خبریں/تبصرے

آن کیمپس امتحانات کے خلاف مظاہرے اور گرفتاریاں

ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ (اسلام آباد) گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں میں طلبا و طالبات نے آن کیمپس امتخانات کے خلاف بھرپور احتجاجات و مظاہرے کیے ہیں۔ اسلام آبادمیں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوایجز (NUML) اور راولپنڈی میں ایرڈ اگریکلچر یونیورسٹی کے طالبعلموں نے احتجاج منظم کیے۔ لاہو میں گورنر ہاوس کے باہر پرائیویٹ یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

’NUML‘ کے طلبہ نے پہلے یونیورسٹی کے اندر بھر پور مظاہرہ کیا اور بعد ازاں سیون اپ چوک طرف ریلی نکال کر سڑک کو بند کردیا۔ جہاں پولیس کا شدید لاٹھی چارج سے متعدد طلبہ زخمی ہوئے اور کئی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ طالبعلم رہنما جمیل اقبال سمیت 8 طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن ملک بھر میں طلبہ کی طرف سے فوری اور شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور طلبہ کے خلاف پولیس گردی سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بن گئی۔ جس کی وجہ سے پولیس کو رات گئے تمام طلبہ کو رہا کرنا پڑا۔ جبکہ تحریک کو مندمل کرنے کے لیے ریاستی آشیرباد میں پلنے والی فاشسٹ طرز کی دائیں بازو کی رجعتی طلبہ تنظیم کے کارکنوں کی خدمات لی گئی جنہوں طلبہ کو ڈرا اور دھمکا کر ریاستی منشا کے مطابق بیان حلفی لینے کی منافقانہ واردات کرنے کی کوشش کی۔

یونیورسٹی انتظامیہ اور ریاستی حکام کی طلبہ مخالف اس روش کے خلاف اور طلبہ کے مطالبات کی منظور ی کے لیے ’NUML‘ کے طلبا و طالبات اورسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی راولپنڈی اسلام آباد نے آج یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے سامنے صبح 10 بجے احتجاج کی کال دی ہے۔ احتجاج کی وجہ طلبہ کے بنیادی مطالبات ہیں جن میں سہرفرست آن لائن تعلیم کے آن کیمپس امتحانات کو رد کرتے ہوئے آن لائن امتحانات کا مطالبہ ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر کلاسز آئن لائن لی گئی ہیں تو امتحانات بھی آئن لائن لیے جائیں۔ اور جن شعبہ جات کی کلاسیں جامعات میں ہوئی ہیں ان کا امتحانات کیمپس میں لینے پر ہمارے کوئی اعتراضات نہیں ہیں۔ طلبہ آئن لائن تعلیم کے معیار سے مطمئن نہیں ہیں اورسمجھتے ہیں کہ ایسی صورتحال انکے ’GPA‘ پر شدید اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ دیگر مطالبات میں ٹرانسپورٹ اور ہاسٹل کی فیسوں کی واپسی اور احتجاج میں شریک کسی بھی طالب علم کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کاروائی کا سدباب ہے۔

راولپنڈی میں ایریڈ ایگریکلچرل یونیورسٹی کے طالبعلموں نے بھی یونیورسٹی کے باہر احتجاج منظم کیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی ایک دن کی مہلت مانگنے پر عارضی طور پر احتجاج موخر کردیا گیا۔ اسلام آباد میں آن کیمپس امتحانات کے خلاف یہ کوئی پہلے احتجاج نہیں بلکہ نومبر میں کووِڈ کی سرکاری تعطیلات سے پہلے اقرا یونیورسٹی اور بحریا یونیورسٹی میں بھی اسی طرز کے احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔

وبا کے ساتھ درپیش آنے والے تعلیمی بحران سے نمٹنے میں حکومت کی یکسر ناکامی کے باعث طلبہ میں بے چینی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے فیسیں کی وقت پر ادا نہ کرپانے کے باعث طلبہ کی اکثریت یونیورسٹی انتظامیہ کی مقروض ہوتی جا رہی ہے۔ آن لائن کلاسوں کے دوران بھی طلبہ سے ہاسٹل، ٹرانسپورٹ، لائبریری اور سپورٹس جیسی سہولتوں کے چارجز لیے جاتے رہے ہیں جبکہ انکا استعمال مکمل طور پر معطل تھا۔

دوسری طرف ایک طویل مدت کے بعد طالبعلموں اور خصوصاً پرائیویٹ یونیورسٹی کے طلبہ میں سیاسی ہلچل پیدا ہو رہی ہے جس کا اظہار اس طرز کے خود رو احتجاجوں کی صورت میں ہو رہا ہے۔ جہاں یہ طلبہ سیاست کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے وہاں طلبہ کو کئی نئے چیلنجوں کا بھی سامنا ہے۔ ایک لمبے عرصے کی ڈی پولیٹی سائزیشن کے باعث سیاسی عوامل کو سمجھنے میں دشواری اور قیادت کا فقدان بھی واضح اظہار کر رہا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹھوس تجربات و تحریکیں دہائیوں کا سبق چند لمحوں میں سکھاتی ہیں۔ پچھلے دو برسوں سے طلبہ یونین کی بحالی کے ملک گیر احتجاجوں اور وبا کے دوران آن لائن کلاسز کے خلاف بلوچستان سمیت دیگر دوردراز کے علاقوں میں سے اٹھنے والی مزاحمت اب یونیورسٹیوں اور جامعات کے اندر اپنا اظہار کر رہی ہے۔ منظم انداز میں صبرکے ساتھ مسلسل جدوجہد ہی احتجاجوں اور تحریکوں کو جیت سے ہمکنار کرے گی۔