نقطہ نظر

روشنی بانٹتا گیا کوئی: فاروق طارق سے انٹرویو

قیصر عباس

یہ 1977ء کا ہنگامہ خیز سال تھا۔ پاکستان کے بدترین آمر نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ جما لیا تھا اور میڈیکل کے ایک نوجوان طالب علم نے اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے کی جرات کی تھی۔ اسے کالج سے نکال کر ایک اور جگہ منتقل کر دیا گیا اور جب یہاں بھی اس کی مزاحمت جاری رہی تو اسے مزہ چکھانے کے لئے سرکاری غنڈوں کے ذریعے اس پر ایک جان لیوا حملہ کرایا گیا۔

اسی فوجی آمر ضیا الحق نے جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر اپنے راستے سے ہٹایا تو یہی نوجوان احتجاجی تحریک میں سب سے آگے تھا۔ حالات اتنے مخدوش ہو گئے کہ اس کو اپنی جان بچاکر بلجیم میں سیاسی پناہ لینی پڑ ی۔ پاکستان کا یہ انقلابی لال خان کے نام سے جانا جاتا ہے جو ایک مارکسسٹ، سیاسی کارکن اور ترقی پسند دانشور کی حیثیت سے مشہور ہوا۔ اس کا اصل نام تنویر گوندل تھا۔

لال خان جس نے ڈاکٹری کا پیشہ چھوڑکر ساری زندگی مزدوروں، کسانوں اور غریبوں کے لئے وقف کرد ی ایک سال پہلے 21 فروری کو یہ دنیا چھوڑ گیا۔ اس کے آبائی گاؤں میں اس کی تدفین کا منظر بھی عجیب تھا۔ لال خان کے ایک دوست اور صحافی امتیاز عالم نے یہ منظر کچھ اس طرح رقم کیا:

”جب ہم اس کے جنازے میں اس کے گاؤں بھون (چکوال) پہنچے تو نہایت رقت آمیز ماحول میں اس کے سینکڑوں ساتھیوں کو بلبلا کے روتے پایا۔ گاؤں کے لوگ بھی حیران تھے کہ کہ کرنل صاحب کے بیٹے کے لئے یہ کون لوگ ہیں جو لال جھنڈے لہراتے آئے ہیں اور کوئی انقلابی گیت (انٹرنیشنل) گاتے ہوئے اسے آخری ہدیہ تبریک پیش کر رہے ہیں۔“

آج لال خان کی پہلی برسی کے موقع پر پاکستان اور ملک سے باہر ان کے دوست اور ترقی پسند کارکن ان کی خدمات اور نظریاتی میراث کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ اس انٹرویو میں لال خان کے ایک دیرینہ ساتھی فاروق طارق، جو بلجیم میں جلاوطنی کے دوران اور پھر پاکستان میں ان کی انقلابی تگ ودومیں ان کے شانہ بشانہ رہے، بیتے شب و روز پر ایک نظر ڈال رہے ہیں۔

آپ لال خان کے قریبی دوستوں میں سے ہیں جنہوں نے نظریاتی جدو جہد میں ہمیشہ ان کا ساتھ نبھایا۔ یہ بتائیے کہ آپ دونوں کا یہ نظریاتی سفر کیسے شروع ہوا اور وہ خود کس طرح ترقی پسند سیاست کا حصہ بنے؟

میں یثرب تنویر گوندل سے جو لال خان کے نام سے مشہور ہیں، 1980ء میں ایمسٹرڈیم، نیدرلینڈ میں ملاتھا۔ یہ ملاقات ان کے کزن آصف محمود نے کرائی تھی۔ ان ہی دنوں وہ پاکستان سے، جہاں ان کی جان کوخطرہ تھا، بنکاک کے راستے ایمسٹرڈیم پہنچے تھے۔ یہ جون کا مہینہ تھا اور میں بھی اس وقت جلاوطن کی حیثیت سے وہیں پیپلز پارٹی کا سربراہ تھا۔

لال خان کی دائیں بازو سے وابستگی کا آغاز 1977ء میں ہوا جب وہ نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طالب علم تھے۔ جنرل ضیا الحق نے اسی دوران حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا جس کی لال خان نے مزاحمت کی۔ اسی کی پاداش میں انہیں ملتان سے راولپنڈی میڈیکل کالج منتقل کر دیا گیا۔ وہ اپنی سرگرمیوں سے پھر بھی باز نہ آئے تو مسلح غنڈوں کے ذریعے ان پر حملہ کرایا گیا۔

اس حملے میں زخمی ہونے کے بعد بمشکل ان کی جان بچ سکی اور وہ ملک چھوڑ کر بلجیم پہنچ گئے۔ ہم دونوں نے نومبر 1980ء میں پاکستانی تارکین وطن کے لئے ایمسٹرڈیم میں مارکسسٹ سرکل کی بنیاد ڈالی اور اخبار ’جدوجہد‘ کی اشاعت شروع کی۔ اس کے بعد ہم آئندہ 40 عشروں تک نظریاتی جدوجہد میں ساتھ رہے۔

لال خان نے ساری زندگی مزدوریونینز، کسانوں اور پسماندہ لوگوں کے لئے کام کیا۔ مزدوروں کے کام اور اجرتوں کی بہتری کے لئے ان کی حکمت عملی کیا تھی اور اس میں آپ کیا کردار رہا؟

جلاوطنی سے واپسی کے بعد 1986ء میں ہمارے گروپ ’جدوجہد‘ نے پاکستان کے نجی اور سرکاری اداروں میں مزدور یونینز بنائیں۔ مزدور تحریک میں ہمارا ایک ٹھوس اقدام یہ تھا کہ ہم نے 1989ء میں نجکاری کے خلاف تحریک کا آغاز کیا۔ اسی دوران میں نے ’بے نظیر بھٹومارگریٹ تھیچر کی راہ پر‘ کے عنوان سے ’جدوجہد‘ میں نجکاری کے خلاف اپنا پہلا مضمون شائع کیا۔ ہم نے ’اینٹی ڈینیشنالائزیشن ایکشن کمیٹی‘ (ADNAC) کے نام سے یونینز کا اتحاد قائم کیا جس کے ذریعے مسلم کمرشل بینک کے بے نظیر کے فیصلے کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ ہم نے کالا شاہ کاکو اور نیلا گمبد لاہور میں مزدوروں کے بڑے اجتماعات کرائے۔ نواز شریف برسر اقتدار آئے تو ٹریڈیونین کے کچھ سربراہوں نے ہماری مخالفت کے باوجود (ADNAC) کو خیرباد کہہ کر گولڈن ہینڈ شیک لے لیا۔

آنے والے دنوں میں لال خان کا ایک اور کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے ’پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفینس کمپئین‘ (PTUDC) کی بنیاد رکھی جو بعد میں ایک طاقتور ادارے کے طور پر ابھری اور آج تک مزدوروں کے تحفظ کے لئے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے پاکستان کے ایک بدترین آمر جنرل ضیا الحق کے خلاف بھرپور احتجاجی مہم چلائی جس کے نتیجے میں انہیں نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ آمروں کے خلاف ان کے نظریات، مزاحمت اور سرگرمیوں پر کچھ روشنی ڈالیں۔

اپریل 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعدلال خان نے، جو اس وقت نشتر میڈیکل کالج کے طالب علم تھے، لشکرشاہی کی تمام مخالفتوں اور دھمکیوں کے باوجود، غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کرایا۔ وہ طلبہ کی یونین میں کامیابی کے بعد اس کے جنرل سیکرٹری بن گئے۔ کالج سے نکالے جانے کے بعد انہیں راولپنڈی میڈیکل کالج پہنچایا گیا۔ اتفاقاً جنرل ضیا کی بیٹی بھی اسی کالج کی طالبہ تھیں جن کو چیلنج کرنے کے بعد لال خان پر کالج کی حدود ہی میں ایک قاتلانہ حملہ کرایا گیا۔ وہ خود توا س حملے میں بچ گئے لیکن ان کے ساتھی شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ان کا پاکستان میں رہنا انتہائی دشوار بنا دیا گیا جس کے نتیجے میں انہیں ملک چھوڑنا پڑا۔

لال خان عالمی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ترقی پسند نظریات اورانقلاب کی حکمت عملی پر ایک عرصے تک لکھتے رہے۔ پاکستان میں ایک مساویانہ سماج کے قیام کے لئے ان کے بنیادی نظریات کیا تھے؟

ایمسٹرڈیم میں ہماری جلاوطنی کے دوران کرامت علی نے، جو اس دوران وہاں آئے ہوئے تھے، ہمارا تعارف ’کمیٹی فار ورکرز انٹرنیشنل‘ (CWI) سے کرایا جو برطانیہ کے ایک مارکسسٹ گروپ کی شاخ کے طور وہاں کام کر رہی تھی۔ ہم دونوں دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اس میں سرگرم ہو گئے۔ یہ گروپ لیون ٹراٹسکی کے نظریات کا حامی تھا۔ وہیں ہم نے مارکس، اینگلز، لینن اور ٹراٹسکی کی کتابوں کا مطالعہ کیاجن میں ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘، ’سٹیٹ اینڈ ریولوشن‘ اور دوسری تصانیف شامل تھیں۔

ہم ٹراٹسکی کی تصانیف سے بہت متاثر تھے جنہوں نے سٹالین کے نظریات کی مخالفت کرتے ہوئے ایک حقیقی اور جمہوری سوشلزم کی حمایت کی۔ لیکن ہم نے آج کے حالات میں مارکسزم کو سمجھنے کی کوشش کی اور ہمیشہ مارکسسٹ رجعت پسندی سے دور رہے۔

لال خان بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے ترقی پسند نظریات اور کام کے لئے پہچانے جاتے تھے۔ بین الاقوامی اداروں اور دانشوروں کے ساتھ ان کے کام کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

لال خان اپنے انتقال تک ’ایشین مارکسسٹ ریو‘ کے مدیر رہے اور دنیاکے کئی مارکسسٹ جریدوں میں لکھتے بھی رہے۔ وہ ایک درجن سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں اور کئی اردو اخبارات میں کالم بھی لکھتے رہے۔ اپریل 2019ء میں ’روزنامہ جدوجہد‘ کا قیام ان کی آخری کاوشوں کا حصہ تھا۔

وہ مارکسزم کوایک بین الاقوامی نظام کا حصہ سمجھتے تھے اور ہم دونوں جلاوطنی کے دوران لندن کی ’CWI‘ کے رکن تھے۔ لیکن جب اسے ایک پارٹی بنانے کی کوشش کی گئی تو لال خان نے ٹیڈ گرانٹ کا ساتھ دیا جو دوسری جنگ عظیم کے بعدعالمی ترقی پسندوں میں ایک بڑا نام تھا۔ میں نے اس وقت ویکلی ملیٹنٹ کے مدیر پیٹر ٹاف کا ساتھ دیا۔ اسی پس منظرمیں لال خان اور میں 2006-1992ء کے دوران الگ الگ راہوں پہ گامزن رہے لیکن اس کے بعد ہم اپنے اختلافات ختم کر کے دوبارہ دوست بنے جسے ہم نے آخر تک نبھایا۔

’CWI‘ سے علیحدگی کے بعدا نہوں نے’انٹرنیشنل مارکسسٹ ٹینڈینسی‘ (IMT) کی بنیاد رکھی لیکن بعد میں اس سے بھی دور ی اختیار کی۔ انتقال تک وہ’انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل‘ کے رکن رہے اور بلجیم میں 2017ء میں اس کی کانگریس میں بھی شریک ہوئے۔’جدوجہد‘ اس گروپ میں مستقل مبصر کے طورپرشامل رہا۔ خان جلاوطنی کے دور میں ہمارے مشترک استاد راجر سلورمین کی سربراہی میں ’ورکرز انٹرنیشنل نیٹ ورک‘ کے ساتھ بھی آخر تک کام کرتے رہے۔

آپ کے خیال میں ان کے سیاسی کام اور نظریاتی وراثت کو کس طرح جاری رکھا جا سکتا ہے؟

لال خان پاکستان مارکسسٹ تحریک کی روح تھے جنہوں نے ایک بڑی ترقی پسند تحریک ’جدوجہد‘ کی بنیاد رکھی۔ ان کا نام ایک بے مثال مقرر، مصنف، نظریاتی رہنما اور لوگوں کو متحد کرنے والے لیڈر کے طورپر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان میں لاتعداد ترقی پسند اداروں کی داغ بیل ڈالی۔

لاہور لیفٹ فرنٹ کا قیام بھی ان کی آخری کاوشوں میں سے ایک ہے جس نے شہر کے تاریخی موچی گیٹ میں ہزاروں لوگوں کے ایک جلسے کا اہتمام کیا۔ اس جلسے سے میرے علاوہ، منظور پشتین، علی وزیر، محسن داوڑ، حناجیلانی، سلیمہ ہاشمی اوردوسرے اکابرین نے خطاب کیاتھا۔

لال خان نے اپنی پوری زندگی ٹریڈیونینز، نوجوانوں کی تنظیمیں اور دوسرے ادارے بنانے میں صرف کی جن کا مقصد پاکستان میں عوامی بنیادوں پر مزدور پارٹی کا قیام ہے۔ ہمیں ان کی مارکسسٹ اور ترقی پسند سیاست کی وراثت کو قائم رکھنا ہے اور ’روزنامہ جدوجہد‘ جیسے دوسرے اداروں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

ایک اشتراکی انقلاب کے ذریعے ہی ہم قومی ا ور عالمی نظام میں مزدوروں کی نظریاتی اور شعوری شرکت کویقینی بنا سکتے ہیں کہ یہی وہ واحد طبقہ ہے جو سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کی طاقت رکھتا ہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔