خبریں/تبصرے

شکریہ سٹاک ہولم!

فاروق سلہریا

اس ماہ سے ’روزنامہ جدوجہد‘ کی اپیل پر سٹاک ہولم میں مقیم تارکین پاکستان کا، چھ افراد پر مبنی، ایک گروپ ماہانہ بنیادوں پر ایک ہزار کراؤن (تقریباً ایک سو ڈالر) کا ڈونیشن دے گا۔

اس ڈونیشن کا مقصد یہ تھا کہ’جدوجہد‘ کے لئے ایک جز وقتی سوشل میڈیا مینجر کا بندوبست کیا جا سکے جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر’جدوجہد‘ کو ایک مقبول اخبار بنا سکے۔ اگست کے آغاز پر ایک سوشل میڈیا مینجر نے یہ ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ ہمیں امید ہے ’جدوجہد‘ کی ٹیم اب پہلے سے بہتر طور پر سوشل میڈیا پر نظر آئے گی۔

سٹاک ہولم میں مقیم ساتھیوں نے یکجہتی کی ایک شاندار مثال قائم کی ہے۔ ’جدوجہد‘ کے لئے یہ ایک ہزار سویڈش کراؤن نہیں، یہ عالمی یکجہتی کے ایک ارب ڈالر کے برابرہیں۔

یاد رہے، اَسی کی دہائی میں سٹاک ہولم ضیا آمریت کے خلاف جمہوری جدوجہد کا ایک اہم مرکز تھا۔ بیشمار ترقی پسند جلا وطن ہو کر سویڈن پہنچے۔ ایک عرصے تک ان درجنوں ترقی پسند جلا وطن سیاسی کارکنوں نے سویڈن میں آباد پاکستانی کمیونٹی میں نہ تو مذہبی جنونی قوتوں کو اثر و رسوخ پیدا کرنے دیا نہ ہی ضیا آمریت کے حامیوں کو۔

پاکستان اور عالمی سطح پر بائیں بازو کے کمزور ہونے کے بعد، تارکین وطن میں بھی مذہبی جنونی یا تحریک انصاف جیسی دائیں بازوکی قوتوں کا اثر بہت بڑھ گیا۔ اندریں حالات، مغرب میں مقیم پاکستانی تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد یا تو مذہبی جنونی قوتوں کے نظریاتی چنگل میں ہے یا تحریک انصاف جیسے دائیں بازو کے پراجیکٹس کی حمایت کرتی ہے۔ اس کی ایک وجہ متبادل کا نہ ہونا بھی ہے۔

امید کی جا سکتی ہے کہ ’جدوجہد‘ کی حمایت میں بننے والا یہ سپورٹ گروپ ایک طرف تو ایک ترقی پسند متبادل بن کر ابھرے گا دوسری جانب یہ گروپ بڑا ہوتا چلا جائے گا۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ جو مثال سٹاک ہولم نے قائم کی ہے اب اسے امریکہ، کینیڈا، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک میں بھی دہرایا جائے گا۔ ’جدوجہد‘ کا ادارتی بورڈ اپنے حامیوں اور ہمدردوں سے رابطے میں ہے اور عنقریب سٹاک ہولم جیسے دیگر عالمی مراکز میں بھی ’جدوجہد سپورٹ گروپ‘ قائم کئے جا سکیں گے۔

ہماری دنیا بھر میں پھیلے ترقی پسند پاکستانی نژاد ساتھیوں سے اپیل ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے شہر یا ملک میں ’جدوجہد سپورٹ گروپ‘ قائم کریں۔ تفصیلات کے لئے ای میل کریں: dailyjeddojehad@gmail.com

یہی نہیں: ہمارے مالی مدد کے علاوہ اور طریقوں سے بھی ہماری مدد کیجئے۔ ہمارے فیس بک پیج کو لائک کریں۔ ہمیں ٹوئٹر پر فالو کریں۔ سوشل میڈیا پر ہماری رپورٹس اور مضامین کو شیئر کریں۔

آخر میں ایک مرتبہ پھر: شکریہ سٹاک ہولم اور وہ جو سویڈش زبان میں کہتے ہیں نا…
Stockholm visar vägen

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔