پاکستان

پاکستانی زیر انتظام کشمیر: آٹے کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف عوامی مظاہرے

حارث قدیر

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے پونچھ ڈویژن کے متعدد شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف پیر کے روز احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ کئی بازاروں میں شٹر ڈاؤن کیا گیااور پونچھ ڈویژن کو اسلام آباد سے ملانے والی مرکزی شاہرات کو جگہ جگہ سے رکاوٹیں کھڑی کر کے اور دھرنے دیکر بند کر دیا گیا۔

عوامی ایکشن کمیٹیوں کے زیر اہتمام عوامی ایکشن کمیٹی پونچھ کی کال پر ہونیوالے یہ احتجاجی مظاہرے حکومت کو دس دن کی ڈیڈ لائن دیکر موخر کر دیئے گئے۔ آٹے کی قیمتوں میں 10 ایام کے اندر کمی نہ ہونے کی صورت پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے تمام اضلاع سے عوامی ایکشن کمیٹیوں کے اراکین کا اجلاس منعقد کر کے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا ہے۔

پیر کے روز پونچھ ڈویژن کے صدر مقام راولاکوٹ میں مرکزی اجتماع منعقد کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ یہ مظاہرین بنجونسہ، کھائی گلہ، جنڈالی، چھوٹا گلہ، علی سوجل، بن بیک، کہو کوٹ، حسین کوٹ اور چک بازار سمیت دیگر نواحی دیہاتوں اور بازاروں سے پہنچے۔ مظاہرین نے احتجاجی جلوسوں کی شکل میں شرکت کی۔ راولاکوٹ شہر میں جلوس کے انعقاد کے بعد راولاکوٹ کو اسلام آباد سے ملانے والی شاہراہ پر دھرنا دیا گیا جس میں ایکشن کمیٹی کے اراکین نے مشاورت کے بعد حکومت کو دس دن کی ڈیڈ لائن دیکر احتجاج موخر کرنے کا اعلان کیا۔

تھوراڑ اور منگ کے بازاروں اور نواحی دیہاتوں کے شہریوں نے شاہراہ غازی ملت پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ہر طرح کی ٹریفک معطل کر دی اور شاہراہ پر دھرنے دیئے۔ ٹائیں بازار، تھلہ اور پاچھیوٹ کے دیہاتوں کے عوام نے پونچھ کو اسلام آباد سے ملانے والی دوسری مرکزی شاہراہ ٹائیں ڈھلکوٹ روڈ کو بلاک کر کے ہر طرح کی ٹریفک کیلئے بند کئے رکھا۔ پانیولہ بازار، نواحی بازاروں اور دیہاتوں کے عوام نے پونچھ کو دارالحکومت مظفرآبادسے ملانے والی مرکزی شاہراہ کو احتجاجاً بند کئے رکھا۔ پونچھ کی تحصیل ہجیرہ میں بھی احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

پونچھ ڈویژن کے ضلع باغ کے مرکزی شہر میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔

پونچھ ڈویژن کے تیسرے ضلع سدھنوتی کے مختلف نواحی بازاروں میں بھی احتجاجی مظاہرے منعقد کئے گئے۔ تراڑ کھل میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ قلعاں، بلوچ اور بیٹھک اعوان آباد میں بھی احتجاجی مظاہرے منعقد کئے گئے۔

یہ احتجاجی مظاہرے آٹے کی قیمتوں میں ایک ماہ کے دوران پانچ سو روپے فی من تک اضافے کے خلاف منعقد کئے گئے تھے۔ حکومت نے گزشتہ ماہ دو الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے آٹے کی قیمتوں میں پہلے 3 سو روپے او ر پھر 2 سو روپے فی من اضافہ کر دیا تھا۔ قیمتوں میں اضافے کے خلاف پونچھ ڈویژن میں قبل ازیں بھی احتجاجی مظاہرے منعقد کئے گئے۔ پیر کے روز شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی تھی جس پر پونچھ ڈویژ ن کے متعدد شہروں میں احتجاجی مظاہرے منعقد کئے گئے۔

واضح رہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں آٹے کی فراہمی کیلئے ایک سرکاری محکمہ قائم کیا گیا ہے۔ محکمہ خوراک حکومت پنجاب کے ادارے پاسکو سے گندم خریدنے کے بعد پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ہی قائم مختلف فلور ملز سے پسوائی کے بعد تمام سرکاری ڈپوؤں کے ذریعے آٹے کی ترسیل تمام اضلاع اور دیہاتوں تک کرتا ہے۔ یہ فلور ملز نجی سرمایہ داروں کی طرف سے اس شرط پر قائم کی گئی ہیں کہ محکمہ خوراک کو آٹے کی پسوائی کر کے دیں گی۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی مقامی حکومت سالانہ 3 لاکھ ٹن گندم پاسکو سے خرید کر شہریوں کو سستا آٹا فراہم کرتی آئی ہے۔ تاہم رواں سال جون میں 1 لاکھ 39 ہزار ٹن گندم خریدی گئی جو دسمبر میں ہی ختم ہو گئی۔ پاکستان میں گندم کی قیمتوں میں اضافے کے بہانے نئی گندم خریدنے سے قبل ہی آٹے کی قیمتوں میں 5 سو روپے فی من تک اضافہ کر دیا گیا تھا۔

قبل ازیں پاکستان کی وفاقی حکومت پاکستانی زیر انتظام گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کو گندم پر سبسڈی فراہم کرتی تھی جو 2008ء میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے ختم کر دی گئی تھی۔ تاہم گلگت بلتستان میں ابھی بھی گندم پر سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔