نقطہ نظر

پاکستانی ’نسل پرستی‘: چند تجربے اور مثالیں

عدنان فاروق

یورپ اور امریکہ میں ہی نہیں پاکستان میں بھی سفید فام کے مقابلے پر سیاہ فام اور براؤن فام سے امتیاز برتا جاتا ہے۔

شنید ہے کہ سنتھیا رچی کا ویزہ 2 مارچ کو ختم ہو گیا تھا لیکن مجال ہے ان کے ساتھ قانون کے مطابق وہ سلوک کیا گیا ہوجو افغان مہاجرین کے ساتھ کیا جاتا ہے یا تارکین وطن کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

راقم عرصہ پچیس سال سے یورپ میں رہتا ہے اورسہولت کے پیشِ نظر اپنے یورپی پاسپورٹ پر سفر کرتا ہے۔ ایک دفعہ اپنے والد کی بیماری کے باعث اپنے پاکستانی ویزہ کی مدت میں اضافہ چاہ رہا تھا۔

ملتان کے پاسپورٹ آفس سے لے کر اسلام آباد میں وزارت داخلہ تک، خجل خواری کا ایک نا قابلِ بیان سفر شروع ہوا اور پندرہ روز کی کوششوں کے بعد ارادہ ہی ترک کر دیا اور واپس فرانس آ گیا۔

اسی طرح ایک دفعہ پاکستان سے واپس فرانس روانہ ہو رہا تھا تو پتہ چلا کہ میرے پاسپورٹ پرپاکستان میں داخلہ کی مہر بہت مدھم تھی۔ واپسی پر جو ذہنی اذیت مجھے دی گئی، وہ کبھی نہیں بھول سکتا۔

مجھے یاد ہے ایک دفعہ گجرات کے ایک محنت کش نوجوان کوپی آئی اے نے پیرس سے اس لئے بٹھانے سے انکار کر دیا کہ اس کے پاکستانی ویزہ کی معیاد صرف پانچ روز رہ گئی تھی۔

آپ کسی پاکستانی ائر پورٹ پر چلے جائیں اور دیکھیں بین الاقوامی پروازوں سے آنے والے یا جانے والے لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے۔ اگر آپ افغانستان یا پاکستانی کنٹرولڈ کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں تو پاسپورٹ اور ویزے پر ہر طرح کے اعتراض لگائے جائیں گے اور آپ کی جیب سے پیسے نکلوانے کی کوشش کی جائے گی۔

اگر کوئی سفید فام ہو گا تو سب بچھے بچھے جائیں گے۔

اسی طرح اگر مسافر یورپ جا رہا ہو اور اس کے پاس یورپی پاسپورٹ ہو گا تو سلوک کم برا ہو گا۔ اگر آپ پاکستانی پاسپورٹ پر خلیج کے ممالک میں محنت مزدوری کے لئے جا رہے ہیں تو جس ذلت کا سامنا مزدوروں نے عرب آجروں کے ہاتھوں دوران نوکری کرنا ہوتا ہے اس کی ریہرسل پاکستانی ائرپورٹ پر ہی شروع ہو جاتی ہے۔

عدنان فاروق ایک صحافی اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں۔