خبریں/تبصرے

نقاب پر پابندی کیخلاف ووٹ دیں: سوئس حکومت کی شہریوں سے اپیل

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سوئٹزر لینڈ کی حکومت نے رائے دہندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ 7 مارچ کو مسلم خواتین کے پہناوے، چہرے پر نقاب یا برقعے پر پابندی عائد کرنے کے سلسلہ میں ہونے والے ریفرنڈم کو مستردکریں کیونکہ اس اقدام سے سیاحت کو نقصان پہنچے گا۔

سوئٹزر لینڈ میں براہ راست جمہوریت کے نظام کے تحت 1لاکھ افراد کے دستخط سے پیش کی جانیوالی کسی بھی تجویز پر عوامی ووٹنگ کروائی جا سکتی ہے۔

2009ء میں سوئٹزر لینڈ کے رائے دہندگان نے نئے میناروں کی تعمیر پر پابندی عائد کرنے کی تجویز کی حمایت کی تھی۔ علاقائی ریفرنڈم میں پہلے ہی سوئٹزر لینڈ کی دو ریاستوں میں نقاب پر پابندی عائد کی جا چکی ہے لیکن سوئس حکومت کے مطابق ملک گیر آئینی پابندی عائد ہونا اچھا اقدام نہیں ہو گا۔

الجزیرہ کے مطابق حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ ”سوئٹزر لینڈ میں بہت کم لوگ چہرے کا مکمل احاطہ کرتے ہیں۔ ملک گیر پابندی سے ریاستوں کی خودمختاری کو نقصان پہنچے گا، سیاحت کو نقصان پہنچے گا اور خواتین کے مخصوص گروہوں کیلئے یہ غیر مددگار ثابت ہو گا۔“

بیان میں مزید کہا گیا کہ ”زیادہ تر خواتین جو نقاب کرتی ہیں وہ سیاح ہوتی ہیں اور صرف ایک مختصر وقت ملک میں گزارتی ہیں۔ “

ریفرنڈم کی تجویز میں کسی کو بھی جنس کی بنیاد پر چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اس تجویز کے پیچھے موجود گروہ میں دائیں بازو کی سوئس پیپلزپارٹی کے ممبر شامل ہیں۔ اسی گروپ نے میناروں پر پابندی کی تجویز بھی پیش کی تھی جسے 60 فیصد رائے دہندگان نے منظور کر لیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سوئٹزر لینڈ کی 8.6 ملین آبادی میں سے صرف 5 فیصد مسلمان ہیں۔

سوئس حکومت نے ایک جوابی تجویز بھی تیار کی ہے جو 7 مارچ کی تجویز رائے دہندگان کی طرف سے مسترد کئے جانے کے بعد ووٹنگ کیلئے پیش کی جائیگی۔ مذکورہ تجویز کے مطابق انتظامی دفاتر اور عوامی نقل و حمل پر شناخت کیلئے ضرورت پڑنے پر نقاب پہننے والی خواتین کو اپنا چہرہ ظاہر کرنا ہو گا۔

فرانس اور ڈنمارک میں چہرے کو ڈھانپنے پر پابندی عائد ہے۔

Roznama Jeddojehad
+ posts