تاریخ

جب جنرل صفدر نے ڈاکٹر قدیر سے کہا کہ فلاح انسانیت کے لئے بھی کچھ ایجاد کریں

گوہر بٹ

اکیس سال پہلے ’یوم تکبیر‘ کی پہلی سالگرہ کی تقریب لاہور کے پرل کانٹیننٹل ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان تشریف لائے۔ اس تقریب کی کوریج کے لیے سارا پریس موجود تھا جن میں خاکسار بھی روزنامہ پاکستان کی طرف سے کوریج کے لیے گیا تھا۔ تقریب کو پی ٹی وی نے بھرپور انداز میں کوور کیا جس کے فرائض معروف شاعر پروڈیوسر اور ہدایتکار سلیم طاہر نے انجام دیئے۔

اس تقریب میں وزیراعظم نواز شریف نے آنا تھا لیکن وہ نہیں آئے۔ جس ٹیبل پر میں موجود تھا اس ٹیبل پر سابق لیفٹیننٹ جنرل صفدر بٹ مرحوم بھی موجود تھے جن سے میں واقف نہیں تھا۔ تقریب کے دوران میں اپنے دیگر صحافی دوستوں کے ساتھ بیٹھا مسلسل ایٹمی دھماکے کرنے پر تنقید کر رہا تھا اور جنرل صاحب اطمینان سے سنتے جا رہے تھے۔ اچانک انہوں نے مجھ سے میرا تعارف پوچھا۔ میرے بتانے کے بعد انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ایٹمی دھماکے نہ کرتا تو کیا کرتا جس پر میں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان اگر واقعی سائنسدان ہیں تو انہیں انسانی بہتری کے لیے کوئی چیز ایجاد کرنی چاہئے تھی جس سے لوگوں کو روزگار بھی ملتا اور انسانیت کا فائدہ بھی ہوتا اور ملک کی آمدنی میں اضافہ بھی ہوتا، جہاں تک بھارت کی طرف سے ایٹم بم دھماکے کی دھمکی ہے تو یہ ایک بچگانہ بات ہے کیونکہ ہم دونوں پڑوسی ہیں اگر بھارت ایٹم بم گرائے گا تو خود بھی نہیں بچے گا (میرے جواب کا آخری حصہ یعنی بھارت کی طرف سے ایٹم بم گرانے کی دھمکی کی باتیں پریس کلب میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران کی گئی تھیں جس میں استاد محترم ڈاکٹر مہدی حسن، ڈاکٹر مبشر حسن، حسین نقی اور آئی اے رحمان سمیت دیگر دانشوروں نے شرکت کی تھی)۔

میں ان باتوں سے متاثر تھا اور آج بھی ہوں اس لیے وہی باتیں میں نے پورے اعتماد کے ساتھ وہاں کہہ دیں۔ اس دوران سلیم طاہر ہماری میز پر کیمرہ مین کو لئے ہمارے پاس آئے اور بولے کہ اس وقت ہمارے ساتھ جنرل صفدر بٹ موجود ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ ’یومِ تکبیر‘ پر ان کا کیا خیال ہے۔

جنرل صفدر بٹ نے ڈاکٹر قدیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ ایک نوجوان بیٹھا ہے جس کا کہنا ہے کہ اگر آپ سائنسدان ہیں تو آپ کو ایٹم بم کی بجائے انسانی فلاح کے لیے کچھ ایجاد کرنا چاہئے تھا تاکہ روزگار بھی ملتا اور انسانیت کی خدمت بھی ہوتی، آپ نے ایٹم بم تو بنا لیا اب آپ کو کچھ ایسا بھی کرنا چاہیے جس سے نوجوانوں کو روزگار ملے کیا آپ کا مستقبل میں ایسا کچھ کرنے کا ارادہ ہے؟

جواب میں ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ ایٹم بم ملک کی حفاظت کے لیے ضروری تھا لیکن نوجوان کی بات درست ہے اب میں جلد ہی ایسی ایجاد کروں گا جس سے روزگار بھی ملے گا اور انسانیت کی خدمت بھی ہوگی۔

21 سال گزر گئے میں آج تک منتظر ہوں کہ پاکستان میں کوئی ایسی شے ایجاد ہو جس سے انسانیت کی خدمت کے ساتھ ساتھ روزگار بھی ملے۔ ابھی تک کچھ ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔ خداکرے کہ اس کورونا وبا کا علاج پاکستان میں ہی دریافت ہوجائے جس سے انسانیت کا فائدہ بھی ہو اور پاکستان کو کھربوں ڈالر بھی ملیں۔

Gohar Butt

گوہر بٹ عرصہ تیس سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ وہ پاکستان کے اہم اخبارات اور نیوز چینلز میں صحافتی فرائض ادا کر چکے ہیں۔