تاریخ

لال خان: افکار تیرے ہونے کی گواہی دینگے!

حارث قدیر

زندگی اس پر رشک کرتی ہے جو زندگی سے بڑے مقصد کو مقصد حیات بنا لے، وقت سے ٹکرا جائے اور زمانے کو بدلنے کے حوصلے سے سرشار ہو۔ اس کرہ ارض کی موجودہ چکاچوند کو اربوں انسانوں نے اپنے خون سے سینچا ہے۔ لاکھوں ایسے انسان تاریخ میں امر ہو گئے جنہوں نے انسانیت کی بہتری کیلئے حالات کے جبر سے بغاوت کی اور تاریخ کے پہیے کو آگے لے جانے کیلئے اپنی زندگیاں جھونک دیں۔ انسانی تاریخ میں ایسے کردار بھی موجود ہیں جنہوں نے زمانے سے شکست ماننے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں، جواں حوصلے اور جرأتمندی سے زمانے کو مات دے ڈالی۔ ڈاکٹر لال خان کے نام سے مشہور ہونے والے ’ڈاکٹر یثرب تنویر گوندل‘ بھی انہی کرداروں میں سے ایک ہیں۔

جب سامراج کے حمایت یافتہ پاکستانی تاریخ کے جابر ترین فوجی آمرنے اپنے وقت کے مقبول ترین عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا تو اسکے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کرنے سے شہرت پانے والے یثرب تنویر گوندل نے ریاستی جبر و استبداد کے خلاف جدوجہد کو تعمیر کرتے ہوئے سائنسی سوشلزم کے نظریات سے لیس ہوکر ’ڈاکٹر لال خان‘کے نام سے شہرت پائی۔ دیوار برلن کے گرنے اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد جب سرمایہ داری کی فتح کا جشن منایا جا رہا تھا، انقلاب اور سوشلزم کے نام لیوا سرمایہ داری کے سامنے سر تسلیم خم کر چکے تھے، یا این جی اوز اور اصلاح پسندی میں غرق ہو رہے تھے، ایسے وقت میں ’ڈاکٹر لال خان‘ایک انقلابی قیادت کی تعمیر میں نہ صرف مگن تھے بلکہ سرمایہ داری کی فتح کے جشن کی نحیف بنیادوں کی سائنسی وضاحت کرنے میں مصروف تھے۔ جب انقلاب اور سرمایہ داری کے خاتمے کی ہر آس اور امید ٹوٹ چکی تھی تب ’ڈاکٹر لال خان‘نے وقت اور زمانے کے سامنے شکست تسلیم کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں، جرأت، بہادری اور حوصلے سے انقلابی نظریات کا دفاع کیا۔

پسماندہ معاشروں میں ہمیشہ ترقی یافتہ معاشروں کی تقلید کی روایت قائم رہی اور سرمایہ دارانہ انقلابات کے بعد پسماندہ معاشروں کو بزور طاقت اس روایت پر ڈھالنے کی نہ صرف کوشش کی گئی بلکہ سرمائے کے قومی حدود کو پھلانگ جانے کے بعد پسماندہ معاشرے جدت اور قدامت کا ایسا امتزاج بن گئے کہ انکے آگے بڑھنے، ترقی کرنے اورترقی یافتہ معاشروں سے ہم آہنگ ہونے کی مادی بنیادیں ہی نہ پنپ سکیں۔ ان معاشروں کی موجودہ حالت کی مادی بنیادوں کی سائنسی وضاحت کی کوشش کی بجائے مغربی معاشروں کے ارتقا کے مراحل کو نقل کے ذریعے سمجھنے کی کوشش بھی ایک بڑی وجہ تھی کہ نام نہاد بائیں بازو کے دانشور اصلاح پسندی اور قومی جمہوری انقلاب کی مرحلہ واریت جیسے نظریاتی ابہام کا شکار ہو کر جدوجہد سے ہی دستبردار ہو گئے۔

’ڈاکٹر لال خان‘کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پسماندہ معاشروں کی پسماندگی کی مادی وجوہات کی سائنسی تشریح کی۔ ’مشترک اور ناہموار ترقی‘ اور ’نظریہ مسلسل انقلاب‘ کے ذریعے ان معاشروں میں قومی جمہوری انقلاب کے فرائض کی عدم تکمیل کی سائنسی وضاحت کی اور جمہوری مسائل سے قومی مسئلے تک کا ایک انقلابی حل پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ’ڈاکٹر لال خان‘پاکستان جیسے ایک ایسے پسماندہ معاشرے میں، جو مظلوم قومیتوں کاجیل خانہ ہو، ایک ہم آہنگ ’انقلابی اوزار‘تخلیق کرنے میں کامیاب ہو پائے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مظلوم قومیتوں کے حق خودارادیت بشمول حق علیحدگی کی حمایت کرتے ہوئے قومی آزادی کی تحریکوں کے دریاؤں کو طبقاتی جدوجہد کے سمندر میں پرو کر سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کر کے ہی محنت کش طبقہ نہ صرف پسماندگی اور انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کا خاتمہ کر سکتا ہے بلکہ تمام مظلوم قومیتوں کی شناخت، آزادی اور خودمختاری کو یقینی بناتے ہوئے ایک سوشلسٹ فیڈریشن کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے، جو نہ صرف اس خطے بلکہ پورے جنوب ایشیا کے انسانوں کی جبر کے نظام کے خلاف فتح کی نوید ہو گی اور دنیا بھر کے محنت کشوں کے دکھوں اور تکالیف کا مداوا کرنے کے تسلسل کی ضامن ہو گی۔

’ڈاکٹر لال خان‘نے جہاں برصغیر کی خونی تقسیم کی مادی بنیادوں کو عیاں کیا، وہاں انہوں نے پاک و ہند میں انقلابی نظریات کے پرچار اور انقلابی پارٹی کے قیام کیلئے لازوال جدوجہد کی۔ مختصر سی زندگی میں کئی سو سال کی زندگی جی کر اس خطے کو انقلابی نظریات سے منور کیا۔ بھارتی و پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر ہو، بلوچستان، سندھ، پشتونخوا ہو یا پنجاب و ہریانہ کی گلیاں اور کھیت کھلیان ہوں، ’ڈاکٹر لال خان‘کو جہاں کہیں انقلابی نظریات کے متلاشی نوجوانوں اور انقلابیوں کی موجودگی کی اطلاع ملی انہوں نے نہ دن دیکھا، نہ رات دیکھی، اس جدوجہد میں نوجوانوں کو منظم اور نظریات سے لیس کرتے گئے۔ ٹرین کے فرش پر بیٹھ کر گھنٹوں کا سفر کرنا ہو یا سنگلاخ پہاڑوں، نخلستانوں اور ریگستانوں کا پیدل سفر ہو، یورپ کی یخ بستہ فضائیں ہوں یا تھر و چولستان کی لُو چل رہی ہو، انقلاب کے اس عظیم معمار نے ہر گلی، ہر کوچہ اس سفر کو جاری رکھا اور اپنے ہر عمل سے انقلابی جدوجہد کو مہمیز دی۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں نوجوانوں کی انقلابی روایت جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کو جب اسکی بنیادی اساس، سائنسی سوشلزم کے نظریات سے ہٹتے دیکھا تو کشمیری نوجوانوں کو انقلاب کا درس دیکر نوجوانوں کی اس انقلابی میراث کو نئی تاریخ سے مزئین کیا اور بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں انقلابی رہنما یوسف تاریگامی سمیت بے شمار ساتھیوں کے ساتھ ملکر اس جدوجہد کو استوار کیا۔ یہی وجہ تھی کہ ’ڈاکٹر لال خان‘شاید برصغیر کے واحد انقلابی رہنما اور نظریہ دان تھے جنکی موت پر جموں کشمیر کے دونوں حصوں میں نوجوانوں اور انقلابیوں کی ایک بڑی تعداد نے انہیں شاندار طریقے سے خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے نظریاتی ابہام کا شکار بلوچ قیادتوں کی بھینٹ چڑھ کر بندوق اٹھائے پہاڑوں کا رخ کرنے والے بلوچ نوجوانوں کو آزادی اور انقلاب کا راستہ فراہم کیا اور بلوچ نوجوانوں کی جدوجہد آزادی کی انقلابی میراث بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو سائنسی سوشلزم کے نظریات سے لیس کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سامراجی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے قبائلی علاقہ جات میں نوجوانوں کو انقلابی نظریات سے لیس کرنے کا سہرا بھی ’ڈاکٹر لال خان‘کے سر جاتا ہے۔ آج کراچی کی سنٹرل جیل میں قید ممبر قومی اسمبلی علی وزیر اور ان کے ساتھی ’ڈاکٹر لال خان‘ کے نظریات اور افکار کو اپنائے ہوئے سامراجی جبر سے نجات کی اس جدوجہد کے سرخیل ہیں۔

’ڈاکٹر لال خان‘ ایک کل وقتی انقلابی رہنما تھے، جنکی زندگی کے بے شمار پہلو اور بے شمار جہتیں تھیں۔ انہوں نے بے شمار تاریخی تصانیف تخلیق کیں، نظریات کی ترویج اور نکھار لانے میں ایک عہد ساز کردار ادا کیا۔ وہ ایک عظیم مزاحمت کار تھے، شعلہ بیاں مقرر تھے، ایک جرأت مند سیاسی کارکن تھے اور ایک انتہائی عاجز اور درویش صفت انسان تھے۔ نظریات کے ساتھ ایک چٹان کی مانند کھڑے رہنے والے ناقابل مصالحت کردار کے حامل ہوتے ہوئے حکمت عملی میں انتہائی لچکدار اور نفیس رویوں کے مالک تھے۔ ایسی بے شمار خوبیاں تھیں جو انہیں تمام تر انقلابیوں پر فوقیت دیتی ہیں۔ ’ڈاکٹر لال خان‘ کے ساتھ سیاسی سفر کرنے والے انکے ساتھیوں، انکے دوستوں اور دشمنوں کو جہاں انکی زندگی کے مختلف پہلو دیکھنے کا موقع ملا، وہیں انکے افکار، نظریات اور انتھک جدوجہد انکی موت کے بعد انکے ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔

وہ گزشتہ سال 21 فروری 2020ء کو کینسر کے موذی مرض سے جسمانی شکست تو کھا گئے لیکن انکے افکار، انکے نظریات اور انکی جدوجہد سے مزئین زندگانی آنیوالی نسلوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ جب تک ظلم، جبر، غلامی، فرسودگی اور استحصال موجود ہے، جب تک طبقاتی نظام موجود ہے، تب تک انقلابی جدوجہد جاری رہے گی اور ’ڈاکٹرلال خان‘ کا کردار، انکی تصانیف اور نظریات اس جدوجہد کے سپاہیوں کا سب سے مضبوط ہتھیار رہیں گے۔ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کی ہر غلاظت کا خاتمے اورایک حقیقی انسانی معاشرے کے قیام کے ذریعے ہی ’ڈاکٹر لال خان‘ کی لازوال جدوجہد کو حقیقی خراج پیش کیا سکتا ہے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔