خبریں/تبصرے

یونین بنانے کی کوشش پر گوگل نے ملازمین کو برطرف کر دیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) امریکہ کے نیشنل لیبر ریلیشنز بورڈ (این ایل آر بی) میں درج ہونیوالی ایک شکایت میں انکشاف ہوا ہے کہ ’گوگل‘ نے متعدد ورکرز کو کمپنی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے اور یونین منظم کرنے کی کوشش کرنے کے بعد برطرف کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطرف ہونے والے ورکرز کی جانب سے امریکی لیبر ریگولیٹر ادارے (این ایل آر بی) میں پٹیشن دائر کی گئی ہے۔

این ایل آر بی کی طرف سے گوگل کو 16 دسمبر تک باضابطہ جواب دینے کی مہلت دی ہے۔ اس کیس کا باقاعدہ فیصلہ 12 اپریل کو سنایا جائے گا۔ یہ کیس برطرف ورکرز کی بحالی اور کمپنی پالیسیوں میں تبدیلیوں کا باعث ہو سکتا ہے۔

این ایل آر بی کی جانب سے جاری ہونیوالی شکایت میں انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی کی داخلی سطح پر پالیسی مرتب کرنے سے متعلق دستاویزات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرنیوالے ملازمین کو پہلے غیر قانونی طورپر انتظامی چھٹی پر بھیجا گیا اور بعد میں معطل کر دیا۔ گوگل پر متعدد ورکرز کی غیر قانونی نگرانی کرنے اور متعدد ورکرز سے پوچھ گچھ کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ این ایل آر بی کا کہنا ہے کہ گوگول نے ورکرز کو منظم کرنے کے سلسلہ میں امریکی لیبر قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

شکایت کے مطابق کمپنی میٹنگ رومز تک رسائی کی غیر قانونی پالیسیوں سمیت دیگر ہتھکنڈے بھی استعمال کرتے پائی گئی ہے اور ان تمام تر کوششوں کا مقصد کام کی جگہوں پر ورکرز کو منظم ہونے سے روکنا ہے۔

تاہم گوگل کا کہنا ہے کہ ”ہم قانون کے مطابق کارروائی کی ہے۔ گوگل نے ہمیشہ اندرونی بحث و مباحثے کے کلچر کی حمایت کی ہے اور کمپنی کو ملازمین پر بے حد اعتماد ہے۔ ملازمین کے خلاف کی جانیوالی کارروائیاں ہماری پالیسیوں کی سنگین خلاف ورزی کی وجہ سے کی گئیں۔“

دو سال تک گوگل اور محنت کشوں کے مابین چلنے والی اس لڑائی میں کم سے کم پانچ افراد کو احتجاج کی کوشش کے بعد ملازمت سے برطرف کردیا گیا جس کے بعد انہوں نے امریکہ میں مواصلات کے محنت کشوں کی یونین کے ساتھ مل کر گوگل کے خلاف این ایل آر بی میں پٹیشن دائر کی ہے۔

برطرف ہونے والے ورکرز میں سے ایک لارنس برلینڈ کا کہنا ہے کہ ”یہ ایک ایسا وقت ہے جب ہم مٹھی بھر ٹیکنالوجی کے ارب پتیوں کی طاقت کو اپنی زندگیوں اور معاشرے پر قابو پاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ این ایل آر بی نے ہماری متعدد دیگر شکایات کو شامل نہیں کیا۔ شامل نہ کی جانیوالی شکایات کیلئے ہم اپیل کریں گے۔“