پاکستان

26ویں ترمیم: اب کیا ساری پارلیمنٹ ’غدار‘ ہو گئی؟

فاروق طارق

ایک حیران کن واقعہ ہوا ہے۔ کل تک جنہیں غدار، ملک دشمن اور غیر ملکی پیسوں پر پلنے والے قرار دیا جا رہا تھا‘ انہی کے بل پر ساری پارلیمنٹ نے متحد ہو کر سابقہ فاٹا کی قومی و صوبائی سیٹوں میں اضافے کے لئے 26 ویں آئینی ترمیم کو منظور کر لیا ہے۔

اس طرح سابقہ فاٹا کے علاقوں کی قومی اسمبلی کی سیٹیں چھ سے بڑھ کے بارہ اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں 16 سے بڑھ کر 24 ہو گئی ہیں۔

اس ایشو پر اب قیاس آرائیوں کا ایک بازار گرم ہے۔ یہ کیسے ہو گیا کہ کل تک تو انہیں کہا جا رہا تھا کہ تمہارا وقت ختم ہے‘ اب ان کے بل پر آئینی ترمیم کر دی گئی ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دو جولائی کو 16 صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر ہونے والے عام انتخابات کو ملتوی کرانے کے لئے کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان انتخابات میں پشتون تحفظ موومنٹ کے حمایت یافتہ امیدوار جیت سکتے ہیں۔

یہ بھی درست ہو سکتا ہے کہ ہر ایک پارٹی کا اِس مسئلے پر اپنا اپنا مفاد ہو۔ کچھ کے ذہن میں ہو کہ اگر دو جولائی کو 16 سیٹوں پر انتخاب ہوئے تو وہ کافی سیٹیں ہار سکتے ہیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ اس طریقے سے انتخاب کو ملتوی کروا دو۔

لیکن اس ترمیم کو منظور کرنے کی کوئی بھی وجہ ہو‘ اس کا حقیقی فائدہ تو پشتون تحفظ موومنٹ کو ہو گا۔ ان کی ساکھ ایک ’غدار‘ سے بدل کے پوری اسمبلی کو اپنے پیچھے لگانے والوں کے طور پر ابھری ہے۔

ان کے خلاف سرکاری کیس خراب ہو گیا ہے۔ ان کے خلاف جو الزامات لگائے جاتے رہے وہ اس آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اِس تحریک سے نمٹنے کے جو بھی راستے اختیار کر رہی ہے‘ وہ اس کی منصوبہ بندی کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہے۔ ایسا بالعموم ہر بڑی تحریک میں ہوتا ہے۔ یعنی وہ سرکاری پالیسی سازوں کو تذبذب میں ڈال دیتی ہیں۔ کبھی ان سے مذاکرات کیے جاتے ہیں اور کبھی ان کے کارکنان اور قیادت تک کو ہر جگہ مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں جیلوں میں بند کیا جاتا ہے۔

تحریکیں ہمیشہ نئی قیادت کو بھی ابھارتی ہیں۔ نئی شکلیں سامنے لاتی ہیں۔ پرانی اور روایتی قیادتوں کی زوال پذیری کو تیز کرتی ہیں۔

پی ٹی ایم کی تحریک کے نتیجہ میں نیشنل عوامی پارٹی اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کا اندورنی بحران بھی تیز ہوا ہے۔ ان جماعتوں کی قیادت کو اس تحریک سے نمٹنے میں انتہائی دشواری کا سامنا ہے۔ سرکار کی طرح یہ دونوں بھی کبھی ایک اور کبھی دوسرا موقف اختیار کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ پی ٹی ایم کو سازش کا نتیجہ بھی قرار دے دیتے ہیں۔

تحریک انصاف کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ وہ حسب روایت بار بار یو ٹرن لے رہی ہے۔ کبھی ان کے خلاف مقدمات درج کرتی ہے اور کبھی ان کے کہنے پہ آئینی ترمیم کرنے کو بھی تیار ہو جاتی ہے۔

کوئی بھی تحریک کسی ایک واقعہ سے شروع تو ہوسکتی ہیں مگر اس کے ابھرنے کی بنیادیں عرصہ دراز سے استوار ہو رہی ہوتی ہیں۔

حکومتوں کی جانب سے ان کے مطالبات کو وقتی طور پر مان کر ان کی ہوا نکالنے کی حکمت عملی بھی اختیار کی جاتی ہے۔ اب بھی شاید آئینی ترمیم اور سابقہ فاٹا کی سیٹوں میں اضافے سے ان کو یقین دلایا جائے کہ حکومت ان کے ساتھ ہے اور اس سے بڑھ کر ان کے ووٹروں کو یقین کرایا جائے کہ مسائل تو ہماری مرضی سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔

دوسری طرف یہ بھی درست معلوم ہوتا ہے کہ اگر 2 جولائی کو صوبائی انتخابات ہو جاتے تو پی ٹی ایم کافی سیٹیں جیت کر مزید طاقت حاصل کر سکتی تھی۔ چنانچہ اِس آئینی ترمیم کے ذریعے ان انتخابات کو فی الوقت ملتوی کرنے کا آئینی راستہ اختیار کیا گیا ہے۔

لیکن لمبے عرصے میں یہ آئینی ترمیم سرکاری پالیسی سازوں کے لئے مزید مشکلات پیدا کرے گی۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بالفرض پی ٹی ایم قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مزید سیٹیں حاصل کر لیتی ہے تو بھی سابقہ فاٹا اور دوسرے علاقوں کے عام پشتونوں کے بیروزگاری، غربت، ناخواندگی، لاعلاجی اور مہنگائی جیسے تلخ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ خاص طور پہ شدید معاشی بحران کے موجودہ حالات میں۔جب آئی ایم ایف روزانہ فلاحی اخراجات میں مزید کٹوتیوں کے سبق پڑھا رہا ہے۔

جمہوری، آئینی اور قومی حقوق کی جدوجہد ضرور کی جانی چاہئے اور ہر ترقی پسند انسان کو اس کی حمایت کرنی چاہئے۔ لیکن کوئی بھی قومی تحریک محض قومی حدود تک محدود ہو کے عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتی۔ سرمایہ دارانہ نظام میں جمہوری حقوق بھی محض جمہوری مطالبات کے ذریعے حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اس صورت میں تحریکوں کے زائل ہونے یا کچلے جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ہمارے نزدیک نہ صرف سابقہ فاٹا بلکہ پورے ملک کے عوام کے مسائل کا حل اِس نظام میں ممکن ہی نہیں ہے۔ جمہوری اور آئینی حقوق کی جدوجہد کو معاشی حقوق کیساتھ منسلک کرنا بہت ضروری ہے۔ اس عمل کو ملک بھر کے محنت کش عوام کی نیو لبرل ایجنڈے کیخلاف تحریک سے جوڑ کر ہی آگے بڑھایا جا سکے گا۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔