تاریخ

انقلاب کا بے خوف سپاہی

حارث قدیر

آج وہ پہلے والا گھر نہیں تھا، اسکے پرانے بوسیدہ دروازوں کے کواڑ نہیں تھے، وہ کمرہ بھی نہیں تھا جو زلزلے کے جھٹکوں کو برداشت نہ کر سکے اور اسکی دیواریں لڑکھڑا کر گر چکی ہوں، نہ وہ دیواریں تھیں جنہیں ’ٹاٹ‘سے ڈھانپا گیا ہو۔ اس گھر میں، اس کمرے میں، اس مکمل تعمیر شدہ چار دیواری میں وہ شخص بھی نہیں تھا۔ آج چند گھنٹوں میں اپنا اپنا سا گھر اپنی پرانی جگہ سے ایک گز بھی سرکے بغیر بیگانہ ہو چکا تھا، اپنا اپنا سا وہ کمرہ کسی اور نگر کی کسی چار دیواری کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہاں محفل ویسی ہی سجھی تھی، تھوڑی بجھی ہوئی تھی، وہ قہقہے نہیں تھے، وہ خوشی کے گیت نہیں تھے، وہ محنت کشوں کے، نوجوانوں اور طالب علموں کے مسائل کے حل کی گفتگو، انقلابی متبادل کی تعمیر کے منصوبے، کچھ بھی نہیں تھا۔ اس سب کی بس ایک ہی وجہ تھی کہ اس چار دیواری میں وہ شخص موجود نہیں تھا۔

اس سے پہلے ایک امید موجود تھی کہ وہ واپس آئے گا، انہی کھیتوں، کھلیانوں، انہی شاہراہوں، گلیوں، چوباروں، جنگلوں اور بیابانوں کو وہ پھر سے انقلاب و آزادی کے نعروں سے سرشار کرے گا۔ 7 سال پہلے جب وہ یہاں سے جا رہا تھاتب کسی کو خبر نہیں تھی کہ اس کی موت کی خبر دیار غیر سے ہی آئے گی۔ وہ امجد تھا اوردلوں کا شاہ سوار بھی تھا۔ اپنے مقصد کے ساتھ تامرگ وابستگی رکھنے اور اس کیلئے جینے اور مرنے کے حوصلے سے سرشار تھا، بلا کا بہادر تھا۔ محنت کشوں اور نوجوانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد ہو یا انہیں جدوجہد کے راستے پر ڈھالنا ہو یہ فن اس خطے میں صرف امجد شاہسوار کے پاس ہی تھا۔ جس محفل میں گیا اس محفل کو لوٹ لیا، جس قافلے میں شامل ہوا، اسے اپنا کر دیا، جس شہر گیا وہاں انقلاب کا بگل بج گیا، جس بیابان گیا اسے اپنے گیتوں اور خوش کن گفتار سے سرفراز کر گیا۔

امجد شاہسوار کی زندگی کی مختلف جہتیں تھیں، مختلف پہلو تھے، یہی وجہ ہے کہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پیر و جواں، مرد و خواتین اس کی اچانک موت پر سوگوار ہیں، غم سے نڈھال ہیں، اسے خراج عقیدت پیش کرنے کے مختلف طریقے اپنارہے ہیں۔ اسکے سیاسی شاگرد جموں کشمیر و پاکستان کے مختلف حصوں سے اسے یاد کر رہے ہیں، اس کو خراج پیش کر رہے ہیں اور اس کی ادھوری چھوڑی گئی جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔

امجد شاہسوار یکم جنوری 1976ء کو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے شہر راولاکوٹ کے ایک نواحی گاؤں تراڑ دیوان کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے، وہ پیشے سے سول انجینئر تھے۔ زمانہ طالبعلمی سے ہی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی اولین انقلابی روایت جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (جے کے این ایس ایف) سے وابستگی اختیار کی۔ خوبصورت آواز کے مالک ہونے کی وجہ سے تنظیم کے پروگرامات میں انقلابی گیت پیش کرنے سے مشہور ہوئے لیکن انکا کمال یہ رہا کہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ہر عہد کے کارکنان اور قائدین اس بات پر متفق تھے کہ امجد شاہسوار جیسا کارکن جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی تاریخ میں اور کوئی پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس کی بنیادی وجہ امجد شاہسوار کا انتھک، نڈر، بے باک کردار تھا۔ وہ میلوں تک وال چاکنگ کرنے، میلوں پیدل چل کر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوانوں اور طالبعلموں کو منظم کرنے اور نظریات کے دفاع اور محنت کش طبقے اور نوجوانوں کے حقوق کی جدوجہد کیلئے جان پر کھیل جانے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔

طلبہ حقوق کی بازیابی کیلئے لہو رنگ جدوجہد کی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، کئی بار پولیس تشدد میں لہولہان ہوئے، کئی کئی ہفتے جیلوں میں گزارے لیکن اپنی پر امن سیاسی جدوجہد پر کبھی کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ دیوار برلن کے گرنے اور سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ماسکو اور پیکنگ سے بھیجے گئے لٹریچر کے ذریعے ہی سوشلزم کے نظریات سے وابستگی کا سلسلہ بھی تقریباً ترک ہو چکا تھا۔ نوجوانوں کی انقلابی روایت پر قوم پرستانہ رجحانات حاوی ہوتے جا رہے تھے۔ ایسے وقت میں چند دیگر ساتھیوں اور رہنماؤں کے ہمراہ سائنسی سوشلزم کے نظریات کا دفاع کرنے، جے کے این ایس ایف کی انقلابی اساس کو بحال رکھنے کیلئے ایک عہد ساز جدوجہد کی اور جموں کشمیر میں سائنسی سوشلزم کے نظریات کی بنیاد پر ایک حقیقی انقلابی متبادل کی تعمیر کیلئے اپنی جوانی، اپنی زندگانی جھونک دی۔ سارا زمانہ مخالف تھا لیکن امجد شاہسوار اور انکے ساتھی ڈٹے ہوئے تھے، انہوں نے نظریات کا نہ صرف ہر جگہ عملی بنیادوں پر دفاع کیا بلکہ نظریات کی ترویج اور انقلابی قیادت کی تعمیر کیلئے دن رات کوشاں رہے۔ فسطائی رجحانات کے حملوں سے لیکر ریاست کے حملوں تک کوئی بھی رکاوٹ انہیں روک نہ سکی۔

جموں کشمیر کی حقیقی آزادی، محنت کش طبقے اور نوجوانوں کی سرمایہ دارانہ استحصال سے نجات کیلئے سائنسی جدوجہد کی بنیادیں ڈالنے والے ان انمول سپاہیوں نے اپنا گھر بار، اپنا ذاتی مستقبل قربان کر دیا اور معاشرے کے ہر استحصالی چلن سے بغاوت کا علم تھام لیا۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں خواتین کی سیاست میں مداخلت نہ ہونے کے برابر تھی، محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین پر سیاست کے تمام تر دروازے بند تھے۔ آج مختلف شہروں میں طالبات، لیڈی ہیلتھ ورکرز، ہیلتھ ایمپلائز، ٹیچرز سمیت محنت کش طبقے کی مختلف پرتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اگر اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے شاہراہوں، چوکوں اور چوراہوں کا رخ کرتی ہیں تو یہ سب اس حق کے دفاع میں امجد شاہسوار اور ان کے ساتھیوں کی لازوال جدوجہد کی وجہ سے ممکن ہو پایا ہے۔

2005ء میں زلزلہ کے دوران ہزاروں افراد، طالبعلم و نوجوان ہلاک ہوئے، ہزاروں معذور ہوئے، لوگوں کی املاک، مکانات سب تباہ و برباد ہو گیا۔ امجد شاہسوار کا آبائی مکان بھی زلزلہ میں شدید متاثر ہوا، کئی دیواریں گر گئیں، چھت اور سٹرکچر کسی حد تک محفوظ رہا۔ انہوں نے کپڑے کے ٹاٹ اور پلاسٹک سے مکان کی گری ہوئی دیواروں کو ڈھانپا اور مظفرآباد سے باغ اور پونچھ تک زلزلہ زدگان کی امداد میں مصروف ہو گئے۔ مظفرآباد میں طلبہ کو ملبے سے نکالنے کے عمل میں کئی روز تک مصروف رہے اور ساتھ ہی سیاسی جدوجہد کو منظم کرنے میں مشغول ہو گئے۔ زلزلہ زدگان کی بحالی اور تعمیر نو کیلئے ایک عہد ساز سیاسی جدوجہد کے سب سے بڑے سرخیل امجد شاہسوار تھے۔ ریاستی ایما پر پولیس نے امجد شاہسوار کے لہو سے راولاکوٹ کے شاہراہیں رنگ دیں لیکن انہوں نے اس جدوجہد سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ وہ کئی روز تک شدید زخمی حالت میں جیل میں رہے۔

2008ء کے اواخر میں امجد شاہسوار اپنی لازوال جدوجہد کی بنیاد پر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی تعمیر کے علاوہ تمام ہی ترقی پسند تنظیموں کے کارکنان کی تربیت کا عمل بھی جاری رکھا اور پاکستان کے چاروں صوبوں میں نوجوانوں کو منظم کرنے کے عمل میں بھی مشغول رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے لیکر وائی ڈی اے لاہور کے ینگ ڈاکٹرز تک ان کی تربیت اور سیاسی جدوجہد میں انکے ایک متحرک کردار کے معترف ہیں۔ امجد شاہسوار کی قیادت میں پاکستان اور اسکے زیر انتظام علاقوں کی طلبہ اور یوتھ کی تنظیموں پر مشتمل ایک ترقی پسند نوجوانوں کے اتحاد کی بنیادیں بھی رکھیں۔

اس عہد کی ستم ظریفی ہے، اس ریاست کا جبر و بوسیدگی ہے، اس خطے کی پسماندگی ہے اور اس نظام کی وحشت ہے کہ امجد شاہسوار جیسے انقلابی رہنما، سیاسی کارکن اور انقلابی جدوجہد کے سرخیل اس خطے کو ترک کر کے بیرون ملک جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ امجد شاہسوار بھی آج سے سات سال قبل انہی حالات کے پیش نظر اس خطے کو چھوڑ کر ملائشیا جا بسے اور وہاں پر سیاسی پناہ گزین کے طور پر رجسٹریشن کی درخواست دیکر محنت مزدوری میں مشغول ہو گئے۔ ملائشیا میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے انقلابی جدوجہد کا سفر جاری رکھا۔ ملائشیا کی ترقی پسند تنظیموں کے ساتھ ملکر وہاں جدوجہد کی بنیادیں رکھنے کے علاوہ پاکستان اور جموں کشمیر سے ملائشیا جانیوالے محنت کشوں کو منظم کرنے اور انقلابی نظریات سے لیس کرنے کے عمل میں مشغول رہے۔

چند روز قبل ہی جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی کنونشن کی تیاریوں کے سلسلہ میں بیرون ملک سے اپنا متحرک کردار ادا کر رہے تھے، پاکستان بھر میں انقلابی نوجوانوں اور محنت کشوں کے سب سے بڑے اجتماع کی تیاریوں کے عمل میں سرگرداں تھے۔ دنیا بھر میں موجود اپنے دوستوں، ساتھیوں اور انقلابی نوجوانوں سے کنونشن کیلئے فنڈ ریزنگ میں مشغول تھے لیکن زندگی نے ان سے وفا نہیں کی اور حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے وہ 16 جنوری 2021ء کو رات گئے ملائشیا کے شہر کوالالمپور میں وہ اپنے ہزاروں ساتھیوں کو تنہا چھوڑ گئے۔

امجد شاہسوار کی موت پر جہاں ہر سو سوگ کا سماں ہے، تمام ساتھی، دوست اور عزیز و اقارب غم سے نڈھال ہیں وہیں انکی جدوجہد کے ساتھی ان کے کردار، انکی عہد ساز جدوجہد اور جہد مسلسل کی تاریخ کو دہراتے ہوئے ان کے مشن کی تکمیل، اس خطے سے غلامی، فرسودگی، طبقاتی و قومی جبر اور سرمایہ دارانہ استحصال کے خاتمے اور حقیقی آزادی اور طبقات سے پاک منصفانہ معاشرے کے قیام کی جدوجہد کو فتح مندی تک جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔

امجد شاہسوار کے ساتھیوں کی اپنے سیاسی استاد سے وابستگی اور اس کے نقش قدم پر چلنے کی ایک مثال یہ ہے کہ یہ سطریں تحریر کرنے سے قبل چائے کا ایک کپ پینے کے دورانیے میں امجد شاہسوار کے ایک کامریڈ نے اپنے سیاسی استاد کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک نظم تحریر کرتے ہوئے انکی تمام تر جدوجہد کو چند لفظوں میں سمو دیا۔

میرا کامریڈ، میرا یار مر گیا
رشکِ حیات، رشکِ راہِ یارمر گیا
تاریکیوں سے برسرِ پیکار مر گیا
وہ راہِ اختیارِ مہن کار مر گیا
معراجِ انقلاب کا شہکار مر گیا
ظلمت کی راہ کاوہ گراں بار مر گیا
جرات کا، حوصلے کاوہ معمار مر گیا
خوابیدہ گلستاں کا وہ بیدار مر گیا
فرسودہ خیالات کا انکار مر گیا
افکارِ انقلاب کا یہ احمریں عَلم
کس شان سے تھامے ہوئے جی دار مر گیا
وہ رہنما راہِ خار خار مر گیا
وہ میرا کامریڈ میرا یار مر گیا
باقی ہے ابھی عزم وہ معمار مر گیا
بے خوف سپاہی وہ شاہسوار مرگیا
(سین ساقی)

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔