خبریں/تبصرے

بیکری فوڈ کی سب سے بڑی چین ’تہذیب‘ میں ویٹروں کی ماہانہ تنخواہ 9 ہزار

راولا کوٹ (نامہ نگار) پاکستان میں بیکری فوڈ میں سب سے بڑی ’چین‘اور ایک بڑے نام کی حامل ’تہذیب‘ بیکرز میں ویٹروں کی ماہانہ تنخواہیں 6 سے 9 ہزار روپے دیئے جانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور ٹیکس چھپانے کیلئے تنخواہیں کیش کی صورت ادا کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

بدھ کے روز نجی جامعہ ’نمل‘ کے پروفیسر طاہر نعیم ملک نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پرلکھا کہ ”اسلام آباد کی مشہور تہذیب بیکری کے ویٹرز کو 9 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ادا کی جاتی ہے اور تنخواہ کیش دی جاتی ہے، بینک اکاؤنٹ میں نہیں دی جاتی۔ حکومت نے مزدوروں کی تنخواہ 20 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی ہے۔ اگر اسلام آباد میں ورکرز کا معاشی استحصال اس شکل میں جاری ہے تو باقی ملک میں کیا حال ہوگا۔“

انہوں نے مزید لکھا کہ ”یہ ویٹرز گاڑی کے ایک ہارن پر گرمی سردی میں آرڈر مہیا کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک بیکری یا کاروباری ادارے کی بات نہیں، سب کا یہی حال ہے۔ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے ادارے سو رہے ہیں۔ ایف بی آر بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔“

تہذیب بیکرز اسلام آباد کے ایک ویٹر نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر ’جدوجہد‘ کو بتایا کہ ”9ہزار ماہانہ تنخواہ بھی چند ایک ویٹروں کی ہے، اکثریت کی تنخواہ 6 سے 8 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ تنخواہ کیش کی صورت میں ہی دی جاتی ہے اور باقی رقم ’ٹپ‘ کے طور پر کمانے کا کہا جاتا ہے۔“

انکا کہنا تھا کہ ”ٹپ بعض اوقات کافی بن جاتی ہے لیکن سب کی قسمت ایک جیسی نہیں ہوتی، جو کسٹمر اچھا ہو اور اسے ویٹر کی سروس زیادہ پسند آجائے تو وہ 50 یا 100 روپے ’ٹپ‘ دے دیتا ہے۔ اکثر اوقات 5 یا 10 روپے ہی ’ٹپ‘ کی صورت میں ملتے ہیں۔“

تہذیب بیکرز کی ویب سائٹ پر فراہم کردہ فون نمبر 03061112253 پر رابطہ کرنے پر انکے نمائندہ نے معلومات دینے سے گریز کیا۔ نمائندے کا کہنا تھا کہ انہیں ابھی 2 ہی دن ہوئے ہیں نوکری شروع کئے ہوئے اس لئے انہیں کوئی معلومات نہیں ہے۔ اپنی تنخواہ سے متعلق بھی انکا کہنا تھا کہ ابھی تک تنخواہ طے ہی نہیں ہوئی۔ تاہم منیجر سے رابطہ کروانے کا مطالبہ کرنے پر انکا کہنا تھا کہ منیجر نماز پڑھنے گئے ہوئے ہیں اور اس کے بعد وہ گھر جائیں گے۔ لہٰذا کل صبح ان سے بات ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیر خزانہ اور ماہر معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 53 فیصد مزدوروں کو کم از کم اجرت نہیں مل رہی جبکہ ریاست کی طرف سے ملنے والی سبسڈی کا فائدہ امیر طبقے کو غریب لوگوں کی نسبت تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔