طنز و مزاح

124 لفظوں کا قصہ آلِ یوتھ

فاروق سلہریا

نئے وقتوں کی بات ہے کسی گاؤں میں میٹھے پانی کا ایک ہی کنواں تھا۔ کنویں میں اکثر کوئی کتا گر جاتا تھا۔

کتا کنویں میں گرتا تو گاؤں کے لوگ گاؤں کے نمبردار سے چیخ چیخ کر مطالبہ کرتے: کنویں سے کتا نکالا جائے۔

نمبردار (جسے گاؤں کے چوکیدار نے تعینات کیا تھا) ہر دفعہ اعلان کرتا: ’کنویں سے کتا تو کوئی بھی نکال سکتا ہے، میں کنویں سے پانی نکال کے رکھ دوں گا‘۔

نتیجہ یہ نکلا کہ کنویں میں پانی کم اور کتے زیادہ ہوتے گئے۔

آلِ یوتھ نے ان واقعات سے مندرجہ ذیل اخلاقی سبق حاصل کیا:

گاؤں کے لوگ بہت فسادی ہوتے ہیں۔ اگر وہ کتا نکالنے کا مطالبہ نہ کریں تو نمبردار کو پانی نہ نکالنا پڑے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔