دنیا

کیا او آئی سی فرانس سے لڑائی مول لے گی؟

پرویز امیر علی ہود بھائی

وزیر اعظم نے 26 اپریل کومسلم ممالک کے سفیروں کو وزیر اعظم ہاؤس مدعو کیا اور ان سفیروں کے ذریعے اُن کے ممالک کو ایک نئی ذمہ داری سونپی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک ابھی تک مغرب، بالخصوص فرانس، کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی سے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ اس ناکامی کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ اس لئے مغرب پر واجب ہے کہ آزادی اظہار پر پابندی لگا کر توہین رسالت کے خلاف ایسے قوانین بنائے جو پاکستان اور اُمہ کو قبول ہوں۔

کیا مسلم ممالک کے سفیر یہ اضافی ذمہ داری اٹھائیں گے؟

سفارت کاروں کی تربیت کا حصہ ہوتا ہے کہ وہ مشکل سوال اٹھا کر اپنے میزبان کو شرمندگی سے دوچار نہ کریں۔ طاقتور ممالک کو مجبور کرنا کہ وہ اپنے قوانین اور نظریات ہی بدل دیں کوئی آسان کام نہیں۔ اس لئے ان میں سے کچھ سفارت کاروں کے دل میں یہ بات آئی تو ہو گی کہ وزیر اعظم پاکستان سے پوچھیں: سر! ہم سب مسلمان ہیں اورہمارا دل بھی بہت بری طرح دکھتا ہے جب کوئی ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرتا ہے مگر یہ وضاحت تو کیجئے کہ ایسے ہر واقعے کے بعد صرف آپ کے ملک میں ہی کیوں تشدد بھڑک اٹھتا ہے، ہمارے ہاں نہیں۔ جب فرانس یا ڈنمارک میں کوئی گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، تھوڑاشور مچاتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہم اپنے ملکوں میں یہ اجازت نہیں دیتے کہ مظاہرین شہروں کے شہر جام کر دیں، پولیس والوں کو تشدد کا نشانہ بنائیں اور جان سے مارڈالیں، یا عمارتوں کو نذر آتش کر دیں۔ ہمارے ہاں ان لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر مار دیا جاتا ہے۔ لگتا ہے آپ بہت ہی رحم دل واقع ہوئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ آپ نے ٹی ایل پی کو دہشت گرد قرار دیا مگر اگلے ہی روز ان کے 669 بلوائیوں کو رہا بھی کر دیاحالانکہ ان بلوائیوں نے آپ کے 700 پولیس اہل کاروں کو زخمی جبکہ 4 افسروں کو ہلاک کیا تھا۔ اس کے بعد ہم نے آپ کا یہ بیان بھی سنا کہ آپ ٹی ایل پی کے مقصد سے متفق ہیں مگر ان کے طریقہ کار سے اختلاف رکھتے ہیں۔ دہشت گردی سے نپٹنے کا یہ طریقہ کار ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔

سر! ہم نے پاکستانی اخبارات میں آپ کا یہ بیان بھی پڑھا کہ فرانس کی سفیر کو ملک بدر کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں بحث کرانے پر آپ ٹی ایل پی سے متفق ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہم عمانوئیل میکراں سے نفرت کرتے ہیں۔ کون ہے جو نہیں کرتا؟ اس کے باوجود ہم میں سے کسی کے ملک نے بھی فرانس کے سفیر کو نکالنے کی دھمکی نہیں کی۔ خیر اس مسئلے پر بحث کرانے کی ڈیڈ لائن 20 اپریل تھی۔ یہ ڈیڈ لائن کب کی گزر چکی۔ یہ وضاحت فرمائے کہ کیا اس سوال پر کوئی بحث ہوئی؟ اس بحث کا نتیجہ کیا نکلا، ہمارے علم میں نہیں۔ ہاں البتہ قوم کے نام خطاب میں، جو آپ لگ بھگ روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں، ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پاکستان فرانس کیساتھ سفارتی تعلقات ختم نہیں کر سکتا کیونکہ یورپی یونین کا رد عمل بہت شدید ہو گا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں اکثر فرانسیسی شکل والا ایک شخص چہل قدمی کرتا ہوا اکثر نظر آتا ہے۔ لگتا تو نہیں اس شخص کا عنقریب پاکستان چھوڑنے کا کوئی ارادہ ہے۔ ادہر کوہسار مارکیٹ میں دکانیں فرنچ پنیر سے بھری پڑی ہیں۔ تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ فرانس کے سفیر کو نہیں نکالا جائے گا اور نہ ہی فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے گا؟ آپ کی وضاحت کا انتظار رہے گا تا کہ ہم اپنی حکومتوں کو مطلع کر سکیں۔

سر! اگر آپ کا فرانسیسی سفیر کو نکالنے اور فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تو یہ فرمائیں کہ ہم اپنی اپنی حکومتوں کو اس بارے کیسے قائل کریں؟ ہماری حکومتیں آپ سے یہ بھی جاننا چاہیں گی کہ مغرب کو کیسے مجبور کیا جائے کہ وہ ہمارے مطالبات تسلیم کرے۔ بے شک ہمیں احساس ہے کہ آپ کے ملک کی معیشت کا انحصار مغرب کی خیر سگالی پر ہے۔ اس لئے آپ کو مغرب کے ساتھ کچھ زیادہ ہی انکساری سے پیش آنا پڑتا ہے۔ کرونا کی وبا نے نے آپ کے لئے اور بھی زیادہ مسائل کھڑے کر دئیے ہیں۔ شکر ہے کہ اس بحران سے نپٹنے کے لئے مغرب نے آپ کو امداد جاری کی ہے مگر فیٹف اور آئی ایم ایف کی شرائط آپ کے سر پر تلوار کی طرح لٹک رہی ہیں۔ ہمیں اس بات پر افسوس ہے کہ آپ غیر ملکی اکاؤنٹس میں پڑے وہ اربوں ڈالر واپس نہیں لا سکتے جو گذشتہ حکومتوں کے دور میں لوٹا گیا، نہ آپ اپنے شہریوں سے ٹیکس وصول کر سکتے ہیں، ہر طرف پھیلی بدعنوانی کا خاتمہ بھی آپ کے بس کی بات نہیں اور نہ ہی آپ یہ طے کر سکتے ہیں کہ فوج کا بجٹ کتنا بڑا ہو گا۔ ہمیں امید ہے عین اسی طرح آپ بھی اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ،ہم میں سے بعض ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود، زیادہ شور نہیں مچا سکتے کیونکہ اسلحے کی خریداری، ٹیکنالوجی، نئے خیالات اور آرام دہ زندگی کے عوض ہم بھی بہت زیادہ شور نہیں مچا سکتے۔

سر! یورپی یونین نے حال ہی میں جو قرار داد منظور کی ہے جس میں پاکستان سے جی ایس پی پلس سٹیٹس واپس لینے کی بات کی گئی ہے، اس کی وجہ سے آپ کے اوسان خطا ہیں۔ ہمیں اس کا احساس ہے۔ یہ کہ اس قرارداد کے حق میں 662 ووٹ آئے، صرف 3 ارکان نے مخالفت کی (26 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا) یقینا پریشان کن بات ہے۔ ہمیں اندازہ ہے کہ اگر اس قرارداد پر عمل درآمد ہو گیا تو آپ کی ملکی معیشت، بالخصوص ٹیکسٹائل کی برآمدات تو تباہ ہو کر رہ جائیں گی۔ صورت حال یہ ہے کہ کرونا وبا سے قبل پاکستان کی معیشت ایک فیصدکے حساب سے نمو پا رہی تھی جبکہ بھارت میں شرح 4.2 فیصد اور بنگلہ دیش میں 8.2 فیصد تھی۔ اب جبکہ امریکہ افغانستان سے رخصت ہو چکا، کولیشن سپورٹ فنڈ بھی ختم ہے۔ جہاں تک تعلق ہے چین کا تو آپ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ چینی امداد دینے کے معاملے میں کتنے کنجوس واقع ہوئے ہیں۔ ہم اس حیثیت میں تو نہیں ہیں کہ کوئی نصیحت کر سکیں مگر کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ آپ مغرب سے تعلقات بہتر بنائیں اور جو لوگ کئی کئی سال سے بلاسفیمی کے الزام میں قید ہیں انہیں رہا کر دیں؟ کم از کم اپنے توہین مذہب کے قوانین پر بحث کی اجازت تو دیں؟ بلا شبہ ہم او آئی سی ممالک کا ریکارڈ بھی انسانی حقوق کے حوالے سے اتنا اچھا نہیں مگر یقین کیجئے آپ کا ملک اور شیریں مزاری تو کبھی کبھی ہمیں بھی حیران کر دیتے ہیں۔

سر! ہم اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ آپ نے یورپ کے خلاف ایک مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لئے مدعو کیا لیکن اُمہ کی یکجہتی کے حوالے سے آپ کچھ زیادہ ہی حسن ِظن سے کام لے رہے ہیں۔ یقین کیجئے ہم سارے مسلمان ساتھی افطاری کے اوقات سے لے کر عید کے چاند تک، کسی اہم مسئلے پر اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے۔ ہم میں سے کچھ نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے، کچھ کرنے جا رہے ہیں اور کچھ کا اعلان ہے کہ وہ صیہونی ریاست کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ یمن میں جنگ سمیت ہم ہر مسئلے پر اختلاف رکھتے ہیں۔ جہاں تک سوال ہے کشمیر کا تو ہم آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے پچھلے سال دسمبر میں آپ اور شاہ محمود قریشی کے بار بار اصرار پر ہم نے وہ قرارداد منظور کر لی جس کا آپ مطالبہ کر رہے تھے لیکن آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم انڈیا کو بھی ناراض نہیں کر نا چاہتے اس لئے ہم کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے نئی دلی ناراض ہو۔ بطور سفارت کار ہم یہی کچھ عرض کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم صاحب! ہم آپ سے متفق ہیں کہ فرنچ لوگ بہت برے، توہین مذاہب کا ارتکاب کرنے والے اور سیکولرازم کے مارے ہوئے ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ کتنے ہی مسلمان، بالخصوص پاکستان کے شہری، فرانسیسی ویزہ لینے قطاروں میں لگے ہوئے ہیں جبکہ لاکھوں مسلمان فرانس میں رہ رہے ہیں۔ کوئی فرانس یا یورپی یونین چھوڑنے پر تیار نہیں۔ ہمیں معلوم ہے آپ اسلاموفوبیا اسے سخت نالاں ہیں مگرمسلم فوبیا پر بھی کچھ دھیان ں دیجئے۔ بیچارا مسلمان ہر طرف کوٹا جا رہا ہے۔ آپ کے پڑوسی ملک چین میں وہیگر مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کو وہیگر مسلمانوں بارے کچھ علم نہیں مگر حقائق جاننا چاہیں تو صرف گوگل کرنے کی دیر ہے۔ آخر میں ہم آپ سے صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگلی بار آپ بیجنگ کے دورے پر جائیں تو کیا آپ صدر زی ژی پنگ کے کان میں اتنی سرگوشی کرسکتے ہیں کہ وہیگر مسلمانوں پر تھوڑا رحم فرمائیں؟ آپ کا بہت شکریہ سر۔

Pervez Hoodbhoy

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔