خبریں/تبصرے

مطالبات منظور، بھوک ہڑتال ختم: فاٹا کے طلبہ کو پنجاب میں 1 ہزار سکالرشپس ملیں گی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) 28 روزہ احتجاج کے بعد سابق فاٹا کے طلبہ کے مطالبات منظور کر لئے گئے ہیں۔ طلبہ نے 28 روز سے جاری احتجاجی دھرنا اور گزشتہ 5 روز سے جاری تادم مرگ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اتوار کے روز گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے ہمراہ طلبہ کے وفد کے مذاکرات کاتیسرا دور مکمل ہوا۔ جس کے بعد گورنر پنجاب نے پریس کانفرنس کے ذریعے طلبہ مطالبات منظور کرنے کا اعلان کیا۔

گورنر پنجاب کے اعلان کے مطابق فاٹا کے طلبہ کیلئے پنجاب کی جامعات میں 2027ء تک 1 ہزار سکالرشپس سالانہ فراہم کی جائیں گی۔ یہ سکالرشپس پورے پنجاب کی جامعات میں ہونگی جن میں پنجاب یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی بہالپور، جی سی یونیورسٹی لاہور اور دیگر جامعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فاٹا میں پنجاب یونیورسٹی کا کیمپس بھی بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

احتجاجی دھرنا ختم کرنے کے بعد مزمل کاکڑ نے اپنے ویڈیو پیغام میں مطالبات کی منظوری کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ انہو ں نے کہا کہ ”گزشتہ 28 روز سے طلبہ احتجاج کر رہے تھے اور 5 روز سے تادم مرگ بھوک ہڑتال جاری تھی۔ دھرنے پر بیٹھے ہوئے طلبہ نے فاٹا کے طلبہ کے مستقبل کیلئے بہت بڑی قربانی دی ہے۔ کئی طلبہ بھوک ہڑتال کی وجہ سے شدید علیل ہیں۔“

انکا کہنا تھا کہ ”احتجاجی دھرنے میں منظور پشتین، محسن داوڑ سمیت متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ ہم ان تمام افراد، ترقی پسند تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری حمایت کی اور ہمارے ساتھ دھرنے میں بیٹھے رہے۔“