خبریں/تبصرے

گورنر ہاؤس لاہور کے باہر فاٹا کے طلبہ کی بھوک ہڑتال کا تیسرا دن، 3 طالبعلموں کی حالت بگڑ گئی

لاہور (نامہ نگار) گورنر ہاوس لاہور کے باہر سابقہ فاٹا کے طلبہ کی بھوک ہڑتال گذشتہ روز تیسرے دن میں داخل ہو گئی جبکہ ان کے دھرنے کا یہ 26 واں دن تھا۔

گذشتہ روز بھوک ہڑتال پر بیٹھے تین طلبہ کی حالت بگڑ گئی۔ دریں اثنا گورنر پنجاب نے بھوک ہڑتال اور دھرنا دینے والے طلبہ سے ملاقات کی مگر یہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔

احتجاج کرنے والے ان طلبہ کا مطالبہ ہے کہ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں سابقہ فاٹا کے طلبہ کا کوٹا بحال کیا جائے۔ ماضی قریب میں احتجاج کے بعد پنجاب حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ کوٹا ختم نہیں کیا جائے گا مگر بعد ازاں بعض یونیورسٹیوں میں یہ کوٹا ختم کر دیا گیا ہے۔

احتجاج میں شامل طالب علم رہنما مزمل خان کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز گورنر پنجاب نے ان احتجاج کرنے والے طلبہ سے کہا کہ یہ کوٹہ بحال کرنا ان کے اختیار میں نہیں، وزیر اعظم عمران خان ہی ایسا کر سکتے ہیں۔

مزمل خان کے مطابق گورنر پنجاب کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابقہ فاٹا کے طلبہ غنڈہ گردی میں ملوث ہوتے ہیں، اس لئے بھی ان کا کوٹہ ختم کیا گیا ہے۔