خبریں/تبصرے

دنیا میں 56 بڑے تنازعات سالانہ 1 لاکھ 13 ہزار 523 ہلاکتوں کے موجب

لاہور (جدوجہد رپورٹ) دنیا بھرمیں موجود 56 بڑے تنازعات سالانہ 1 لاکھ 13 ہزار 523 ہلاکتوں کا موجب بن رہے ہیں۔ ان تنازعات، جنگوں، خانہ جنگیوں اور بغاوتوں میں رواں سال اب تک 37 ہزار 613 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر اور ہجرت پر مجبور ہو رہے ہیں۔

ٹی ایل ڈی آر گلوبل نیوز کی ایک ویڈیو رپورٹ میں دنیا بھر میں ہونے والے ان تنازعات کو چار حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے یہ اعداد و شمار جمع کئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان اعداد و شمار میں ایسے تنازعات شامل ہیں جن میں کسی مخصوص خطے میں کم از کم دو مسلح گروہ متصادم ہوں، علاقائی تنازعات اور احتجاج و بغاوتیں جن میں پیراملٹری وائلنس کا عنصر شامل ہو یا ایسے تنازعات جن میں کم از کم کل اموات 100 سے زائد ہوں اور گزشتہ ایک سال میں کم از کم 1 ہلاکت رپورٹ ہوئی ہو۔

رپورٹ کے مطابق درج بالا خوائص کے حامل دنیا بھر میں اس وقت 56 تنازعات موجود ہیں۔ 3 بڑی جنگیں ہیں جن میں 10 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں، 13 ایسی جنگیں ہیں جن میں ایک ہزار سے 10 ہزار کے درمیان ہلاکتیں ہو چکی ہیں، 26 ایسے تنازعات ہیں جن میں 100 سے 1 ہزار کے درمیان ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ 14 تصادم اور بغاوتیں ایسی ہیں جن میں 100 سے کم ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ایتھوپیا، سوڈان اور ایریٹیریا میں جاری مسلح تصادم میں اب تک مجموعی طور پر 17435 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ رواں سال اب تک 14600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تصادم ایتھوپیا، سوڈان اور ایریٹیریا کی ریاستوں اور ٹی ایل پی نامی ایک مسلح گروپ کے مابین جاری ہے۔ مذکورہ مسلح گروہ نے ایتھوپیا، سوڈان اور ایریٹیریا کے کچھ علاقوں پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔

عرب ملک یمن میں 2011ء سے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک 2 لاکھ 33 ہزار انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یمن میں سعودی عرب نواز حکومت اور ایران نواز حوثی باغیوں کے درمیان خانہ جنگی موجود ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے علاوہ سعودی عرب کے دیگر اتحادی ممالک یمن کی سنی مسلم حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ ایران نواز شیعہ باغی سعودی عرب کی اتحادی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ اس خانہ جنگی میں یمن کے شہریوں کی حالت زار قابل رحم ہے اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، بھوک اور قحط سالی کا شکار ہیں۔

افغانستان میں جاری جنگ کے نتیجے میں بھی ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے افغانستان سے انخلا کی تیاریوں اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے افغان امن عمل کے آغاز کے باوجود رواں سال اب تک مختلف واقعات میں 20 ہزار 797 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق میکسیکو میں جاری ڈرگ وار میں اب تک کل 1 لاکھ 51 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ سال 2020ء میں 8404 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ رواں سال اب تک 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ میکسیکو میں منشیات کے کاروبارسے منسلک بڑے گروہ موجود ہیں اور ان گروہوں کے پاس مسلح ملیشیاؤں کے علاوہ بڑے زمینی علاقے بھی ہیں۔ میکسیکو کی حکومت نے مختلف اوقات میں ان گروہوں کے خلاف بڑے آپریشن بھی کئے ہیں لیکن ان گروہوں کا خاتمہ ہونے کی بجائے مزید طاقتور ہوتے جا رہے ہیں اورآپریشنز کے ذریعے فورسز کی جانب سے بھی جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ میکسیکو کے علاوہ فلپائن اور بنگلہ دیش میں بھی منشیات کے کاروبار سے منسلک گروہوں اور حکومتوں کے مابین یہ جنگی صورتحال موجود ہے۔

مغربی افریقی ممالک میں داعش کی حمایت یافتہ مسلح شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں اس وقت تک 60 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ گزشتہ سال 2020ء میں ان تصادموں اور کارروائیوں میں 8 ہزار 200 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ مغربی افریقہ میں جاری اس مسلح تصادم کے نتیجے میں 25 لاکھ سے زائد افراد داخلی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 2 لاکھ 44 ہزار سے زائد افراد بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شام میں جاری خانہ جنگی میں اب تک سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ شام میں اب تک کل 5 لاکھ 94 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ گزشتہ سال 2020ء میں شام میں کل 7969 ہلاکتیں ہوئیں۔ شام کی نصف سے زائد آبادی بے گھری اور آئی ڈی پیز کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ شام میں بھی سامراجی پراکسی وار کا سلسلہ جاری ہے، شام میں جاری یہ خانہ جنگی روس و ایران نواز حکومت اور امریکہ نواز باغیوں کے مابین ہے۔ اس خانہ جنگی کا آغاز حکومت مخالف احتجاج سے ہوا تھا اور داعش کی جانب سے شام کے ایک مخصوص حصے پر قبضے کے بعد خونریزی اور قتل عام عروج پر پہنچا گیا تھا۔

رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا میں مختلف ممالک کے درمیان ہونے والی بڑی جنگوں کی نسبت ملکوں کے اندر ہونے والی خانہ جنگیوں، تصادموں اور بغاوتوں کے نتیجے میں کہیں زیادہ ہلاکتیں ہو رہی ہیں اور انسانیت کو تاراج کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ سرمائے کی عالمگیریت بڑی جنگوں بالخصوص عالمی جنگوں کے امکانات کو جس قدر محدود کر رہی ہے، اس نظام کا بحران اور وسائل اور علاقوں پر سامراجی قبضے اور تذویراتی مفادات کے حصول کیلئے مختلف خطوں اور ممالک میں محدود علاقائی تنازعات، خانہ جنگیاں اور دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں کا سلسلہ بڑھ رہا ہے۔ انسانیت کے قتل عام اور وسائل کی اندھی لوٹ مار کے اس سلسلے کے خاتمے کے لئے سرمائے کی لوٹ مار کا خاتمہ اور پیداوار کے مقصد کو منافع کے حصول سے انسانی ضروریات کی تکمیل سے تبدیل کرنا نسل انسانی کیلئے سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہا ہے۔