تاریخ

آئی اے رحمان قدرے جلدی چلے گئے

طاہر کامران

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے
(غالب)

دیانت، ہمت اور قابلیت رحمن صاحب کی پہچان تھی حتیٰ کہ انتہائی مشکل دنوں میں بھی انہوں نے کبھی اپنی دیانتداری پر سمجھوتہ نہ کیا۔ یہ خوبی عموماً مذہب سے وابستہ کی جاتی ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ مذہب ہی وہ بہترین ذریعہ ہے جو کسی شخص میں دیانتداری پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے، تاہم رحمن صاحب کے معاملے میں یہ بات نہیں کہی جا سکتی۔

اخلاقیات کے معاملے کو بھی اکثر مذہبی پیرائے میں سمجھا جاتا ہے۔ اخلاقی طور پر اعلیٰ رویوں کا مظاہرہ کرنے والے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ باطنی اور خارجی طور پر مذہبی ہو۔ سیکولر یا لبرل نظریات رکھنے والے کو اکثر اخلاقی طور پر ناقص اور دیانت سے عاری سمجھا جاتا ہے۔

آئی اے رحمن نے ہمیں اس عمر میں الوداع کہا جسے ایک پختہ عمر سمجھا جاتا ہے، 90 سال کی عمر…لیکن مجھے پوری ایمانداری سے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ہمیں بہت جلد الوداع کہہ دیا۔ ان بہت سے عارضوں کے پیش نظر جو پاکستانی معاشرے کو لاحق ہیں، ان جیسی بصیرت کے حامل شخصیت کی بہت ضرورت تھی۔ پہلے کی نسبت آج یہ ضرورت شاید زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

جب ہمارے معاشرے میں مذہبی نمائندگی کرنے والی کوئی شخصیت انتقال کر جاتی ہے تو عام طور پر ان جیسی بہت سی شخصیات میں سے کوئی ایک ان کی جگہ لے لیتی ہے، سیکولر اور لبرل حلقوں میں اس طرح کے تسلسل کا فقدان ہے۔ جس کے نتیجے میں ان کی نمائندہ شخصیات تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔

رحمن صاحب کے رخصت ہونے کے بعد مجھے اس احساس نے گھیر رکھا ہے کہ ایک اور بے بدل روح ہمیشہ کے لئے رخصت ہوئی اور اس قحط الرجال معاشرے کو غریب تر کر گئی۔ جنرل ضیا کی حکومت کے گیارہ برسوں میں رحمن صاحب انصاف، آزادی اظہار اور انسانی حقوق کے دفاع کے لئے اپنی جدوجہد میں ثابت قدم رہے۔ انہی دنوں اور اس کے بعد جب پاکستان میں قدامت پسندی اور مذہبی تعصب کا دور دورہ تھا، وہ اپنے نظریات پر ڈٹے رہے۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے ایک بار ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا ”انسان کو جانچنے کا حتمی پیمانہ یہ نہیں ہوتا کہ وہ سکون و راحت کے وقت کیسا تھا بلکہ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ وہ چیلنج اور تنازع کے وقت کہاں کھڑا تھا“۔

جب 1988ء میں بے نظیر بھٹو برسر اقتدار آئیں تو رحمن صاحب اور عزیز صدیقی کو پروگریسو پیپرز کا انچارج بنایا گیا۔ رحمن صاحب نے پاکستان ٹائمز کے چیف ایڈیٹر کی ذمہ داری سنبھالی۔ ان کی زیر ادارت اخبار کو ایک نئی شکل ملی اور اس کے اداریوں میں ترقی پسند نظریات کی گونج سنائی دی۔ واقعتاً یہ ایک تازہ ہوا کا جھونکا تھا۔ جب بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کیا گیا تو انہوں نے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا۔

یہ ہمارے معاشرے کا افسوسناک پہلو ہے کہ اس قد کا آدمی کچھ عرصہ بے روزگار رہا لیکن یہ ان کیلئے ایسی پریشانی والی بات نہیں تھی جو ان کے راستے میں رکاوٹ ڈالے۔ انہوں نے ایک بار البرٹ آئن سٹائن کے اس قول کا حوالہ دیا: ”کامیاب انسان بننے کی کوشش مت کرو بلکہ صاحب اقدار بنو، اپنے آس پاس دیکھو لوگ کس طرح زندگی میں حصہ کم ڈالتے ہیں اور فائدہ زیادہ سے زیادہ اٹھانا چاہتے ہیں، صاحب اقدار آدمی زندگی کو اس سے زیادہ دیتا ہے جو وصول کرتا ہے“۔ ایسے لگتا ہے جیسے آئن سٹائن نے یہ بات رحمن صاحب کے بارے میں ہی کہی ہو۔

کچھ سال پہلے میں انسانی حقوق کمیشن کے دفتر ان سے ملنے گیا تو وہ 85 سال کی عمر میں بھی مئی کی شدید گرمی میں کچھ تحریری کام کی ادارت میں روایتی انداز میں مگن تھے۔ وہ پسینے میں بھیگے ہوئے تھے۔ ان کی میز کتابوں سے اٹی ہوئی تھی، ان کتابوں کو وہ آئندہ ایک ہفتے کے اندر پڑھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

وہ اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس نے صحافت کا فن بڑی دقت سے سیکھا۔ وسیع مطالعہ، نفیس انداز تحریر جو عام آدمی کیلئے قابل فہم تھا اور لطیف نظریات کو آسان زبان میں دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت نے رحمن صاحب کو نمایاں پہچان عطا کر دی تھی۔ وہ مجھ سے عموماً تاریخ کے بارے میں بات کرتے تھے۔ میں نے انہیں اس موضوع پر تمام تر جزئیات کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے پایا لیکن اس کے باوجود وہ اپنی دانشوری کی عظمت کی خودنمائی نہیں کرتے تھے۔ جب میں نے اصرار کیا کہ وہ اپنی یادداشتیں لکھیں تو انہوں نے اس تجویز کو ہنس کر ٹال دیا اور کہا کہ ان کے پاس کہنے کیلئے اور بہت کچھ ہے۔ اس طرح کی شائستگی ان کی خاص بات تھی۔

یوم پاکستان کے موقع پر ایک بار میں نے رحمن صاحب اور پروفیسر محمد وسیم کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں مدعو کرنے کا ارادہ کیا۔ عام طور پر ایسے مواقع پر ان لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے جو پاکستانی قوم پرستی کو اسلام میں تلاش کرتے ہیں۔ تاہم میں چاہتا تھا کہ پاکستانی قوم پرستی کو ایک مختلف نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔ بلاشبہ مذہب پاکستانی قوم پرستی کے اجزا میں سے ایک ہے لیکن یہ اس کی تشکیل کا واحد عنصر نہیں۔

ہماری قوم پرستی کو تسلیم شدہ کثرت کے ساتھ ایک لازمی خاصیت کے طو پر اپنے جامع کردار میں دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ رحمن صاحب نے نہایت ہی شفقت سے میری دعوت قبول کی اور اس موقع کو رونق بخشی۔ ان دونوں مقررین نے اپنی گہری، تجزیاتی اور بہترین تقاریر کے ساتھ یوم پاکستان کی تقریب کو یادگار بنا دیا۔

رحمن صاحب ہمیشہ ایک ایسے مقرر رہے جو سامعین کے اذہان کو مسحور کر لیتا ہے۔ ایک بار انہوں نے سرخ رنگ سے متعلق ضیا الحق کے نفسیاتی خوف کی نشاندہی کر کے سامعین کو بہت محظوظ کیا۔ (ضیا کے حکم پر لیڑ بکسوں کا رنگ سرخ سے سبز میں بدل دیا گیا تھا، اربن ٹرانسپورٹ کی بسوں کا رنگ بھی سرخ تھا جنہیں کسی اور رنگ سے چھپا دیا گیا، کیونکہ مبینہ طور پر سرخ رنگ ضیا کو خوفزدہ کرتا تھا)۔

رحمن صاحب اپنے ان گنت مداحوں کی یادوں میں زندہ رہیں گے۔ میری تجویز ہے کہ اشعر رحمان آنے والی نسلوں کی خاطر ان کی سوانح حیات لکھیں۔ رحمان صاحب کے نظریات اور ان کے پختہ ایقان اور ان کی جدوجہد کو ایک کتابی صورت میں یکجا کرنا ضروری ہے۔

بشکریہ: دی نیوز آن سنڈے

Tahir Kamran

طاہر کامران بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی، لاہور میں لبرل آرٹس کی فیکلٹی میں پروفیسر ہیں۔ تاریخ پر نصف درجن کتابوں کے علاوہ وہ کئی تحقیقی مقالات شائع کر چکے ہیں۔