع نکلا تھا: ”کہے حسین فقیر سائیں دا تخت نہ ملدے منگے“۔

میراثی، اس کی زندگی کی طرح، دْلہ بھٹی کی موت کو بھی رومانوی بناتے ہیں۔ مثلاً، انکا کہنا ہے کہ ایک گْھمسان کی جنگ کے بعد مغلوں نے اس کی بیوی کو گرفتار کرلیا تھا اور پھر اس کی رہائی کے لئے بات چیت کرنے کے بہانے ایک دعوت پہ بلا کے دْلہ بھٹی کو گرفتار کر لیا تھا۔ ایک اور روایت کے مطابق، اسکو زہر ملا دودھ پلا کر مارا گیا تھا۔ قصہ مختصر، وہ لاہور کے میانی صاحب کے تاریخی قبرستان میں مدفون ہے۔

دْلہ کا قد اور اس کی بہادری کے بارے میں لوک داستانیں بعد از مرگ بڑھ گئیں۔ مثلاً، یہ بتایا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ اکبر کا بڑا بیٹا شہزادہ سلیم اور دْلہ بھٹی رضائی بھائی تھے کیونکہ ان دونوں کو دودھ بعد الذکر کی والدہ، لدھی یا لاڈھی، نے پلایا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ان دونوں کی پرورش بھی اسی نے کی تھی۔ اس افسانوی کہانی کا پرچار اور دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کچھ نجومیوں نے اکبر بادشاہ کو بتایا تھا کہ اگر اس کے بیٹے کو اک ایسی راجپوت ماں، جس نے اسی دن بیٹے کو جنم دیا ہو جس دن شہزادہ سلیم پیدا ہوا ہو، نے اپنا دودھ پلایا اور اس کی پرورش کی تو اس کا بیٹا راجپوتوں کی طرح بہادر اور مضبوط ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے کچھ لوگوں، جو اس افسانوی کہانی کو مانتے ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ باغی راجپوتوں کا اعتماد اور ساتھ جیتنے کے لئے بادشاہ کی طرف سے ایک سیاسی تدبیر تھی۔

افسانوی کہانی کار دْلہ کی بہادری کو ثابت کرنے کے لئے کچھ مثالیں پیش کرتے ہیں جیسا کہ ان کا کہنا ہے کہ دْلہ اور اس کے سپاہیوں نے ایک بار شکار کے دوران بادشاہ اکبر کو پکڑ لیا تھا۔ تاہم، مؤخر الذکر نیخود کو بادشاہ کا ایک ادنیٰ سا درباری بتا کر رہائی حاصل کر لی۔ دْلا کو معلوم تھا کہ اسیر خود بادشاہ ہیلیکن اس نے اسے جانے دیا کیوں کہ اس نے بادشاہ کا ادنیٰ سا درباری ہونے کا بہانہ کر کے رحم کی بھیک مانگ کر اپنا قد کم کیا تھا۔

ایک اور رومانوی داستان کے مطابق، دْلہ اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں اپنے والد اور دادا کی پھانسی سے لاعلم تھا۔ ان کو اس کی پیدائش سے صرف چند ماہ قبل پھانسی دے دی گئی تھی اور اس کی والدہ نے اپنے بیٹے کے ساتھ یہ معلومات بانٹنے کے بجائے خفیہ رکھا بہتر سمجھا کیوں کہ اسے ڈر تھا کہ وہ اپیس باپ اور دادا کے نقش قدم پر چلے گا اور اس کا انجام بھی انہی کی طرح کا ہو گا۔ تاہم، گاؤں کی ایک غریب عورت جس کے گھڑے کو دْلے نے اپنی غلیل سے توڑ دیا تھا، کے طنز نے یہ راز فاش کر دیا۔

اس راز کے انکشاف نے اس کی والدہ کو وہ کمرہ کھولنے پہ مجبور کیا جہاں اس نے ان ہتھیاروں کو چھپا کے رکھا تھا جو اس کے باپ اور دادا نے مغلوں کے خلاف لڑائی میں استعمال کئے تھے۔ دْلہ نے یہ ہتھیار اپنے دوستوں اور پیروکاروں میں بانٹ دیئے اور اپنے والد اور دادا کا بدلہ لینے کے لئے بغاوت کا آغاز کیا۔ اس کے برعکس، پروفیسر ایشور گور نے یہ استدلال کیا کہ دْلہ نے اپنے باپ اور دادا کا بدلہ لینے کے بجائے مغل سلطنت کے خلاف طبقاتی جنگ لڑنے کے لئے ہتھیار اٹھائے تھے۔

دْلہکی بہادری اور سخاوت کے قصے ڈھاڈھیوں کی شاعری کے مشترکہ موضوعات ہیں۔ یہاں بادشاہ اکبر اور شہزادہ سلیم کی سرزنش کرنے اور ان کو رسوا کرنے کے دو واقعات بیان ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے، جب ولی عہد شہزادہ شکار کے دوران دْلہ کے علاقے میں داخل ہوا تو اس کو دْلہ کے فوجیوں نے پکڑ لیا۔ جبکہ اس نے شہزادے کو یہ دلیل دیتے ہوئے رہا کر دیا کہ اس کا شہزادے سے نہیں بلکہ بادشاہ سے تنازعہ ہے۔ دوسرا، دْلہ اور اس کے سپاہیوں نے ایک شکار کے دوران بادشاہ کو پکڑ لیا۔ مؤخر الذکر نے بادشاہ کے ادنیٰ سا درباری ہونے کا بہانہ بنا کر رہائی کی بھیک مانگی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسیر خود بادشاہ ہے دْلہ نے اسے جانے دیا کیوں کہ اس نے اپنی شناخت کو جھٹلا کر رحم کی بھیک مانگ کر اپنا قد کم کیا تھا۔

دْلہ بھٹی کی بہادری کو ایک پنجابی لوک روایت، لوہڑی (جوکہ جنوری کی 13 تاریخ کو منایا جانے والا تہوار ہے) منا کر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ کہانی یہ ہے کہ دْلہ نے مغل فوجیوں سے دو برہمن لڑکیوں، سْندری اور مْندری کو بچایا تھا۔ خود مسلمان جاگیر ہونے کے باوجود برہمن لڑکیوں کی عزت اور جان کی حفاظت کرنے والے دْلہ بھٹی کی بہادری اور شجاعت کو مسلمان، سکھ اور ہندو بلا تفریق لوہڑی کا تہوار منا کر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ لوہڑی میں سے ایک مشہور بند یہ ہے: ”سْندر مْندریے ہو! تیرا کون وچارا ہو! دلا بھٹی والا ہو!“۔

افسانوی کہانی کاروں نے اس کو پنجاب کے رابن ہْڈ سے تشبیہ دی ہے کیوں کہ ان کا خیال یہ ہے کہ وہ مغلوں کے خزانوں کو لوٹ کر مساکین میں بانٹ دیا کرتا تھا۔ اس طرح، وہ مقامی مزاحمت اور پنجابی شناخت کی علامت کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ اس کی بہادری، سخاوت اور کسانوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کو پنجابی لوک شاعری کے ذریعہ امر کیا گیا ہے۔ اس امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دْلہ مقامی ہیرو تھا۔ لوہڑی اور بیساکھی (گندم کی کٹائی کے آغاز) کی تقریبات عوامی حقوق اور معاشرتی انصاف کے لئے اس کے احترام کی یاد دلاتی ہیں۔ اس کی مغل بادشاہ اکبر کے خلاف مزاحمت جو کہ بظاہر بیکار نظر آتی ہے دراصل اس بات کی غمازہے کہ اس کی مزاحمت ذاتی مقاصد کے لئے نہیں تھی بلکہ عوامی خدمت کے جذبہ سے سرشار تھی۔

Dr. Mazhar Abbas

مصنف نے شنگھائی یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں لیکچرار ہیں۔