دنیا

افغانستان، طالبان اور امریکہ کے درمیان خفیہ امن منصوبہ جو خفیہ نہیں رہا!

قیصر عباس

اطلاعات کے مطابق افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا سے متعلق ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹ کا ایک خفیہ منصوبہ اخباروں تک پہنچ گیا ہے جس میں طالبان، امریکہ اور افغان حکومت کے درمیان امن معاہدے کے خدوخال واضح کئے گئے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے یہ منصوبہ شائع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کی تصدیق افغان حکومت کے ذرائع سے بھی کی گئی ہے۔ منصوبہ امریکہ کی نئی انتظامیہ کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر فریقین نے معاہدے کی توثیق کر دی تو مئی تک امریکی افواج افغانستان سے نکل سکتی ہیں۔

اس دستاویز کے مطابق افغانستان کی موجودہ حکومت کی جگہ ایک عارضی حکومت تشکیل دی جائے گی جو ملک کا نیا دستور بنائے گی اور فریقین کے درمیان جنگ بندی کو یقینی بنائے گی۔ لیکن دستاویز کے کچھ حصوں پر فریقین کے تحفظات بھی ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پر مزید تبادلہ خیال جاری رہے گا۔

افغان حکومت اور جنگجوؤں کے درمیان اختلاف کی بنیادی وجوہات یہ ہیں کہ صدر غنی عارضی حکومت کی تشکیل کے لیے اقتدار سے دستبردار ہونے سے انکارکرتے رہے ہیں جبکہ طالبان ان کی حکومت کو غیر قانونی سمجھتے ہوئے اسے تسلیم نہیں کرتے۔

ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ صدر غنی موجودہ دستور میں تبدیلیوں کے حق میں ہیں مگر نئے دستور کی تشکیل کے خلاف ہیں۔ یہ ابھی تک وا ضح نہیں ہے کہ نیا دستور کس طرح بنے گا اگرچہ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دستور کی بنیاد پر نیا آئین بنا یا جا سکتا ہے۔

یہ خدشات بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اگر نئے دستورکی بات آگے بڑھی تو طالبان اس کے ذریعے مستقبل کی حکومت میں ایک طاقتور کردار ادا کر سکتے ہیں جس میں شہری آزادیوں، عورتوں کے حقوق اور ذرائع ابلاغ پر پابندیوں پر سوالات ابھر سکتے ہیں۔

دستاویز کے مطابق نئے پلان میں طالبان کے اس مطالبے کو مدنظر رکھا گیا ہے کہ ملک کو اسلامی قوانین کی بنیادوں پر چلایا جائے گا اور حکومت جمہوری نظام کے تحت کام کرے گی۔ تجویز دی گئی ہے کہ عارضی حکومت الیکشن کرائے گی لیکن اس کے لئے وقت کا تعین نہیں کیا گیا۔

ملک میں اسلامی قوانین کی ایک اعلیٰ کونسل کے قیام کی تجویز بھی پلا ن کا حصہ ہے جو ملکی اور علاقائی سطحوں پر مشاورت کی مجاز ہو گی۔ اداروں میں اختلافات کی صورت میں ملک کے سپریم کورٹ کا فیصلہ آخری اور حتمی ہو گا۔

امریکی منصوبے میں طالبان سے کہا گیا ہے کہ وہ ہمسایہ ملکوں سے اپنے فوجی مرکزوں اور دفتروں کو ختم کریں۔ کہا جاتا ہے کہ جنگجوؤں نے پاکستان میں اپنی پناہ گاہیں اور مراکز قائم کئے ہیں لیکن پاکستان ان کی موجودگی سے انکار کرتا آیا ہے۔

دستاویز کے مطابق فریقین کے درمیان اس معاہدے کے بعد فوری طور پر جنگ بندی عمل میں آئے گی جس کی حیثیت دیرپا اور مستقبل بنیادوں پر ہو گی۔ کہا جا رہا ہے کہ ابھی اس معاہدے کی کئی شقوں پر اختلافات موجود ہیں لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو بائیڈن کی حکومت افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے لئے سنجیدہ ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے اس منصوبے پر کسی قسم کے تبصرے سے انکار کیا ہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔