دنیا

برصغیر میں جمہوری اقدار اور انفرادی آزادی کے ناتواں ستون!

قیصر عباس

”دنیا میں جہاں گزشتہ سال ایک موذی وبا، انسانی جانوں کے ضیاع، تشدد اور سیاسی کشیدگی نے تباہی مچائی وہیں جمہوریت کے نام لیواوں کو شدید نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس دوران آمریت کے خلا ف لڑتے ہوئے انہیں کئی محازوں پر انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔ نئی دنیا کے لیڈروں نے، اکثر صحت عامہ کے نام پر، اپنے مخالفین کی آواز دبانے کے لئے بھرپور طاقت کا استعمال کیا۔ ان حالات میں جمہوریت کے نہتے سپاہی، جنہیں عالمی سطح پربہت کم حمایت حاصل تھی، طویل قید و بند، تشدد اور قتل کے ہولناک جرائم کاشکار ہوئے۔“

یہ ایک غیر جانبدار عالمی تنظیم’ فریڈم ہاوس ‘کی نئی سالانہ رپورٹ کا خلاصہ ہے جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ یہ رپورٹ ہر سال عالمی سطح پر ملکوں کی جمہوری روایات کی بنیادپر ’آزاد، جزوی آزاد اور غیر آزاد‘ ملکوں کی حیثیت سے درجہ بندی کرتی ہے۔ سال رواں کی رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں جمہوری اقدار میں بہت کم بہتری دیکھی گئی جب کہ انڈیا، اردن، کرغستان، مالی، پیرو، تھائی لینڈ اور زمبابوے میں جمہوری اقدار رو بہ زوال نظر آئیں۔

نئی رپورٹ میں 2020ءکے دوران 195 ملکوں اور ان سے منسلک 15 علاقوں میں سیاسی قوت اور شہری آزادیوں کا جائزہ لے کر ان کا تجزیہ پیش کیاگیا ہے۔ ان ملکوں کو چھ عنوانات پر پرکھا گیا ہے جن میں سیاسی حقوق، سیاست میں سماجی اکائیوں کی شرکت، نظام حکومت کی کامیابی، شہری آزادیاں، اداروں او ر انجمنوں کے حقوق اور قانون کی بالا دستی شامل ہیں۔ ان عنوانات کے تحت مزید سوالات پر ملکوں کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔

جنوبی ایشیا میں جمہوری اقدار اورشہری آزادیاں؟

رپورٹ میں برصغیر کے آٹھ ملکوں میں سے کسی بھی ملک کو’ مکمل آزاد‘ جمہوری ریاست کا درجہ نہیں دیا گیا۔ دو ملکوں، افغانستان اور سری لنکا، کو ’غیر آزاد ‘ ملکوں کی صف میں شامل کیا گیا ہے جہاں جمہوری اقدار کا فقدان ہے اور شہریوں کو انفرادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش، انڈیا، نیپال، پاکستان، مالدیپ اور بھوٹان کے ممالک ’جزوی طور پر آزاد ‘ملکوں میں شامل کئے گئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ملکوں میں جمہوری نظام اور انتخابات کا تسلسل قائم ہے لیکن شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

’غیر آزاد‘ قرار دئے گئے ملک افغانستان میں اکتوبر 2018ءمیں نئے پارلیمانی انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں پارلیمان کی تشکیل دی گئی۔ صدارتی انتخابات میں سکیورٹی کے خطرات کے پیش نظر لوگوں کی شرکت بہت کم رہی اور صرف آٹھ اعشاریہ ایک ملین لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

اس جمہوری عمل کے باوجود طالبان اور داعش کی کاروائیاں جاری رہیں جنہوں نے اندرون ملک تشدد اور خودکش حملے جاری رکھے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں 2,563 ہلاکتیں ہوئیں اور 5,676 افراد زخمی ہوئے۔

’غیر آزاد ‘ملک کا درجہ حاصل کرنے والے دوسرے ملک سری لنکا میں سول جنگ کے بعد امن کی کوششیں جاری رہیں لیکن فروری میں حکومت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ساتھ کئے گئے معاہدے سے دستبردار ہو گئی جو 2015ءمیں کیا گیا تھا۔ حکومت کا موقف تھا کہ تامل اقلیت کے ساتھ مفاہمت اور امن کا قیام قدرے مشکل ہے۔ حکومت عالمی اداروں کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں نظر آتی ہے۔

مارچ میں پورے سری لنکا میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے کرفیونافذ کیاگیا اور دوبار انتخابات کو ملتوی کیا گیا۔ اکتوبر میں صدر کے اختیارات میں توسیع کی گئی اورکرونا وائرس کے جوازپر صوبائی کونسل کے انتخابات کو معطل کر دیا گیا۔

رپورٹ میں انڈیا کو، جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہا جاتا ہے، سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انڈیا کا درجہ کم کر کے اسے ’جزوی طورپر آزاد ‘ ملکوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے جس پر انڈیا کی وزارت اطلاعات و نشریات نے سخت برہمی کااظہار کیاہے۔ یہاں چند سالوں سے برسراقتدار جماعت بی جے پی کی جانب سے ملک کی اقلیتوں، دلتوں، یہاں کے اصل قبائل اور مسلمانوں کا سماجی اور اقتصادی استحصال جاری ہے۔ 2019ءمیں آسام کی ریاست میں شہریوں کی رجسٹریشن کے بعد تقریباً دو ملین لوگوں کو شہریت سے بے دخل کیا گیا جن میں زیادہ تر بنگالی اور مسلمان شہری شامل تھے۔

اسی دوران سپریم کورٹ نے ہندو مندر کی تعمیر کو جائز قراردیا جہاں 1992ءمیں ہندو وں کی رجعت پسند جماعتوں نے ایک مسجد کو مسمارکیا تھا۔ 2019ءہی میں پارلیمان نے ایک متنازعہ قانون پاس کیا جس کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے خلاف ملکی پیمانے پر احتجاج کا آغاز ہوا۔

پاکستان کو بھی رپورٹ میں’ جزوی طورپر آزاد ‘ملک کا درجہ دیا گیاہے۔ یہاں اگرچہ انتخابات کے ذریعے جمہوری نظام قائم ہے لیکن رپورٹ کے مطابق ملک کے دفاعی ادارے اندرونی اور بیرونی فیصلوں میں انتہائی طاقتورکردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن یہ ادارے خود کسی قسم کی شفافیت اور جواب دہی سے مکمل طور پر آزاد ہیں۔

پاکستان کی منتخب حکومت نے دو مخالف پارٹیوں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن، کو بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث کر کے مسلسل دباومیں رکھنے کی کوشش جاری رکھی۔ اگرچہ اس سال دہشت گردی کے کچھ بڑے واقعات ہوئے لیکن مجموعی طور پر ان واقعات میں کمی دیکھی گئی۔ ساوتھ ایشیا ٹیررزم پورٹیل کے مطابق ان حملوں میں 370 لوگ ہلاک ہوئے جو 2018ءمیں ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد (694) سے بہت کم تھے۔

رپورٹ میں نیپال کوبھی ’جزوی طور پر آزاد‘ ملکوں کے زمرے میں شامل رکھا گیا ہے۔ یہاں ایک دہائی تک جاری رہنے والی سول جنگ کے خاتمے کے بعد جمہوری عمل جاری ہے اور مستقل انتخابات کیے جا رہے ہیں۔ سیاسی استحکام کی طرف بڑھتے ہوئے اس ملک میں صحافیوں پر پابندیاں کم ہو رہی ہیں اور سیاسی اختلافات کے پرامن اظہار کو برداشت کیا جا رہا ہے۔

ملک میں عورتوں پر تشدد، کم عمری کی شادیاں اور غلامیانہ مزدوری بڑے مسائل ہیں۔ پارلیمان میں میڈیا پر قوانین کے اطلاق کا نیا بل زیر بحث ہے جس پر تنقید کی جا رہی ہے۔ فریڈم ہاوس رپورٹ میں بنگلہ دیش بھی ’جزوی طور پر آزاد‘ ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ملک میں برسراقتدار عوامی لیگ نے اپنے مخالفین کو ہراساں کرنے کی پالیسیاں جاری رکھی ہیں اور میڈیا اور سول سوسائٹی کی آوازوں کو مسلسل دبایا جا رہا ہے۔ ملک میں بدعنوانیاں عروج پر ہیں اور ان پر قابو پانے کی تمام کاوشیں سیاسی مداخلت کی نذر ہو چکی ہیں۔

دسمبر 2018ءکے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی، مخالفین کے خلاف تشدد اور الیکشن کے مبصرین پر پابندیوں کے الزامات ہیں۔ ان انتخابات کے نتیجے میں وزیراعظم شیخ حسینہ نے اپنی تیسری مدت کا آغاز کیا۔ انتخابات میں حزب اختلاف کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) حصہ نہیں لیاتھا اور اس کی رہنما خالدہ ضیا بدعنوانی کے الزام میں زیر حراست ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کا رویہ ملک میں موجود 700,000 روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ بہتر نہیں ہے جو عارضی کیمپوں میں بدترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

رپورٹ میں بھوٹان کو بھی ’جزوی طور پر آزاد ‘ ریاست کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہا ں آئینی بادشاہت کا نظام قائم ہے جس نے گزشتہ کچھ دہائیوں کے دوران استحکام حاصل کیا ہے۔ ملک میں اقلیتوں اور نیپالی باشندوں کے خلاف تعصبات، میڈیا سنسرشپ اور صحافیوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات کے ذریعے ان کوخوف زدہ کیا جاتا ہے۔ یو این ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس نے بھوٹان سے سکیورٹی قوانین کے تحت زیر حراست سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیاہے۔

مالدیپ بھی ان ملکوں میں شامل ہے جنہیں’ جزوی طور پر آزاد ‘ ملکوں میں شامل کیا گیا ہے۔ ملک میں 2012ءمیں سیاسی پابندیوں، رائے عامہ پر قدغنوں اور عدلیہ میں سیاسی مداخلت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اس پر 2012ءکے انتخابات کے ذریعے برسر اقتدار آنے والی سیاسی پارٹی نے قابو پا لیا ہے۔

یہاں انتہا پسند جماعتیں ملک میں سیاسی نظام کو تشدد کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان ہی کے ایما پر ملک کے انسانی حقوق پر کام کرنے والی سول تنظیم ’مالدیوین ڈیموکریسی نیٹ ورک‘ پر بابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ایک صدارتی کمیشن نے اغوا ہونے والے صحافی احمد رلوان کی ایک مذہبی گروپ کے ہاتھوں اغوا اورہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

رپورٹ کے دوالگ حصوں میں انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکو ’غیر آزاد علاقوں ‘کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ 2019ءمیں انڈیا کی مرکزی حکومت نے کشمیر کی خصوصی ریاستی حیثیت کو ختم کرکے اسے براہ راست انڈیا کے زیرنگیں کر دیا تھا۔ علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے لوگوں کی سیاسی آزادیاں سلب کر دی گئیں اور ان کے بنیادی حقوق معطل کر دئے گئے۔

نتیجے کے طور پر کشمیری باشندوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا گیا اور اس دوران مواصلات اور ٹرانسپورٹ کے ذرائع معطل رہے۔ اطلاعات ہیں کہ تشدد کے واقعات میں 276 افراد ہلاک ہوئے جن کا تعلق عام شہریوں، شدت پسندوں اور سکیورٹی کے اہلکار سے تھا۔

دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دو حصوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان، میں اگرچہ پارلیمانی نظام قائم ہے لیکن اس پر پاکستان کی مرکزی حکومت کا مکمل کنٹرول ہے۔ یہاں دفاعی اداروں اور پاکستان کی فیڈرل حکومت کا سکیورٹی کے انتظامات، عدلیہ اور میڈیا پر تسلط ہے ۔ سیاسی سرگرمیوں پر پوری طرح نظر رکھی جاتی ہے اور انتخابات میں شامل امیدواروں سے پاکستان سے وفاداری کے حلف نامے پر دستخط کرائے جاتے ہیں۔

بر صغیر میں جمہوریت کا مستقبل

کچھ ہی دنوں پہلے واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے ایک ورچوئیل مذاکرے میں پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کے تین صحافیوں نے جنوبی ایشیا میں جمہوریت کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ پاکستان کے شجاع نواز، انڈیا کے سدارتھ وردراجن اور بنگلہ دیش کے شاہدالعالم نے کہا کہ برصغیر میں جمہوریت کے نام پر سیاسی کھیل جاری ہے جس کے ذریعے جمہوری روایات کا بتدریج خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

مقررین کے مطابق جنوبی ایشیا کے ممالک میں جمہوریت کے پرچم تلے انسانی حقوق کی پامالی، اقلیتوں کا استحصال اورسیاسی اور مالی بدعنوانیاں روزانہ کا معمول بن گئی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کے ممالک کے درمیان تجارتی اور عوامی سطحوں پر تعاون ضروری ہے۔ مذاکرے میں شامل شرکا کا یہ تجزیہ نہ صرف ان تین ملکوں بلکہ خطے کے دوسرے پانچ ملکوں کے لئے بھی درست نظر آتا ہے۔

مجموعی طور پر برصغیر میں سیاسی رجعت پسندی، مذہبی دہشت گردی، طاقت ور لشکر شاہی، سامراجی تسلط، سماجی تصادم اور سرکاری نا اہلیت اور بدعنوانی کے عناصر جمہوریت کی جڑیں کاٹتے نظر آ رہے ہیں۔

سیاسی رجعت پسندی کے ذریعے خطے کے ممالک خصوصاً انڈیا میں منتخب جماعتیں اکثریتی طبقے کے مفادات کی حفاظت کے لئے اقلیتوں اور نچلے درجے کے شہریوں کے حقوق سلب اور ان کا استحصال کرتی ہیں۔ مذہبی دہشت گردی نے افغانستان، پاکستان اور مالدیپ میں سماجی رشتوں میں دراڑیں پیدا کر دی ہیں اور لوگوں کو مذہبی تنگ نظری کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ لیکن اس انتہا پسندی کی جڑیں اب علاقے کے دوسرے ملکوں میں بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔

جنوبی ایشیا کے کچھ ملکوں میں لشکر شاہی ایک سیاسی اور اقتصادی طاقت بن کر ابھر ی ہے جو جمہوری ڈھانچے کو ابھرنے نہیں دیتی۔ ان اداروں نے جمہوری نظام کی باگ ڈور سنبھال کر اندرونی اور بیرونی تعلقات، میڈیا، سیاسی جماعتوں، اقتصادی ذرائع اور ملکوں کی ثقافتی ارتقا پر بندباندھ دیے ہیں۔ یہ صورت حال جمہوریت کی بقا کے لئے ایک مستقل خطرہ ہے۔

جنوبی ایشیا کے کچھ ملکوں میں سماجی گروہوں کی باہمی چپقلس اب تصادم کا روپ دھار چکی ہے۔ سری لنکا اور بھوٹان میں خصوصی طور پر اور دوسرے ملکوں میں عمومی سطح پر یہ رجحان جمہوریت کے لئے اچھی خبر نہیں ہے۔

سرکاری نا اہلیت اور بدعنوانی نے بھی پورے برصغیر کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے جہاں آزادی کے بعد حکومتیں برطانوی سامراج کے بنائے ہوئے فرسودہ نظام کے ذریعے جدید تقاضوں سے عہدہ برا ہونے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔ سرکاری اداروں کی کے اہلکاروں اور افسروں کی نااہلی اور بدعنوانیاں جمہوریت کے نظام کو کامیاب نہیں ہونے دے رہیں۔

اکیسویں صدی کا عالمی اقتصادی نظام بین الاقوامی تعاون اور ترقی کی آڑ میں جہاں ملکوں کی اندرونی آزادی کو ہر طریقے سے روکتا ہے وہاں وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے جمہوری اقدار کی پرواہ کئے بغیر آمروں، سرمایہ داروں اور اشرافیہ کے سہارے ترقی پذیر ملکوں پراپنا تسلط قائم رکھتا ہے۔ پاکستان میں سامراجی قوتوں نے ہمیشہ آمروں کا ساتھ دے کر جمہوری اداروں کومستحکم نہیں ہونے دیا۔ افغانستان میں آج سامراجی تسلط کے ذریعے جمہوریت کی داغ بیل ڈالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں اس حقیقت کو فراموش کرتے ہوئے کہ جمہوری روایات کسی اور ملک سے درآمد نہیں ہو سکتیں، انہیں سماجی شعور کا حصہ بنائے بغیر جمہوریت کا پودا پنب نہیں سکتا۔

لیکن اس غیر یقینی صورت حال کے باوجود پورے خطے میں جمہوری اقدار کی حمایت میں عوامی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے جو آمرانہ نظام، سیاسی رجعت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے۔ انڈیا میں کسانوں کا طویل احتجاج اور شہری قوانین کے خلاف ملک گیر تحریکیں رجعت پسندقوتوں کے لئے چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں، عورتوں، اقلیتوں، مزدوروں اور ترقی پسند وں کے جلوس اور احتجاج ان ہی رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔ برصغیر کے پڑوسی ملک میانمارمیں ایک منتخب حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد پورے ملک میں عوامی تحریک جمہور یت کی بحالی کے لئے قربانیاں دے رہی ہے۔ یہ ملک جو تاریخی طورپر جنوبی ایشیا کا حصہ رہاہے، مزاحمت کی ایک تازہ مثال ہے۔

حالات نے ثابت کیاہے کہ برصغیر میں روایتی سیاست جمہوریت کے لئے اچھا شگون نہیں ہے، اسے ایک نئی نظریاتی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ جنوبی ایشیا کے تمام ملکوں میں عوامی مزاحمت، نوجوانوں اور ترقی پسند قوتوں کے تعاون سے ہی جمہوری اقدار کو مضبو ط کیا جا سکتا ہے جس کے آثار اب صاف نظر آ رہے ہیں۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔