تاریخ

نہرو وادی سوشلسٹ ہیرو جو مذہبی جنونیت کا کٹر مخالف تھا

فاروق سلہریا

پاکستان کے رجعت پسند حلقوں میں دلیپ کمار کی ہمالیہ جیسی شخصیت گلے کی وہ ہڈی تھی جو اگلی جاتی ہے نہ نگلی جاتی ہے۔ یادش بخیر: ’مرحوم لالی وڈ‘میں دلیپ کمار کا متبادل اور دلیپ کمار کے ہم عصر سنتوش کمار (سید موسیٰ رضا)تھے۔

قوم یوتھ نے ’مسئلہ دلیپ کمار‘ کا ایک حل یہ نکالا ہے کہ دلیپ کمار کی جسمانی وفات پر ’یوسف خان‘ کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

جن لوگوں کا افق سوشل میڈیا تک محدود ہے ان کی یاد دہانی کے لئے یاد کراتے جائیں کہ دلیپ کمار کو اسلامائز کرنے کا پہلی دفعہ خیال قوم یوتھ کے سیاسی ابا جی، جنرل ضیا الحق، کے ثقافتی کومیساروں کو آیا تھا: جب وہ پہلی بار ’سر عام‘ پاکستان آئے (’سر عام‘ کی اصطلاح اس لئے استعمال کی جا رہی ہے کہ وہ دو دفعہ امن کے لئے خفیہ طور پر بھی آئے تھے) تو اخبارات اور پی ٹی وی پر انہیں یوسف خان کے نام سے رپورٹ کیا گیا۔

راقم ان دنوں میٹرک کا طالب علم تھا۔ لاکھوں دیگر نوجوانوں کی طرح راقم کو بھی پہلی بار پتہ چلا کہ دلیپ کمار اصل میں یوسف خان ہیں۔

دلیپ کمار کو یوسف خان بنانے پر مصر قوم یوتھ اور ضیا باقیات کو شائد علم نہ ہو کہ دلیپ کمار ویسے ہی کٹر سیکولر تھے جنہیں پاکستان میں ’سیکولر فاشسٹ‘کہا جاتا ہے اور بال ٹھاکرے دلیپ کمار کو ڈس کریڈٹ کرنے، ان کو غدار ثابت کرنے، ان کا مذاق اڑانے کے لئے ’یوسف خان‘ کہہ کر پکارتا تھا۔

ایک دور ایسا بھی تھا کہ بال ٹھاکرے اور دلیپ کمار ذاتی دوست تھے۔ پھر یوں ہوا کہ مذہبی جنونیت اور ہندو بنیاد پرستی ایک سیاسی طوفان بن کر ابھری۔ اس کا اہم ترین نقطہ آغاز رام رتھ یاترا تھی۔ ایل کے ایڈوانی کی قیادت میں ہونے والی اس یاترا کے اختتام پر بابری مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔ پورے ملک میں مسلمان ہندو جنونیت اور بربریت کا شکار ہوئے۔ ملک بھر میں بلوے ہوئے جس میں زیادہ تر مسلمان مارے گئے۔

بمبئی بھی اس کا شکار بنا۔ فسادات کی آگ کو ٹھندا کرنے کے لئے دلیپ کمار نے اپنے پڑوسی اور دوست سنیل دت کے ہمراہ فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرنا شروع کیا۔ دونوں نے اپنی جیب سے بھی لوگوں کی مدد کی اور ہندو مسلم دوریاں مٹانے کے لئے بھی کردار ادا کیا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دلیپ کمار کے گھر کے باہر بال ٹھاکرے کے کارکنوں نے متشدد مظاہرے شروع کر دئے۔ نرگس دت سٹریٹ جس پر دلیپ کمار کا گھر ہے، دنگے فساد کا مرکز بن گئی۔ دلیپ کمار خوفزدہ نہیں ہوئے ہاں مگر بال ٹھاکرے سے ان کی دوستی ختم ہو گئی۔

چند سال بعد، جب دیپا مہتہ کی فلم ’فائر‘ پر تنازعہ کھڑا ہوا (بال ٹھاکرے کے لوگوں نے فلم سیٹ پر حملے کر کے سیٹ ہی جلا دئے) تو دیپا مہتہ نے بال ٹھاکرے کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی۔ دلیپ کمار نے کھل کر دیپا مہتہ کا ساتھ دیا۔ بالی وڈ کی کچھ دیگر شخصیات (جاوید اختر، مہیش بھٹ) بھی دیپا مہتہ کا ساتھ دیا مگر دلیپ کمار مقدمے میں فریق بن گئے۔

اگر آپ گوگل سرچ کریں تو اس انٹرویو کا کلپ بھی مل جائے گا جس میں دلیپ کمار مذہبی جنونیت (وہ ہندو ہو یا کوئی اورورژن) کو کس طرح انسانی تہذیب پر حملہ سمجھتے تھے۔

گو وہ عملاً کبھی کسی سیاسی جماعت کا رکن نہیں رہے یا کبھی الیکشن نہیں لڑا مگر انہیں بالی وڈ کا نہرو وادی سوشلسٹ ہیرو کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔

پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں اگر گرو دت سوشلسٹ بغاوت (’پیاسا‘ بالخصوص) کی علامت تھے تو راج کپور (مشہور گانا ’پیار ہوا اقرار ہوا‘ اس کی بہترین مثال ہے) اور دلیپ کمار نہرو وادی سوشلزم کی علامت تھے۔ ’نیا دور‘ یا ’لیڈر‘ جیسی فلمیں اس کی بہترین مثال ہیں۔

پنڈت نہرو کے ساتھ ان کے ذاتی مراسم بھی تھے۔ نہرو جی کے کہنے پر ہی دلیپ کمار نے کرشنا مینن کی انتخابی مہم بھی چلائی۔ اس کے علاوہ بھی وہ پنڈت نہرو کے کہنے پر بعض اوقات مختلف کمپنینز کا حصہ بنے۔

گو ان کی روایتی تعلیم تو ایف اے سے زیادہ نہ تھی لیکن کتب بینی کا شوق اور ذوق مطالعہ، پھر دانشوروں اور شاعروں کی صحبت کا نتیجہ تھا کہ وہ اپنے عہد کے ایک بہترین دانشور بھی تھے۔

وہ جتنی شستہ اردو بولتے تھے، شائد بہت بڑے اردو دان بھی نہ بول سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی سوانح حیات میں بتایا ہے کہ گھر میں پشتو بولی جاتی تھی مگر وہ ہندکو بھی بہت اچھی بولتے تھے (یوٹیوب پر ان کے کم از کم دو کلپ موجود ہیں جن میں وہ ہندکو بولتے ہوئے نظر آتے ہیں)۔

یوٹیوب پر موجود ان کا ایک انتہائی اہم انٹرویو میڈیا اور کلچر کے حوالے سے ہے۔ وہ تیسری دنیا کی ثقافت، میڈیا اور ترقی میں ان کے کردار پر جو بات چیت کر رہے ہیں…ایسا بیانیہ برصغیرکے وہ فیشن ایبل میڈیا سکالر بھی پیش نہیں کر سکے جو خود کو پوسٹ کلونیل اور پوسٹ ماڈرنسٹ کہتے ہیں۔ میڈیا اور ثقافت بارے دلیپ کمار کی تھیوری ان کے اپنے تجربے اور اس تجربے بارے سوچ بچار کا نتیجہ تھی۔

یوں وہ نہ صرف برصغیر پاک و ہند کے سب سے پہلے، سب سے بڑے سلیبریٹی تھے بلکہ ایک ایسے (اور شائد واحد) سلیبریٹی تھے جو بیک وقت اعلی پائے کے دانشور، ’Socially Engaged‘ شہری اور کارکن تھے جو سیکولرزم، عالمی امن، سماجی انصاف پر نہ صرف یقین رکھتے تھے بلکہ اس کے لئے کوشاں بھی رہے۔

1998ء میں پاکستان سے ایوارڈ وصول کرنے کے بعد جب وہ واپس بمبئی گئے تو ’یوسف خان‘ کے گھر کے باہر آر ایس ایس والے ’جاو پاکستان جاو‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقع پر دلیپ کمار نے ایک صحافی کو انٹرویو میں کہا: ”میں نے انڈیا میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ملک میرا بھی اتنا ہی ہے جتنا کسی اور کا۔ یہیں جیوں گا۔ یہیں مروں گا۔ میں چھپ کر نہیں جیوں گا۔ نہ ہی کسی کے کہنے پر یہ ملک چھوڑ کر جاؤں گا“۔

آر ایس ایس کے بلوائیوں اور ضیا ایس ایس کے یوتھائیوں کی عقل میں یہ بات نہیں آ سکتی کہ صاحب عالم آن سکرین ہی نہیں، رئیل لائف ہیرو بھی تھے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔