دنیا

دفاعی بجٹ کرونا سے بھی بڑی وبا ہے

جان پلجر

برطانیہ کا ’آرمڈ سروسز میموریل‘ خاموش، پرا سرار سی جگہ ہے۔ سٹیفرڈ شائر کے خوبصورت دیہی مقام میں واقع یہ یادگار تیس ہزار کے لگ بھگ درختوں میں گھرا ہوا ہے۔ دور دور تک سر سبز گھاس کے میدان بچھے ہوئے ہیں۔ جا بجا بنی شبیہیں ہومر کی یاد دلاتی ہیں اور ہر شبیہہ قربانی اور استقلال کی علامت ہے۔

16,000 برطانوی مرد اور عورتوں کے نام درج ہیں جو فوج میں کام کرتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ’وہ لوگ ہیں جو آپریشنل تھیٹر میں مارے گئے یا دہشت گردی کا نشانہ بنے‘۔

جس دن میں یہ جگہ دیکھنے گیا، ایک کاریگر مزید 50 لوگوں کے نام دیوار میں کندہ کر رہا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو ’امن‘ کے حالات میں دنیا بھر میں جاری 50 مختلف آپریشنوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ملائشیا، آئرلینڈ، کینیا، ہانگ کانگ، لیبیا، عراق، فلسطین یا بہت سی ایسی اور جگہیں۔ کچھ توویت نام جیسے مقامات پر خفیہ آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

1945ء میں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد، کوئی ایسا سال نہیں گزرا کہ جب حکومت نے سلطنت ِبرطانیہ کی حفاظت کے لئے فوجیں کسی محاذپر روانہ نہ کی ہوں۔

کوئی ایسا سال نہیں گزرا جب جنگ کا شکار کسی غریب ملک نے برطانوی اسلحہ نہ خریدا ہو یا آسان شرائط پر اسے یہ اسلحہ فراہم نہ کیا گیا ہو تا کہ جنگ یا سلطنت برطانیہ کے ’مفادات ‘ کو آگے بڑھایا جا سکے۔

سلطنت؟ کون سی سلطنت؟ تحقیقاتی صحافت کرنے والے صحافی فِل مِلر نے ’ڈی کلاسیفائڈ‘ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ کے 42 ممالک میں 145 فوجی اڈے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے شیخی بھگاری ہے کہ ’برطانیہ یورپ کی سب سے بڑی بحری قوت بن کر ابھرے گا‘۔

برطانیہ میں اس وقت جدید دور کی سب سے بڑی ہیلتھ ایمرجنسی لگی ہوئی ہے۔ نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) نے چالیس لاکھ مریضوں کی سرجری ملتوی کر دی ہے تا کہ کرونا بحران سے نپٹا جا سکے۔ ایسے میں بورس جانسن نے فوج کے بجٹ میں 16.5 ارب پونڈ کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس رقم کی مدد سے این ایچ ایس کو کئی گنا بہتر بنایا جا سکتا تھا۔

یہ اربوں پونڈ دفاع پر خرچ نہیں ہو ں گے کیونکہ برطانیہ کی کسی سے دشمنی ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی دشمن ہے تو وہ برطانیہ کے اندر ہی پائے جاتے ہیں۔ یہ دشمن وہ لوگ ہیں جو عام شہریوں کے اعتماد کوٹھیس پہنچاتے ہیں، جو نرسوں، ڈاکٹروں، بوڑھوں یا معذور افراد کا خیال رکھنے والوں، بے گھروں اور نوجوانوں سے دھوکا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک میں نیو لبرل پالیسیاں لاگو کیں۔ ان کا تعلق لیبر پارٹی سے بھی ہے اور کنزرویٹو پارٹی سے بھی۔ یہ لوگ ماضی میں حکومتیں چلاتے آئے ہیں۔

آرمڈ سروسز میوزیم گھومتے ہوئے میں نے اندازہ لگایا کہ یہاں ان غیر ملکی سویلین افراد کی یاد میں کوئی تختی لگائی گئی ہے نہ پھولوں کی کوئی کیاری بنائی گئی ہے جو ’پرامن‘ حالات میں غیر ملکی برطانوی آپریشنوں کا نشانہ بنے۔

لیبیا کے ان شہریوں کی یاد میں کچھ بھی تعمیر نہیں کیا گیا جو برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور ان کے فرانسیسی ہم رکاب کی لیبیا کے خلاف اس جارحیت کے دوران ہلاک ہوئے جس نے لیبیا کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

سربیا کے ہلاک ہونے والے بچوں اور عورتوں کا نام بھی کہیں درج نہیں جو فیکٹریوں، سکولوں، پلوں اور شہری آبادیوں پر، بغیر خطرہ مول لئے، گرائے گئے بموں کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ یہ بم ٹونی بلیئر کے کہنے پر گرائے گئے۔ یمن کے بھوک سے بلکتے بچوں کا نام بھی کہیں درج نہیں جنہیں سعودی پائلٹوں نے اڑا دیا۔ ان پائلٹوں کو ہدف کی تفصیلات، ریاض کے ائر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے برطانوی اہلکار مہیا کر رہے تھے اور ان پائلٹوں کے پاس جہاز اور بم بھی برطانیہ کے مہیا کئے ہوئے تھے۔

اُن فلسطینی بچوں کی یاد میں بھی کوئی یادگار تعمیر نہیں کی گئی جو برطانوی اشرافیہ کی مسلسل ساز باز کا نشانہ بنے۔ برطانوی اشرافیہ کی ساز باز کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ برطانیہ کی لیبر پاٹی میں جنم لینے والے ایک اصلاح پسند رجحان (مراد: جیرمی کوربن۔ مترجم) کو بھی پنپنے نہیں دیا گیا۔ اس رجحان پر یہود دشمنی کا غلط الزام لگا کر اسے دبایا گیا۔

دو ہفتے قبل اسرئیلی فوج کے چیف آف سٹاف اور برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس سٹاف نے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین دفاع کو ’رسمی شکل دی جائے گی اور اس میں اضافہ کیا جائے گا‘۔

میڈیا میں اس کی کوئی خبر ہی نہیں دی گئی۔ اس معاہدے کے بعد اسرائل کی لاقانونیت پر مبنی فوجی مشینری کے پاس اب پہلے سے بھی زیادہ برطانوی اسلحہ میسر ہو گا۔ اسرائیلی نشانہ باز اس اسلحے سے بچوں کو نشانہ بنائیں گے جبکہ سائیکو پیتھ اسرائیلی عقوبت خانوں میں بچوں سے تفتیش کریں گے (اس ضمن میں ’ڈیفنس فار چلڈرن‘ نامی تنظیم کی رپورٹ بعنوان’آیسولیٹڈ اینڈ الون‘ ملاحظہ کیجئے)۔

سٹیفرڈ شائر میں بنائے گئے اس جنگی میموریل میں ایک اہم ترین یاد گار جو نہیں بنائی گئی وہ ہے ان لاکھو ں عراقی لوگوں کی یادگار جن کا ملک بش اور بلیئر کی 2003ء میں کی گئی جارحیت نے تباہ کر دیا اور وہ خود لاکھوں کی تعداد میں ہلاک ہوئے۔

برٹش پولنگ کونسل کی رکن ’او آر بی‘ (ORB) کے مطابق عراق میں تقریباً بارہ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ 2013ء میں کوم ریس نامی ادارے نے ایک سروے کیا جس میں برطانوی آبادی کے مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں کتنے عراقی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اکثریت کا خیال تھا 10,000 سے بھی کم تھا۔

ایک نفیس معاشرے میں ایسی لا علمی کیسے ممکن ہے؟ میرا جواب ہے: خود کو آزاد تصور کرنے والے معاشروں میں پراپیگنڈہ ایسے معاشروں کی نسبت زیادہ کارگر ہوتا ہے جہاں آمریتیں مسلط ہیں۔ کسی چیز کا ذکر ہی گول کر دینا بھی سنسر شپ ہی ہوتا ہے۔

ہماری سیاسی و ثقافتی پراپیگنڈہ انڈسٹری (بشمول میڈیا) دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور اور جدید پراپیگنڈہ صنعت ہے۔ بی بی سی کی ساکھ کا فائدہ اٹھا کر بڑے سے بڑا جھوٹ بولے جائیں۔ اس کی پروا مت کیجئے کہ کس چیز کا ذکر سرے سے گول کر دیا گیا ہے۔

ایٹمی جنگ کی بھی یہی صورتحال ہے۔ بقول ہیرلڈ پنٹر ایٹم بم سے لاحق خطرات تو گویا کوئی خطرہ ہی نہیں سمجھے جاتے۔ روس، جو ایک ایٹمی طاقت ہے، اسے ناٹو نامی ایک گروہ نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اس گرو ہ کے رکن کے طور پر برطانوی دستے اکثر اس کی سرحد کے قریب ’مشقیں‘ کرتے ملیں گے جس پرہٹلر نے ایک دفعہ حملہ کیا تھا۔

عوام کے شعور میں روس کو مسلسل برا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ تاریخی سچائی بھی چھپائی جاتی ہے کہ دوسری عالمی جنگ لگ بھگ سرخ فوج نے اکیلے ہی جیتی تھی۔ روس میں صرف اتنی دلچسپی دکھائی جاتی ہے کہ اہل روس کو برا بنا کر دکھایا جاتا ہے۔

چین بھی ایک ایٹمی طاقت ہے۔ چین کو مسلسل بھڑکایا جاتا ہے۔ امریکی کے سٹریٹیجک بمبار طیارے اور ڈرون مسلسل چین کی سرحد سے چھیڑ خانی کرتے ہیں۔

جلد ہی 3 ارب پونڈ سے تیار کیا گیا برطانوی بحری بیڑا،ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ، 6,500 میل دور چین کی ساحلی سرحدوں کی جانب کوچ کرے گا۔ اس بیڑے کا مقصد چین کے قریب ’بحری آزادی‘ کا تحفظ ہے۔

پینٹا گون کے ایک سابق اہلکار نے مجھے بتایا کہ چین کے گرد 400 امریکی فوجی اڈے کسی پھندے کی طرح موجود ہیں۔ یہ اڈے آسٹریلیا اور بحر الکاہل سے لے کر جنوبی ایشیا، شمالی ایشیا اور یوریشیا میں قائم ہیں۔

جنوبی کوریا میں ٹرمینل ہائی الٹیٹیوڈ ائر ڈیفنس (Terminal High Altitude Air Defence, THAAD) نامی ایک میزائل سسٹم، ایسٹ چائنہ سی کی دوسری جانب، نصب ہے جس کا نشانہ چین ہے۔ ذرا تصور کیجئے میکسیکو یا کینیڈا میں چین نے ایسا کوئی میزائل نظام نصب کر رکھا ہو اور کیلیفورنیا اس کے نشانے پر ہو۔

عراق پر حملے کے چند سال بعد میں نے ایک دستاویزی فلم بنائی تھی: دی وار یو ڈونٹ سی(The War You Don’t See)۔ اس فلم میں میں نے برطانوی اور امریکی صحافیوں کے علاوہ نیوز چینلوں کے ایگزیکٹو ز، جو میرے کولیگ رہ چکے تھے، سے سوال پوچھا کہ عراق پر بش اور بلیئر حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہو گئے اور کسی نے کچھ نہیں کہا حالانکہ عراق پر الزامات بالکل بودے تھے۔

ان لوگوں کا جواب حیران کن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ’ہم (مراد صحافی اور براڈ کاسٹر، بالخصوص امریکہ میں)، وائٹ ہاؤس اور ٹین ڈاوننگ سٹریٹ کے پراپیگنڈے کو آگے بڑھانے کی بجائے ان کو چیلنج کرتے، ان کے جھوٹ کو بے نقاب کرتے، تو 2003ء میں شائدعراق پر حملہ ممکن نہ رہتا۔

آج کتنے ہی لوگ زندہ ہوتے۔ چالیس لاکھ لوگ بے گھر ہو کر پناہ گیر نہ بنے ہوتے۔ برطانیہ اور امریکہ کے حملے کے نتیجے میں بننے والی خوفناک تنظیم داعش وجود میں نہ آئی ہوتی۔

ڈیوڈ روز جو اُن دنوں ’لندن آبزرور‘ کے لئے کام کر رہے تھے، انہوں نے اس جنگ کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا: ”ایک مرصع ڈس انفارمیشن کمپئین کے ذریعے مجھے جھوٹ پر مبنی معلومات فراہم کی گئیں“۔

عراق میں تعینات بی بی سی کے نمائندے راگے عمر نے مجھے بتایا: ”جو بات کہنا مشکل تھی، ہم نے نہیں کہی“۔ سی بی ایس کے اینکر پرسن ڈان راتھر سمیت بہت سے دیگر لوگوں نے بھی ایسے ہی اعترافات کئے۔ جن صحافیوں نے اس خاموشی کو توڑا میں ان کی بہت قدر کرتا ہوں۔ ایسے لوگ مگر چیدہ چیدہ ہی تھے۔

اِن دنوں برطانیہ، امریکہ اور ’مغرب‘ میں طبل جنگ بجانے والے نئے لوگ سامنے آ گئے ہیں جو اپنے پیش رو جنگجوؤں سے بھی زیادہ پر جوش ہیں۔ چین اور روس پر لعن طعن کرنے والوں میں ایسے کئی لوگ مل جائیں گے۔ یہ ان دنوں رشیا گیٹ نامی مفروضے کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ ’سڈنی مارننگ ہیرلڈ‘ کے پیٹر ہارچر کو تو میں اپنی طرف سے آسکر ایوارڈ دینا چاہتا ہوں جو ہر وقت چین اور روس کی جانب سے سلامتی کو لاحق خطرات کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔

ان کے اس پراپیگنڈے کی تجسیم آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن ہیں۔ ونسٹن چرچل کی طرح لباس زیب تن کئے۔ پبلک ریلیشنز سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے یوں وکٹری سائن بنائے کہ پوچھئے مت۔ 1930ء کی دہائی کے بعد ایسے مناظر اب ہی دیکھنے کو ملے ہیں۔

کرونا بحران کے بعد پراپیگنڈے کی وبا پھیلانے کا موقع مل گیا ہے۔ جولائی میں موریسن نے ٹرمپ سے شہ پا کر اعلان کیا کہ آسٹریلیا 270 ارب آسٹریلیائی ڈالر دشمنوں سے نپٹنے کے لئے دفاع پر خرچ کرے گا حالانکہ آسٹریلیا کا کوئی دشمن ہے ہی نہیں مگر اب اس بجٹ سے ایسے دشمن پیدا کئے جائیں گے۔

چین آسٹریلیا سے جو معدنیات اور زرعی اجناس درآمد کر رہا ہے، جس کی وجہ سے آسٹریلیا کی معیشت چل رہی ہے، اس میں آسٹریلیا کی حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

آسٹریلیا کے میڈیا نے یک زبان ہو کر چین کے خلاف بد زبانی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چینی حکومت نے چینی طلبہ سے کہا کہ وہ آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں میں داخلے کی بجائے کسی اور ملک کا رخ کریں اور یوں آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں کی معیشت خطرے میں ڈالی گئی۔ آسٹریلیائی چینی باشندوں کے خلاف زہر اگلا گیا۔ چینی نژاد ڈیلیوری بوائز پر حملے کئے گئے۔ کلونیل عہد کی نسل پرستی کا احیا کبھی بھی مشکل نہیں رہا۔

چند سال پہلے میں نے لاطینی امریکہ میں سی آئی اے کے سابق سربراہ ڈوان کلیرج کا انٹرویو کیا۔ چند دیانت دارانہ الفاظ میں انہوں نے ’مغرب‘ کی خارجہ پالیسی کا خلاصہ بیان کر دیا جو واشنگٹن کے حکم پر بنائی جاتی ہے۔ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے سپر پاور کسی بھی جگہ کچھ بھی کرنا چاہے، کر سکتی ہے۔ ”دنیا بہتر ہے اس بات کو قبول کر لے“۔

میں نے بے شمار جنگوں کی رپورٹنگ کی ہے۔ بموں کا شکار ہونے والے بچوں، بوڑھوں اور خواتین کے جلے ہوئے لاشے دکھے ہیں۔ ان کے برباد گاؤں دیکھے ہیں۔ درختوں سے اٹکے انسانی اعضا کے ہولناک مناظر دیکھے ہیں۔ کیا کچھ نہیں دیکھا۔

یہی وجہ ہے کہ جنگی جنون پھیلانے والوں سے مجھے خاص نفرت ہے۔ یہ بد نیت لوگ ہر فحاشی کی مدد سے جنگی جنون پھیلاتے ہیں حالانکہ ان کی جان کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہونا ہوتا۔

ان لوگوں کی اجارہ داری ختم کرنا ہو گی۔