تاریخ

پوٹھوہار کی دو ہی تاریخی شخصیات: دادا امیر حیدر اور لال خان

فاروق طارق

مرحوم لال خان کی پہلی برسی 21 فروری کو ہو گی۔ ایک سال قبل اسے سرخ جھنڈوں کے سائے تلے اور سرخ نعروں کے شور میں اس کے آبائی قصبہ بھون کے تاریخی قبرستان میں دفنایا تھا۔ وہی بھون جو اس کی جان تھا، جہاں سے وہ چند سالوں سے آرگینک گندم کی بوریاں لا کر پیار بھری نظروں سے دیکھتے میرے حوالے کرتا تھا: ’پہلے میں منو بھائی کو یہ گندم گفٹ کرتا تھا۔ وہ نہیں رہااور اب تمھیں‘۔

یہ وہ بھون تھا جس جگہ اسے تنہائی اور سکون ملتا تھا اپنی کتابوں کو مکمل کرنے کے لئے۔ یہاں اس کی آبائی حویلی تو میں 1986ء سے ہی وزٹ کرتا رہا ہوں، جسے چند سالوں سے اس کی انتہائی لاڈلی بہن بتول اس کے اوریجنل آرکیٹیکچر کو محفوظ کرنے سویڈن سے یہاں آ کر مہینوں رہتی ہیں۔

بھون کے ہی ڈاکٹر مسعود، جو لال خان کے بچپن کے ساتھی اور اب لندن میں سینئر ڈاکٹر ہیں، نے فون پر چند روز قبل لال خان کا جس پیارے طریقے سے ذکر کیا اس سے لال خان کے دوستوں کے انتہائی وسیع دائرہ کار کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو اسے اپنی جان سے بڑھ کر پیار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مسعود کے مطابق ہمارے اس علاقے کی دو ہی تاریخی شخصیات ہیں ’ایک دادا امیر حیدر اور دوسرا لال خان۔‘

اور پھر ہمارا سب کا پیارا ساتھی ڈاکٹر ثاقب عباسی جو تنویر (لال خان کا اوریجنل نام) سے لندن میں اپنی وقتی پیار بھری چپقلشوں کوا ور پھر بھول بھال کر جپھی ڈالنے کے واقعات کو جس پیار سے دھراتا ہے، وہ لال خان کی دوستوں سے پیار کی لازوال داستان ہے۔

یہی صورتحال ڈاکٹر خالد جاوید جان کی ہے جنہیں اب ان سے کہیں زیادہ عمار علی جان کے والد کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ ڈاکٹر خالد جاوید جان جو لال خان کے ساتھ تھا اس روز جب راولپنڈی میڈیکل کالج میں ان پر جنرل ضیا کے بھیجے غنڈوں نے حملہ کیا تھا۔ خالد جاوید جان اپنی ٹوٹی ٹانگوں کی وجہ سے سے ہفتوں ہسپتال میں رہا تھاجبکہ لال خان تھوڑا خوش قسمت رہا جو ان سے جان بچا کر ایمسٹرڈیم براستہ بنکاک پہنچا تھا جہاں دوسرے تیسرے روز اس کے کزن آصف محمود مرحوم نے مجھے بتایا کہ تمہارے جیسا ایک اور بھی پاکستان سے آیا ہے، اس سے ملاقات کرواتا ہوں۔

میں ایمسٹرڈیم کی’فری یونیورسٹی‘ کا اس وقت طالب علم تھا۔ بھٹو کی پھانسی سے قبل اور بعد میں ضیا مخالف کچھ سرگرمیوں سے ہالینڈ میں مقیم تارکین وطن کی ایک اچھی خاصی تعداد ہمارے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ اس میں ہمارے شائع کردہ اس 15 روزہ ”محب وطن“ رسالہ کا بھی بڑا ہاتھ تھا جو ہالینڈ میں پاکستانی تارکین وطن کے لئے شائع ہونے والا پہلا اردو میگزین تھا جسے ضیا برنی اور میں نے مل کر نکالا۔ 1979ء میں صرف چند شمارے ہی نکلے تھے۔

اور اب 1980ء کا اوائل تھا۔ بس اگلے چند سال یثرب تنویر گوندل، لال خان کے نام سے اور میں قیصر جمال کے نام سے اپنے شائع کردہ ’جدوجہد‘ میں آمریت مخالف تحریک کو منظم اور مضبوط کرنے کے لئے لکھتے رہے اور تنویر تو آخری دم تک لال خان کے نام سے لکھتا رہا۔ میں 1986ء میں تنویر سے ایک سال قبل جلاوطنی چھوڑ کر پاکستان واپس آ کے اپنے اوریجنل نام سے لکھنے لگا۔

1980ء سے 1986ء تک لال خان اور ہم سب ساتھی ایک انقلابی مشن میں جت گئے۔ ایک جانب ایک نئے لیفٹ کی بنیادیں رکھنے میں ہمیں روایتی لیفٹ کی مخالفت کا سامنا تھا۔ لیون ٹراٹسکی پاکستان میں موجود بائیں بازو کے سٹالنسٹ نظریات پر قائم افراد کے لئے شجر ممنوعہ تھا اور ہمارے لئے انقلاب کی راہیں کھولنے اور استوار کرنے والا۔

ہم نے نومبر 1980ء میں ’جدوجہد‘ رسالہ کی اشاعت کا آغاز کیا ایمسٹرڈیم سے پھر ملک اخلاق برادران کے شائع کردہ رسالے ’حقیقت‘ کے ’جدوجہد‘ میں ادغام کے بعد یہ بلجیم کے شہر ہاسلٹ میں ہاتھ سے لکھا جاتا، وہیں کے ایک پرنٹنگ پریس سے شائع ہوتا اور پھر ایمسٹرڈیم گروپ کے ذریعے پورے یورپ میں بھیجا جاتا ان کو جو ہمارے ساتھی اور ہمدرد تھے۔ تنویر اور میں اس کے ہر شمارہ میں لکھتے۔ ’جدوجہد‘کے سر ورق ملک شمشاد بناتے جو بعد میں پوسٹرز کی صورت اختیار کر جاتے۔

ہم صرف رسالہ شائع کرنے والا گروپ نہ تھے بلکہ ایک انقلابی تنظیم کی تعمیر کا کام مسلسل جاری تھا۔ میں اس تنظیم کا پہلا فل ٹائمز تھا جو اپنی پڑھائی چھوڑ چھاڑ کر اس میں جت گیا۔ لال خان اور تمام ساتھیوں کے لئے میں ’چیئرمین‘ تھا اور وہ آخری دم تک مجھے چیئرمین ہی کہہ کر پکارتے تھے۔ تنویر اس بے نام تنظیم کا جنرل سیکرٹری تھا اور اس کی نظریاتی روح۔

وہ کمال کا ریڈر تھا۔ ترجمہ کرنا اس کا بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ اچھی انگلش بولتا اور لکھتا تھا، ملٹری سکولوں کا پڑھا ہوا تھا۔ ایک فوجی کرنل کا اکلوتا بیٹا، تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ ذہانت اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اچھی کاریں رکھنا، اچھی خوشبو لگانا، خوش لباسی اور سمارٹ ینگ مین تھا ایمسٹرڈیم کے سرکلز میں۔ سٹڈی سرکلز کا اچھا منتظم تھا۔ رشتے بنانا اور نبھانا کوئی لال خان سے سیکھے۔ جو ایک دفعہ مل گیا اسی کا ہی ہو گیا۔

1980ء سے 1987ء تک لال خان ایمسٹرڈیم میں تھا۔ وہ پورا یورپ گھوما انقلابی نظریات کے پرچار اور تنظیم سازی کے لئے، ’جدوجہد‘ کی سالانہ کانگرسیں منعقد کروانے میں، اس کے پرسپیکٹو ڈاکومنٹس لکھنے میں، لیڈ آف دینے اور تیار کروانے میں لال خان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ یہ چھ سات سال بھول کر بھی بھول نہ پائیں گے۔ دن رات ایک تھا، جسم وجان ایک تھی، نظریہ ایک تھا۔ یکجہتی کا ایک دور تھا۔ جنون تھا انقلابی نظریات کا جسے لال خان نے آخری دم تک اور ہم نے اپنے طریقے سے اب تک جاری رکھا ہوا ہے۔

لال خان سے نظریاتی حکمت عملیوں پر اختلاف ہوا 1992ء میں جو 2006ء تک جاری رہا۔ پھر جو دوبارہ ملے تو لال خان کے دنیا سے جانے سے ہی یہ تعلق ختم ہوا۔ یہ آخری 14 سالوں میں ہم باقاعدگی سے ملتے، نظریاتی بحثوں اور کام کرنے کے طریقوں پر بے شمار بحثیں جاری رہیں۔

2016ء میں جب میں ڈینگی کا شکار ہوا تو لال خان بہت سا پھل لے کر گھر پہنچ گیا ڈھیروں باتیں کیں اور جب لال خان کینسر کا شکار ہوا تو ہم ’انمول ہسپتال‘ میں اس کی کیموتھراپی کے دوران اس کے کمرے میں ہوتے تو فرزانہ باری پہلے ہی موجود ہوتیں۔ کون ہے اس کا دوست جو اس کی تیماداری کو نہ پہنچا ہو۔ وہ اپنی بیماری بتاتا نہ تھا۔ ’آخری دم تک لڑوں گا چیئرمین۔‘ یہ اس کا فقرہ مجھے ہر دفعہ سننے کو ملا جب بھی اس سے ملا اس کی بیماری کے دوران۔

میری بیٹی کے نکاح کا سنا تو انتہائی خوش ہوا، گفٹ بھیجا، ’C&A‘ کی نئی جرسی مجھے گفٹ کی اسے معلوم تھا ایمسٹرڈیم کے اس بڑے سٹور کی جرسیاں مجھے پسند ہیں۔ ’تمھارے لئے خریدی تھی جب آخری دفعہ ایمسٹرڈیم گیا تھا‘۔ معلوم نہیں کب گیا تھا یا پھر اپنی ہی نئی جرسی اٹھا کر مجھے دی اس حالت میں، جس کا ذکر بھی نہیں کر سکتا۔

جب علی وزیر ایم این اے منتخب ہوا اور لال خان کے گھر پہلی دفعہ پہنچا تو مجھے رات دس بجے فون کیا، آ جاؤ، میں پھولوں اور مٹھائی کا ڈبہ لے کر اس کے گھر پہنچا تو کہنے لگا کہ ہمیں تو جشن منانا بھی نہیں آتا، کوئی یہ فن چیئرمین سے سیکھے۔

2018ء کے عام انتخابات کا نتیجہ اس کے گھر بیٹھ کر دیکھنے لگے۔ رات 9 بجے سے جب رزلٹ آنے ایک دم بند ہو گئے اور 12 بجے تک ایسا ہی رہاتو ہم دونوں ایک ہی نتیجہ پر متفق تھے۔ ہم دونوں کا خیال تھا ’لو جی کم پے گیاجے‘ (لو جی کچھ کام پڑ گیا ہے)۔

لاہور لیفٹ فرنٹ اس کی تجویز تھی، ہم نے اس پر کام کیا۔ اسکا دل تھا کہ موچی دروازے میں جلسہ ہو، ہم نے مل کر پلان کیا اور اپریل 2019ء میں یہ جلسہ بھی کر دیا بھرپور انداز میں۔ جب ایک ’نامعلوم‘ نے لال خان کو فون پر جلسے سے پہلے دھمکیاں دیں تو پھر موچی دروازہ جلسے میں تقریر کرتے میں نے لال خان کو دی جانے والی دھمکیوں کے ردعمل میں ان کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے کہا ’دھمکیاں دیتے ہو، ہم یہاں آ گئے ہیں، کرو جو کرنا ہے۔ دھمکیاں برداشت نہیں ہیں‘۔ بڑا خوش تھا موچی دروازے کے جلسے کی کامیابی سے۔

لال خان؛ اب ہم دوبارہ موچی دروازہ آ رہے ہیں۔ 10 اپریل 2021ء کو تمہارا انقلابی مارکسسٹ مشن جاری رکھنے۔ تم بھول کر بھی بھول نہ پاؤ گے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔