خبریں/تبصرے

جاوید ہاشمی کی تعمیرات کو بلڈوز کرنا بزدلانہ انتقامی کارروائی ہے، عمار علی جان

لاہور (جدوجہد رپورٹ) حقوق خلق موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر عمار علی جان نے کہا ہے کہ جاوید ہاشمی کی تعمیرات کو بلڈوز کرنا بزدلانہ انتقامی کارروائی ہے۔ کوئی بھی سکول کی غیر قانونی اراضی پر تعمیر کی کہانی سے بیووقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر قانون کا مسئلہ تھا تو پھر سب سے پہلے ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی، یہ صرف اور صرف ایک سیاسی انتقام ہے۔

ٹویٹر اور فیس بک پر جاری کئے گئے بیانات میں عمار علی جان کا کہنا تھا کہ ”کچھ دن پہلے جاوید ہاشمی نے ایک پریس کانفرنس میں جرنیلوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانی سیاست میں مداخلت بند کریں۔ انہو ں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے بحران کی وجہ یہ ہے کہ کچھ قوتیں جمہوری عمل کو نقصان پہنچاتی ہیں اور منتخب قیادت پر کٹھ پتلیوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ آج پی ٹی آئی حکومت نے جاوید ہاشمی کی بیٹی کے گھر اور سکول کو بلڈوز کر دیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ غیر قانونی اراضی پر تعمیر کیا گیا تھا۔“

عمار علی جان کا کہنا تھا کہ ”یہ ایک ہنسانے والا دعویٰ ہے کیونکہ اگر یہ حکومت قانون کی حکمرانی میں دلچسپی لیتی تو اس نے بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے اور بنی گالا کو منہدم کر دیا ہوتا، اس کی بجائے حکومت نے قانونی تکنیک کی بنیاد پر پریس کانفرنس کے ایک ہفتہ بعد جاوید ہاشمی کے اہل خانہ کو نشانہ بنانے کا انتخاب کیا۔“

انکا مزید کہنا تھا کہ ”ملکی معیشت اور معاشرہ تباہی کے دہانے پر ہے اور حکومت سیاسی انتقام کی پالیسی پر گامزن ہے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ جو قانونی اور غیر قانونی کی تعریف کو کنٹرول کرنے والی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنے کی ہمت کرنے والوں کو کس طرح کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ ہم وسیع پیمانے پر خوف اور سنسرشپ کے باوجود سچ بولنے کی جرات کرنے والے تمام لوگوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔“

واضح رہے کہ پیر کے روز ملتان میں محکمہ اوقاف نے آپریشن کر کے سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی کی بیٹی کے شادی ہال کی دیواریں گرا دیں، شامیانے اور ڈیکوریشن کا دیگر سامان، کراکری بھی قبضے میں لے لی۔

جیو نیوز کے مطابق جاوید ہاشمی نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے ان کے آبائی گھر کو بھی مسمار کر دیا ہے۔ 4 افراد کو گرفتار کیا گیا اور انکے داماد کو بھی زدوکوب کیا گیا۔

انتظامیہ نے کارروائی کو تجاوزات کے خلاف شہر بھر میں چلنے والے آپریشن کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شادی ہال کانقشہ منظور نہیں تھا جس پرکارروائی کی گئی۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کے قائدین اور انسانی حقوق کے رہنماؤں نے اس آپریشن کو گزشتہ ہفتے جاوید ہاشمی کی جانب سے کی جانیوالی پریس کانفرنس کے رد عمل میں انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔