خبریں/تبصرے

امریکہ بھر میں آئندہ ہفتے مسلح مظاہروں کا خدشہ ہے: ایف بی آئی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) امریکہ کی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی)نے نو منتخب صدر جو بائیڈن کے حلف اٹھانے کے موقع پر ملک کی تمام پچاس ریاستوں کے دارالحکومتوں میں مسلح احتجاج سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایف بی آئی کے ایک داخلی بلیٹن نے خبردار کیا ہے کہ ملک بھر میں اس ہفتے کے آخر میں مظاہرے شروع ہو سکتے ہیں جو بیس جنوری کو بائیڈن کے حلف اٹھانے تک جاری رہ سکتے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ کچھ افراد شدت پسند گروہوں کے ممبر ہیں۔

ایک اہلکار کے مطابق ”16 جنوری سے 20 جنوری تک امریکا کی تمام ریاستوں کے دارالحکومتوں اور 17 سے 20 جنوری تک امریکی دارالحکومت میں مسلح مظاہروں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔“

عہدیداروں کے مطابق 29 دسمبر کو ایف بی آئی نے مسلح مظاہرین کے طرف سے پارلیمانی ہاؤسز کو نشانہ بنائے جانے سے متعلق انتباہ جاری کیا تھا۔

ایف بی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ ”ہمارا کام مخصوص انٹیلی جنس رپورٹوں پر تبصرہ کرنا نہیں ہے۔ ایف بی آئی ریاست، مقامی اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں کی حمایت کر رہی ہے تا کہ ہم عوامی تحفظ کو برقرار رکھ سکیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ایسے افراد کی شناخت اور تفتیش کی جائے یا انہیں روکنے کی کوشش کی جائے جو تشدد کو بھڑکانے اور مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہیں۔“

ایف بی آئی نے کہا کہ ”اسکی توجہ پر امن احتجاج پر نہیں لیکن ان لوگوں پر ہے جو اپنی حفاظت اور دیگر شہریوں کی حفاظت اور تشدد اور املاک کی تباہی کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔“

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی دارالحکومت میں پرتشدد احتجاج کی مہم چلا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ بھر میں متعدد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور دو پولیس افسران کو بھی معطل کر دیا گیا ہے، جن میں سے ایک نے پرتشدد مظاہرین کے ساتھ سیلفی لی اور دوسرے نے ٹرمپ کے حامیوں کے مقبول نعرے ”میک امریکہ گریٹ اگین“ کی مہم کی ٹوپی لگائی تھی۔ ایک درجن کے قریب افراد سے تفتیش جاری ہے۔

ایک تحقیقاتی گروپ کے مطابق سائٹ انٹیلی جنس گروپ نے متنبہ کیا کہ دارالحکومت حملے میں ٹرمپ نے اپنے حمایتیوں اور انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی کی۔

دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والا احتجاج صرف ٹرمپ کے حامیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ حکومت مخالف اور ریاست مخالف مسلح گروپ ”ملین ملیشیا مارچ“ کے عنوان سے بھی مہم چلا رہے ہیں۔