نقطہ نظر

مائی نیم از خان اینڈ آئی نو ازبکستان

فاروق سلہریا

دیکھیں ازبکستان!

ایز اے سٹوڈنٹ آف ہسٹری، جتنا میں آپ کو جانتا ہوں، اتنا ازبک بھی آپ کو نہیں جانتے۔ یہ سن کر یقینا آپ کی ہنسی نکل رہی ہے۔ میں ابھی آپ کی چیخیں نکلواں گا جب تاریخ کے ساتھ ساتھ میں آپ کو آپ کا جغرافیہ بتاؤں گا اور آپ کو پہلی دفعہ پتہ چلے گا کہ کیوبا آپ کا وہ پڑوسی ملک ہے جس کے خلاف آپ نے ہمارے دوست چین کے ساتھ مل کر دوسری عالمی جنگ لڑی تھی۔

آج کل ہم دشمن کے بچوں کو بھی نہیں پڑھا رہے کیونکہ سٹوڈنٹس سپین بولدک کے علاقے میں پکنک منا رہے ہیں اس لئے کچھ دنوں کے لئے اگر آپ ہمارے ہاں تاریخ کی ٹیوشن رکھنا چاہیں تو ہمارے پاس ’داخلے جاری ہیں‘۔

آپ کے ہاں میں کرکٹ بھی متعارف کرانے جا رہا ہوں اور میں نہ صرف کرکٹ متعارف کراؤں گا بلکہ اسے ایسا ٹھیک کروں گا کہ آپ کو چھٹی کا دودھ یاد آیا۔

دودھ سے یاد آیا۔ میں لائیو سٹاک اور پولٹری فارم کا بھی ماہر ہوں۔ اگر ازبکستان اپنی مقدس گائے سے زیادہ دودھ حاصل کرنا چاہے یا انڈے بیچ کر ترقی کرنا چاہے تو اسے یو ٹرن لے کر سوشلزم کی طرف جانے کی بجائے میرے بتائے ہوئے راستے پر چلنا چاہئے جو پورے ملک کو قبر تک لے جائے گا جہاں سارے کے سارے ازبکستان کو حقیقی سکون نصیب ہو جائے گا۔

میرے ازبکستانیو! بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ میں ہوں نہ!

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔