نقطہ نظر

سری لنکا سماجی تصادم کے دہانے پر: کچھ سوالات، کچھ جوابات

قیصر عباس

عالمی تجزیوں کے مطابق جنوبی ایشیا انسانی حقوق کے پیمانوں پر دنیا میں بہت پیچھے ہے اور سری لنکا جیسے ملک میں بھی حالات کچھ مختلف نہیں ہیں۔ مبصرین کا خیال تو یہی تھا کہ اکثریتی بدھ مت اور اقلیتی تامل ہندو ؤں کے درمیان ایک لمبی خانہ جنگی سے، ملک سبق سیکھے گا اور تمام اقلیتوں سے بہتر سلوک کے لئے اقدامات کئے جائیں گے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا۔

برسراقتدار طبقہ اب بھی غیر منصفانہ پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق پامال کر رہا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں میں خاصی بے چینی پائی جاتی ہے اور معاشرتی کشمکش اب تصادم کی جانب بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ دوسری طرف ان نامناسب پالیسیوں کے خلاف ملک بھر میں نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں، این جی اوز اور عورتوں کی احتجاجی تحریکیں بھی زور پکڑ تی جا رہی ہیں۔

لیکن سری لنکا میں انسانی حقوق کے جانے پہچانے کارکن روکی فرنانڈوکے مطابق ان تحریکوں کو عالمی سطح پر ابھی تک وہ حمایت حاصل نہیں ہے جس کی وہ مستحق ہیں۔ ان کے خیال میں عالمی رائے عامہ کی مدد سے ملک میں بڑھتے ہوئے استحصال اور اقلیتوں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کاجلد خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہناہے کہ یہ سماجی، مذہبی اور نسلی تصاد م اب ملک میں ایک خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے اور اس کی ذمہ دارحکومت کی پالیسیاں ہیں۔

فرنانڈو انسانی حقوق کے علم بردار ہونے کی حیثیت سے ایک عرصے سے قومی اور عالمی اداروں کے تعاون سے اپنی آواز بلند کرنے میں مصروف ہیں۔ اندرونی اور بیرونی سطحوں پر اپنے ملک میں جاری ناانصافیوں کو منظر عام پر لانے کے علاوہ فرنانڈو جنیوا میں یو این ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں اپنی حکومت کی پالیسیوں پر کھلی تنقید کرتے رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ وہ اقوام متحدہ اور دوسرے اداروں کی جانب سے سری لنکا کا دورہ کرنے والے منتظمین کو ملکی صورت حال پربر یفینگ کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں۔ پچھلے چند برسوں سے وہ ملک میں ہونے والے واقعات اور سرکاری اقدامات کے اعداد و شمار بھی ریکارڈ کر رہے ہیں جنہیں غیرسرکاری، سرکاری اور بین الاقوامی اداروں، ذرائع ابلاغ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کو فراہم کیا جاتا ہے۔

اپنی ان سرگرمیوں کی بنیاد پر وہ انتظامیہ کی انتقامانہ کاروائیوں، نگرانی اور تفتیش کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔ 2014ء میں انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا اور ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ روزنامہ جدوجہد سے اس خصوصی انٹرویو میں انہوں نے اپنے ملک کی صورت حال پر تبصرہ کیا ہے، سرکاری پالیسیوں کی تفصیل بیان کی ہے اور ان کے خلاف احتجاجی تحریکوں کا تفصیلی جائزہ بھی لیا ہے۔

حال ہی میں امریکہ کی تنظیم ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ کے ایک پروگرام میں آپ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اداروں کو سری لنکا میں جاری احتجاجی تحریکوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ آپ کے خیال میں وہ کون سی تحریکیں ہیں جو حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج میں مصروف ہیں اور یہ کس حد تک اپنے مقاصد میں کامیاب ہیں؟

ملک کے طول و عرض میں حکومت کے اقدامات کے خلاف کئی مزاحمتی تحریکیں جنم لے رہی ہیں۔ اپنے علاقوں کے علاوہ کولمبو اور دوسرے حصوں میں ان تحریکوں کے اثرات صاف دکھائی دے رہے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں گم شدہ لوگوں کے لواحقین نے ملک کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں انتہائی موثر طریقے سے مزاحمت کی تحریکیں چلائی ہیں۔ ان تحریکوں نے اندرون ملک اور عالمی سطح پر مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار اداکیا ہے اور ان سے دوسری تنظیموں کی جانب سے سخت رد عمل اور ہڑتالوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔

فوج کی جانب سے لوگوں کی زمینوں پر قبضے کے خلاف بھی احتجاج نے خاصی شدت اختیار کی تھی جس کے نتیجے میں فوجی اداروں نے کچھ زمینیں مالکوں کو واپس بھی کی ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی علاقوں میں جنگلوں کی کٹائی کے خلاف بھی احتجاج ہو رہا ہے۔

ادھر چائے کی صنعت سے منسلک مزدوروں نے کم از کم ایک ہزار روپے فی دن کی نئی اجرتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ کسانوں کی تحریکیں بھی کئی علاقوں میں جاری ہیں اور نوجوانوں کی تحریکیں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ جفنہ یونیورسٹی کے طلبہ نے جنگ کے ہولناک اثرات پر بنائی گئی ایک یادگار کو مسمار کرنے کے خلاف ایک بھرپور مہم چلائی جس کے بعد وائس چانسلر نے اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ملک میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی جبری کریمیشن (Ceremation) کے خلاف تقریباً ایک سال تک احتجاج جاری رہا اور اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ لواحقین کو اپنی روایات کے مطابق آخری رسوم ادا کرنے کا حق حاصل ہو گا۔

ان تحریکوں کے نتیجے میں کئی مطالبات مانے جاچکے ہیں اگرچہ مزاحمتی گروپس ان سے مکمل طور پر مطمئن نظر نہیں آتے۔ لیکن اہم بات یہ ہے لوگوں نے اپنے حقوق کے لئے موثر آوازیں اٹھائیں اور ان کو احساس ہوا کہ متحدہ قوت کے ذریعے عزت نفس اور جمہوری اقدارکا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔

اقوم متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل نے اپنی ایک حالیہ قرارداد کے ذریعے سری لنکا میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے اور ثبوت اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت اس قرارداد کو کس نظرسے دیکھتی ہے؟

حکومت نے کونسل کی قرارداد مسترد کر دی ہے جس کی مطلب ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اس ادارے سے تعاون نہیں کرے گی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ حکومت کے مطابق اس قرارداد کی رائے شماری میں حصہ نہ لینے والے ملک دراصل فیصلے کے مخالف تھے۔ کونسل کے 47 ارکان میں 22 نے قرارداد کے حق میں اور 11 نے اس کے خلاف ووٹ دیا جب کہ 14 ارکان غیر حاضر رہے۔

یہ اندیشہ بھی ہے کہ حکومت کونسل سے تعاون کرنے والے شہریوں سے جارحانہ رویہ اختیار کرے جن میں خانہ جنگی سے متاثرہ لوگ بھی شامل ہیں۔ لیکن حکومت کے اس مخالفانہ رویے کے باوجود سری لنکا میں انسانی حقوق کے کارکن، تشدد کا نشانہ بننے والے شہری اور خانہ جنگی سے متاثرین کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔

سری لنکا کی حکومت نے مذہبی اقلیتوں پر کئی پابندیاں لگائی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے حجاب غیر قانونی ہے، ایک ہزار مدرسوں کو بند کر دیا گیا ہے، اسلامی تعلیمات کی کتابیں ضبط کر لی گئی ہیں اور کرونا وائرس میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو مذہبی رسوم کے مطابق دفنانے کے بجائے نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ آپ کا تبصرہ؟

ملک میں مسلمانوں، پناہ گزینوں، مختلف جنسی رجحانات کے حامل لوگوں، فری ٹریڈ زون کے مزدوروں اور غیرملکی مزدوروں کے ساتھ تعصبانہ رویے بہت افسوسناک ہیں۔ کچھ عرصے سے مسلمان شہریوں کی املاک، عبادت گاہوں اور دکانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور موجودہ حکومت کے دور میں بھی جرائم جاری ہیں۔ ایسٹر کے دن کئی کلیساؤں پر مسلمان دہشت گرد وں کے حملوں کے بعد ان واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کرونا وائرس کی وبا نے بھی مسلمانوں کی مصیبتوں کو اور بڑھا دیا ہے۔

کیا آپ کے خیال میں ملک کی ہندو اور عیسائی اقلیتوں کو ریاستی تحفظ حاصل ہے؟

اوینجالیکل کرسچین (Evengelical Christian) ایک عرصے سے ملک میں زیر عتاب ہیں۔ ان کی عبادت گاہوں پر حملے کئے جاتے ہیں، مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، لوگوں کودھمکیاں دی جاتی ہیں، عبادت کے دوران مداخلت ہوتی ہے اور دوسرے طریقوں سے انہیں تعصب کانشانہ بنایا جاتا ہے۔ دوسری طرف ہندو اقلیتی فرقے کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اکثر ان کے قدیم مندروں کی زمین کو بدھ مذہب کے تاریخی مقامات قرار دے کر ان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ملک کے آمرانہ قانون، پریونشن آف ٹیررزم ایکٹ (Prevention of Terrorism Act, PTA)، کے تحت سری لنکا کے شہریوں کوطویل عرصے تک زیر حراست رکھا جاتا ہے جسے عدالت میں چیلنج بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کیا اس قانون کے خلاف بھی کوئی تحریک چل رہی ہے؟

خانہ جنگی کے دوران اور اس کے بعد اسی قانون کے تحت لوگوں کو زیر حراست رکھا گیا ہے جن میں زیادہ تر لوگ تامل شہری ہیں۔ اس کے باوجود کہ یہ سیاسی قیدی شمار ہوتے ہیں، انہیں قانونی تحفظ حاصل نہیں ہیں اور پچھلے کئی برسوں سے ان کی رہائی کی کو کوششیں جاری ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو 2015-2018ء کے دوران رہا کیا گیا تھا یا ان کی ضمانت کی گئی تھی۔

ملک میں خانہ جنگی کے بعد اس قانون کے تحت پکڑے جانے والے بیشتر قیدی تامل تھے لیکن مسلمان تشدد پسندوں کے ایسٹر کے حملے کے بعد اس قانون کے تحت سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کیاگیا۔ دو سال گزر جانے کے بعد بھی ان قیدیوں پر الزامات عائد نہیں کئے گئے اور ابھی تک انہیں عدالت میں نہیں پیش کیا گیا۔

زیر حراست مسلمانوں کے خاندان آج بے حد مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی آمدنی کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں، انہیں علاج کی سہولتیں میسر نہیں ہیں، ان کے بچے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے اور انہیں نفسیاتی امراض لاحق ہیں۔ پچھلے سال کئی قیدیوں کی زیر حراست ہلاکتیں ہوئیں تھیں اور جیل میں کرونا وائرس پھیلنے کی اطلاعات بھی تھیں۔

سری لنکا میں کئی ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور ان سے ہونے والے ماحولیاتی اثرات کی خبریں ہیں۔ اس صورت حال کے بارے میں آپ کی رائے؟

ملک کی کئی علاقوں میں لوگ ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت کر رہے ہیں اور انہیں ماحولیاتی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ کولمبومیں پورٹ سٹی کا منصوبہ او ر پہاڑی علاقوں میں اوما اویا پروجیکٹ (Uma Oya Project) کے خلاف شدید مزاحمتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

جب سے نئی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے، نوجوانوں اور ماحولیات کے تحفظ کے کارکنوں کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے خصوصاً وہ کارکن جو جنگلات کی حفاظت اور قدرتی ماحول کی حفاظت کے لئے کام کر رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا کے تقریباً تمام ملکوں میں جمہوری اقدار اور اظہار رائے پر پابندیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ان پیمانوں پر آپ سری لنکاکا دوسرے علاقائی ملکوں سے کس طرح موازنہ کریں گے؟

اگرچہ خطے کے ذرائع ابلاغ پر میری معلومات بہت محدود ہیں لیکن میرے خیال میں جنوبی ایشیا کے بیشتر ملکوں میں آزادی اظہار اوراختلاف رائے پر پابندیاں اب معمول بن چکی ہیں۔ اس خطے میں نسلی اور مذہبی اقلیتیں ایک مشکل دور سے گزر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تارکین وطن، مزدوروں، کسانوں اور مختلف جنسی رجحانات کے حامل لوگوں کے خلاف معاشرے میں شدید تعصبات پائے جاتے ہیں۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔