خبریں/تبصرے

حکومتوں بارے شکوک و شبہات: 28 ممالک میں شہری کورونا ویکسین سے خائف

لاہور (جدوجہد رپورٹ) مواصلاتی فرم ایڈل مین کے ذریعے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق حکومتوں اور میڈیا پر عدم اعتماد دنیا بھر میں اور بالخصوص امریکہ میں کورونا ویکسین کے استعمال کو محدود کرنے کیلئے خطرہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اداروں پر اعتماد کی صورتحال سے متعلق سالانہ سروے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ ”انفوڈیمک“ بد اعتمادی کو فروغ دے رہا ہے جس کی وجہ سے وبائی مرض پر قابو پانے کا راستہ مزید طویل ہو سکتا ہے۔

کمپنی کے سی ای او رچرڈ ایڈل مین نے کہا کہ ”یہ معلوماتی دیوالیہ پن کا دورہے۔ گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں دارالحکومت کی عمارت پر طوفان برپا ہوا اور یہ حقیقت ہے کہ صرف ایک تہائی لوگ کورونا وائرس کی ویکسین فوری طور پر لینا چاہتے ہیں۔ غلط معلومات کا ختم کرنا ہو گا۔“

کمپنی کو سروے میں معلوم ہوا کہ کورونا ویکسین پر شکوک و شبہات ویکسین کے وسیع پیمانے پر استعمال کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ 28 ممالک میں کئے گئے سروے سے پتہ چلا ہے کہ نومبر تک صرف 2 تہائی جواب دہندگان نے بتایا کہ وہ ایک سال کے اندر ویکسین لینا چاہیں گے۔

روس میں یہ ہچکچاہٹ زیادہ پائی گئی، سروے میں صرف 15 فیصد روسیوں نے جلد سے جلد قطرے پینے پر رضا مندی ظاہر کی اور ایک سال کے اندر اندر ایسا کرنے پر صرف 25 فیصد رضامند نظر آئے۔ امریکہ میں مجموعی طور پر 59 فیصد لوگ ایک سال کے اندر اندر ویکسین لینے پر راضی نظر آئے البتہ جلد از جلد ویکسین لینے پر صرف 33 فیصد افراد رضامند نظر آئے۔ بھارت میں اعلیٰ سطحی اعتماد ریکارڈ کیا گیا جہاں 51 فیصد افراد فوری طور پر ویکسین لینے پر رضامند نظر آئے جبکہ 80 فیصد ایک سال کے اندر اندر ویکسین لینے پر رضامند نظر آئے۔

دنیا بھر کی حکومتیں اور ماہرین صحت یہ امید کر رہے ہوں گے کہ ویکسین کے ہموار استعمال سے شکوک و شبہات کا مقابلہ ہو جائے گا۔ گزشتہ ماہ برطانیہ پہلا ملک بن گیا جس نے امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور جرمن کمپنی بائیٹیک کے ذریعے تیار کردہ ویکسین کے استعمال کی منظوری دی۔ دوسرے ممالک نے بھی اس کا استعمال شروع کر دیا جبکہ کچھ جگہوں پر دیگر ویکسینوں کو بھی اختیار کیا گیا ہے۔

سروے کے مطابق 2020ء کے وسط سے حکمرانوں پر لوگوں کے اعتماد میں کمی واقع ہوئی۔ خاص طور پر امریکہ اور چین میں حکمرانوں سے عوام کا اعتماد تیزی سے گر گیا ہے۔

اس آن لائن سروے کے دوران 33 ہزار سے زائد افراد سے گزشتہ سال 19 اکتوبر سے 18 نومبر کے درمیان ڈیٹا حاصل کیا گیا۔