خبریں/تبصرے

افغان ٹی وی اینکر مینہ خیری ایک بم دھماکے میں ہلاک

قیصر عباس

کابل میں ایک پرائیویٹ ٹی وی کی نیوز اینکر مینہ خیری کو ایک بم دھماکے میں اس وقت ہلاک کر دیا گیا جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ ایک وین میں سفرکر رہی تھیں۔ حملے میں ان کی والدہ اور دو اور مسافر بھی ہلاک ہوئے اور ان کی صحافی بہن بھی سخت زخمی ہو گئیں۔ ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

تیئس سالہ صحافی مینہ، ایریانہ نیوز ٹی وی میں خبروں اور حالات حاضرہ پروگرام کی اینکر تھیں جنہوں نے ٹی وی میں اپنے کیرئر کا آغاز 2017ء میں کیا تھا۔ انہوں نے اقتصادیات میں بی اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔

صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پرو ٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس قتل کی تحقیق کر کے معلوم کرے کہ اس کاتعلق ان کی صحافیانہ ذمہ داریوں سے ہے یا نہیں۔

تنظیم کے ایشیائی پروگرام کے رابطہ کار سٹیون بٹلر نے ایک بیان میں کہاہے کہ ”افغانستان میں صحافیوں کے لئے ایک محفوظ فضا قائم کرنا اور آزادی رائے کا نفاذ انتہائی ضروری ہے اور حملے کے ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دلا کر ہی حکومت یقین دلا سکتی ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لئے سنجیدہ ہے۔“

ٹی وی چینل کے نیوز مینجر احمد فرشاد صالح نے سی پی جے کو بتایا کہ ان کے خیال میں حملے کا مقصد صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور خبروں پر سنسرشپ عائد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چینل کے دوسرے ملازمین کو دھمکیاں دی گئی تھیں لیکن ان کی اطلاعات کے مطابق مینہ خیری کو دھمکیاں نہیں ملی تھیں۔

گزشتہ کچھ دنوں میں کابل اور شہر کے مغربی حصے میں خصوصی طور پر قاتلانہ حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پچھلے مہینے ہی لڑکیوں کے ایک سکول پر دھماکے کئے گئے تھے جن میں 90 طالبات ہلاک ہوئی تھیں۔

مقتولہ کے والد عارف خیری نے کہا ہے کہ حکومت لوگوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق ”یہ اسلامی اقدار کے خلاف ایک گھناؤنا جرم ہے اور ایک انسان ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔“

جنوبی ایشیا میں افغانستان، انڈیا اور پاکستان صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ملک شمار کئے جاتے ہیں۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے حال ہی میں ایک وائٹ پیپر شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خطے میں پچھلے سال گیارہ صحافی ہلا ک کئے گئے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ، پانچ اور افغانستان اور انڈیا میں تین تین صحافی ہلا ک ہوئے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔